یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے

تحریر : عروبہ عدنان

ہمارا ملک ” اسلامی جمہوریہ پاکستان ” ایک ایسا ملک جس کی بنیاد قرآن وسنت پہ رکھی گئ ،جس کی تعمیر توحید پہ اور ان شاءاللہ تکمیل محمدالرسول خاتم النبینؐ کی تعلیمات  پہ ہی ہو گی ۔ ہم الحمدللہ ایک ایسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں جس کی تاریخ بڑے بڑے مسلمان سپہ سالاروں ،جنگجو غازیوں اور جانثار شہداء سے بھری پڑی ہے ۔
پاکستان کی عوام ایسی محبِ وطن قوم ہے جس نے کلمہ ء توحید کے نام پر اب تلک بے شمار جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں ۔کفار نے ہر طرح سے حملہ آور ہونے کی کوشش کی جس میں نظریاتی ،عملی واخلاقی طریقے شامل ہیں اور ہمیں شکست دینے کی ناپاک کوششیں کیں مگر ہم نے الحمدللہ ہمیشہ انہیں شکست دی ۔ پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان دونوں ان کفار کے سامنے سینہ سپر رہے اور ان اسلام دشمن کفار کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے ۔
الحمدللہ ہمارا ملک پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے جو عالم کفر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح ہمشہ سے چبھ رہا ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں ان مسلم دشمن ملکوں کو عملی اور نظریاتی دونوں محاذوں پر بری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے اور ان کا وہ خواب جو انہوں نے اکھنڈ بھارت ،گریٹر اسرائیل اور عالم اسلام پہ قبضہ کی صورت میں دیکھا تھا شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا اور ان شاء اللہ نہ ہی ہو سکے گا ۔ یہ اسلام دشمن ممالک اپنے ناپاک ارادوں میں اسی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکے کہ پاکستان کی فوج اور عوام دونوں ہمیشہ متحد رہے ۔ پاکستانی بری ،بحری اور فضائی افواج نے پاکستان کی حدود کا بیرونی سازشوں اور شورشوں کی انتہائی کوشش کے باوجود ہمیشہ بھرپور دفاع کیا اور پاکستان کی عوام نے ہمیشہ ان کالی بھیڑوں کو اپنے اندر سے نکال باہر کیا جو ان کو مذہبی ،لسانی اور علاقائی تفرقات کے ذریعے تباہ کرنا چاہتی تھیں ۔ اب تک کفار کا ایک بھی تیر درست نہ چلا جو ہمیں کمزور کرتا ۔ اس کی وجہ وہ عقیدہ توحید ہے جس نے ہمیں سدا متحد رکھا ۔ ہماری قوم نے اسلام کے خاطر بے شمار جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں اور دے رہی ہے۔ دہشتگردوں نے ملک کے ہر حصے پہ حملے کیے، ہماری قوم کے بزرگوں نے جوان لاشے اپنے کاندھوں پہ اٹھائے، ماؤں کی گودیں اجڑیں اور بے شمار عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوئے ۔ ہمارے مستقبل کے معماروں کو شہید کیا گیا ۔یوں کوشش کی گئی کہ ہماری ذہنی حالت تباہ و برباد کر دی جائے مگر ۔ ۔۔کفار ایسا نہ کر سکے کیونکہ یہ وطن اسلام کے نام پہ قائم ہوا اور اس پہ نگاہ غلط ڈالنے والا کوئی بھی ملک اللہ کے غضب سے بچ ہی نہیں سکتا ۔ جس ملک کی عوام اور فوج اللہ پر یقین رکھتی ہے قرآن وسنت پہ عمل کرتی ہے اسے کوئی طاقت چاہے وہ عسائیت ہو ،یہودیت ہو ،مشرکین ہوں یا ملحدین توڑ یا ختم کر ہی نہیں سکتے ۔
الحمدللہ ہمارے ساتھ اللہ کی رضا ،اولیاء کرام ،صوفیائے عظام اور مردان قلندر کی دعائیں ہیں اور ایسی پاکستانی فوج ہے جو ناصرف عالم اسلام کی بلکہ دنیا کی بہترین فوج ہے ۔بقول مردِ مومن علامہ اقبال

یہ غازی یہ تیرے پرسرار بندے
جنھیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

