صفحہ اول / سلائڈر / سانسوں کی ڈوریں کٹاتی جنتِ ارضی پہ کرفیو کے 69 دن

سانسوں کی ڈوریں کٹاتی جنتِ ارضی پہ کرفیو کے 69 دن

کشمیر کے نہتے مظلوموں پر زندگی تنگ ہوئے دو ماہ سے اوپر ہو گئے ہیں

ایک شور تو ہے کہ کشمیری ازیت کی دردناک کیفیت میں ہیں
ہم بھی ہر روز باور تو کروا رہے ہیں کہ کشمیر جل رہا کشمیر کی جنت جہنم میں تبدیل ہو چکی ہے لیکن اقوام عالم بے حسی کی میٹھی نیند سوئی ہوئی ہیں
صرف ایسا کہنے سے کشمیری بھائیو ہم تمہارے ساتھ ہیں
ہم تمہارے ساتھ ہیں
اس سے ان کی تکلیف کم نہیں ہو رہی

ان پہ ہوتے ظلم میں ذرا سی بھی کمی نہیں آئی
اب تو خدا ہی جانے کیا ہو رہا ہے ان کے ساتھ
جہاں آر ایس ایس کے وحشی درندے چھوڑے ہوئے ہیں وہاں بھلا انسانیت کیسے نہیں سسک سسک کر مر رہی ہوگی
جو نہتے کشمیریوں کو نہ جانے کتنی اذیت کے بعد شہید کرتے ہوں گے
ایک زندہ ضمیر کی روح ہی کانپ جاتی ہے یہ سفاکیت سوچ کر
جہاں انہیں اپنے پیاروں کو دفنانے کے لئے قبرستان ہی میسر نہیں ایسے میں نہ جانے ان کے گھروں کا ہر ہر کمرہ صحن مکان قبرستان میں تبدیل ہو چکا ہوگا

لیکن ہر آزاد اسلامی ملک اپنی ہی دھن میں مگن بے حسی کی نیند سو رہا ہے جیسے
نہ جانے محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی کے لشکر کب وہاں پہنچیں گے ان سسکتے بلکتے مظلوموں کے لیے۔
شاید کے ہم پاکستانی سب سے بڑے مجرم ہیں ان مظلوم کشمیریوں کے
کتنی دہائیوں سے ان پہ ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے رہے لیکن ہم اپنی ہی دنیا میں مگن رہے۔
ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں اسی انڈیا کے ڈرامے فلمیں دیکھتی رہیں اور بیٹے انہیں کا کلچر، ثقافت اپنانے میں مگن رہے،
ایسے میں نہ کوئی محمد بن قاسم جنم لے سکا نہ کوئی صلاح الدین ایوبی
نہ ماؤں نے بیٹوں کو بتلایا کہ تمہاری بہنیں تڑپ رہی ہیں
نہ بہنوں نے ہوش دلایا کہ بیٹیاں پکار رہی ہیں ۔
نہ سہاگنوں نے سہاگ جہاد کے لئے تیار کیے،
نہ کسی حاکم کو غیرت آئی ،
نہ ہی ہمارے میڈیا کو توفیق ہوئی کشمیریوں پہ ہوتے دردناک مظالم دنیا کو دکھانے کی۔
عین اس وقت جب ہمارے بے لگام میڈیا پہ فحش و عریانی میں لتھڑے پروگرامز، فیشن شو چلتے رہے تو وہاں ہندو ہماری ہی بہنوں سے آنچل چھینتا رہا۔
یہاں ساس بہو کی لڑائی پہ ڈرامے چلتے رہے وہاں ہندو گھروں کے گھر اجاڑتا رہا۔
یہاں نائٹ کلبوں میں ڈانس ہوتے رہے وہاں ہندو ہمارے ہی بہن بھائیوں کے خون سے ہولی کھیلتا رہا ۔
یہاں ہمارے نصابوں سے سورۃ توبہ اور جہاد کی آیات نکال دی گئیں وہاں ہندو اپنے بچوں سے لیکر عورتوں تک کو ہتھیار تھما کر آر ایس ایس می شامل کر کے غنڈہ گردی کی تربیت دیتا رہا ۔
اور وہی آر ایس ایس کے غنڈے گاجر مولی کی طرح کشمیریوں کو کاٹنے لگے۔
دیکھتے دیکھتے یہ دن آ گیا کہ ہندو پلید بھوکے کتوں کی طرح ان نہتے مظلوم کشمیریوں پہ ٹوٹ پڑے۔
کہ اب توسانس لینا ہی ان پہ دشوار ہو چکا ہے گھروں سے باہر نکلنا تو دور کی بات۔
میری باتیں تھوڑی سخت ہیں میں معذرت خواہ ہوں مگر کیا کروں جب حقائق دیکھتی ہوں
جب کشمیریوں کا رات دن بہتا خون اور لٹتی عزتیں دیکھتی ہوں تو پھر خود پہ کنٹرول نہیں رہتا دل خون کے آنسو روتا ہے ۔

ہماری تقریریں بھی ٹھیک ہیں لیکن کیا خالی تقریریں انہیں آزادی دلائیں گی؟
کیا صرف تحریریں
اور جلسے جلوس انھیں آزادی دلائیں گے؟

مجھے تو صاف نظر آتا ہے
نہ تقریر سے ہوگا نہ تحریر سے ہوگا
کشمیر کا فیصلہ صرف شمشیر سے ہوگا

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم):ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!! بقلم: جویریہ بتول

محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم):ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!! بقلم:(جویریہ بتول۔ انسانیت کے اصول سے انسان ہی …

پانی میں دودھ

بندہ تو شکل وصورت سے بڑا بھولا بھالا اور نیک لگتا تھا،ماتھے پر محراب بھی …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: سانسوں کی ڈوریں کٹاتی جنتِ ارضی پہ کرفیو کے 69 دن! This is the link: https://pakbloggersforum.org/69-days-of-curfew-in-kashmir/