پاکستان واحد اسلامی مملکت ہے جس کے متعلق بہت سے احادیث میں شرف کا ذکر آیا ہے ۔
حضور پاک ؐ کی کئی احادیث میں واضح اشارے ملے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں اسلام کا بول بالا کرنے میں ان شاءاللہ پاکستان ہی کامیاب ہو گا ۔
ایک حدیث میں سعودی عرب سے مشرق کی طرف کسی ریاست کا ذکر ہے جو اسلام کی نشاطِ  ثانیہ میں اہم کردار ادا کرے گی ۔
ایک اور غزوہ ہند کی مشہور حدیث موجود ہے جس کے مطابق حضور پاکؐ نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ جب میرا دین پوری دنیا میں کمزور ہو گا تو وہاں سے لشکر اٹھے گا۔
ایک اور جگہ حضورﷺ نے فرمایا کہ مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آ رہی ہیں۔
اسی حدیث کے تناظر پہ مردِ قلندر علامہ اقبال نے فرمایا کہ

میرِ عربؐ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

تاریخ گواہ ہے کہ مدینہ منورہ کے بعد پاکستان واحد اسلامی ریاست ہے جو اسلام کے نام پہ قائم ہوئی ۔ اسی طرح پاکستان کا اور مدینہ کا مطلب بھی بالکل ایک ہے
پاکستان کا مطلب پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ اور بالکل یہی مطلب مدینہ طیبہ کا بھی ہے یعنی پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ۔
اس کے علاوہ بھی بہت سی قدریں مشترک ہیں ۔ جس میں سے ایک اہم قدر یہ بھی مشترک ہے کہ مدینہ کے مسلمانوں نے اسلام دشمن عناصر سے کئی جنگیں لڑیں بالکل اسی طرح پاکستان کا واسطہ بھی ایسے ہی اسلام دشمن عناصر سے ہمیشہ رہا ۔ اسی طرح مدینہ کے مسلم باسیوں نے آخری جنگ کفار سے لڑی وہ” فتح مکہ” پہ ختم ہوئی اور یہی جنگ فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ بالکل اسی طرح پاکستان بھی اب تک تین بڑی جنگیں مسلم دشمن ملک بھارت سے لڑ چکا ہے اب ان شاءاللہ آخری جنگ فیصلہ کن ثابت ہو گی ، جس میں کشمیر کو اس کا حق ملے گا ۔
پاکستان کے متعلق تو بہت سے اولیاء اکرام نے 850 سال پہلے ہی پیشین گوئیاں کر دیں تھیں جس میں سے خاص طور پر ایک مشہور بزرگ ہستی نعمت اللہ شاہ کا قول قابلِ ذکر ہے کہ "ہند میں ایک ایسی اسلامی ریاست قائم ہو گی جس کا سپہ سالار ایک جنگجو اور نڈر مسلمان ہو گا اور اس کی قیادت میں مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان کئی بڑی جنگیں ہوں گی جس میں آخر کار مسلمانوں کو تمام دنیا پہ فتح حاصل ہو گی اور اسلام کا بول بالا ہو گا "۔ اگر اس علاقے کے نقشے کا بغور جائزہ لیا جائےتو ہمیں علم ہوتا ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے نیز اہمیت و محلِ وقوع کے اعتبار سے پاکستان واحد ایسی اسلامی ریاست ہے جو ایسی ہی اسلامی ریاست کی خصوصیات پہ پوری اترتی ہے ۔ یہ ساری پیشین گوئیاں ثابت کرتی ہیں کہ غزوہ ہند لڑنے والی عظیم فوج جس کا ذکر حضور پاک ؐ نے فرمایا تھا وہ پاک فوج یعنی افواجِ پاکستان ہی ہیں ۔

اب ہم پاک فوج کی کارکردگی کا مختصراً  جائزہ لیتے ہیں کہ قیام پاکستان سے اب تلک پاک فوج نے کتنی ترقی اور کامیابیاں سمیٹی ہیں ۔۔
3 جون 1947 کو برطانوی ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں اسلامی ریاست "پاکستان ” معرضِ وجود میں آئی ۔ اس وقت پاک فوج کے پاس موجود کل اثاثہ  6 بکتر بند گاڑیاں 8 توپ خانے اور 8 پیادہ رجمنٹیں تھیں اس کے مقابلے میں بھارت کو چار گناہ زیادہ اثاثے ملے بھارت کو 12 بکتر بند گاڑیاں ،40 توپ خانے اور 21 پیادہ رجمنٹیں ملیں ۔ بھارت ہر لحاظ سے مضبوط تر تھا اور پاکستان ہر لحاظ سے کمزور تر فقط ایک جزبہ توحید ہی تھا جس کی پاکستان کےپاس فراوانی تھی اور اسی جزبے کے بل بولتے پہ ہی پاکستان کے وجود میں آنے کے چند ماہ کے بعد ہی پاک فوج نے اپنی پہلی جنگ لڑی جس کی وجہ سے آزاد کشمیر بنا، مہاراجہ کشمیر نے اپنی عوام کی رائے جانے بغیر جو یقینا الحاقِ پاکستان کے علاوہ کچھ نہیں تھی انڈیا سے الحاق کرنے کا اعلان کر دیا اور انڈیا نے اپنی فوجیں کشمیر پہ اتار دیں ۔ کشمیری قوم اس ناانصافی پہ تڑپ اٹھی اور بغاوت کر دی۔ پاک فوج اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے پہنچ گئی مختصر مال واسباب کے باوجود جنگ لڑی گئی یہاں تک کہ بھارت گھبرا گیا اور اقوام متحدہ سے مدد طلب کرنے لگا اور یوں اقوامِ متحدہ کی مداخلت کے بعد یہ جنگ ختم ہوئی ۔۔ اس کے بعد کچھ عرصہ امن رہا لیکن یہ امن عارضی ثابت ہوا اور 60 کی دہائی میں پاک بھارت حالات پھر کشیدہ رہنے لگے جو آخرکار 6 ستمبر 1965 کو جنگ کا باعث بنے ۔ 6 ستمبر کی رات انڈیا نے بغیر کسی اعلان کے رات کے اندھیرے میں بی آر بی کینال کے علاقے سے حملہ کر دیا جسے نا صرف پاکستان نے پسپا کیا بلکہ 1200 کلومیٹر کا بھارتی علاقہ بھی فتح کر لیا ۔ الزلی بزدلی کے باعث بھارت نے پھر اقوام متحدہ سے رابطہ کر کے اس جنگ سے بھی معاہدہ تاشقند کے ذریعے جان چھڑائی اور پاکستان کو مفتوحہ علاقے واپس کرنا پڑے ۔

1965 کی جنگ ایک یادگار جنگ ثابت ہوئی جس میں پاکستان کے شہریوں نے پاک فوج کا مکمل ساتھ دیا۔ ہر پاکستانی وطن کی محبت سے سرشار تھا اور اپنا تن من دھن قربان کرنے کو ہر دم تیار تھا ۔
اس جنگ کے بعد 1971 کی جنگ ہوئی ۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اندرونی خلفشار کا بری طرح شکار تھا، بنگال میں بہت سی ملک دشمن تحریکیں پروان چڑھ رہی تھیں جن کی پشت پناہی بیرونی طاقتیں کر رہی تھیں ،انڈیا کو ایسے ہی کمزور وقت کا انتظار تھا اور اس نے جارحیت شروع کر دی ۔ اب پاک فوج کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پہ لڑنا پڑا اور آخر کار 16 دسمبر 1971 کو لیفٹینٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کی قیادت میں ہتھیار ڈالنے پڑے فقط سیاسی قیادت کی بزدلی کے باعث پاکستان کے دو حصے ہو گئے اور ایک حصہ بنگلہ دیش کہلانے لگا ۔

ان تین بڑی جنگوں کے بعد پاک فوج نے کارگل کی جنگ لڑی۔ 1999 میں پاک بھارت یہ جنگ کنٹرول لائن پہ لڑی گئ ۔ اس میں بھی پاکستان نے بہت سی کامیابیاں پاک فوج کی بدولت سمیٹیں ۔ بھارت کو اپنے تین لڑاکا جنگی جہاز اور تقریبا 700سے زائد پیادہ فوجیوں سے ہاتھ دھونے پڑے ۔اس کے علاوہ کئی علاقے جو بھارت کے پاس تھے وہ بھی پاکستانی فوج نے فتح کر لیے مگر افسوس سیاسی قیادت کی مداخلت کے بعد یہ مفتوحہ علاقے واپس انڈیا کو دینے پڑے ۔
پاک فوج ان جنگوں کے علاوہ بحیثیت امن فوج اقوامِ متحدہ کے تحت مختلف ممالک میں اپنی خدمات سرانجام دیتی رہی ہے ۔ جس کو پوری دنیا انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔
چونکہ پاکستان ایک مضبوط اسلامی فلاحی ریاست ہونے کے ناطے ہمیشہ دشمنانِ اسلام کی نظروں میں کھٹکتا رہا ہے اس لیے یہ خارجی ملک دشمن عناصر ہمیشہ اس کو نقصان پہنچانے کے در پہ رہتے ہیں اور پاکستان کو توڑنے اور تباہ کرنے کی ہر ممکن ناکام کوششوں میں لگے رہتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک کوشش گزشتہ پندرہ سال سے دہشت گردی کی صورت میں پاکستان پہ ان ملک دشمن عناصر نے مسلط کی ہوئی تھی۔ شمال مغربی پاکستان میں کچھ کمزور عقائد اور کم ظرف ،کالعدم تنظیمیں تحریک پاکستان طالبان کے نام سے دہشت گردی میں مصروفِ عمل ہو گئیں ان کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی حاصل رہی جو ان کو پیسے اور جدید اسلحہ و ہتھیار پہنچاتے رہے ۔ پاک فوج ان ملک دشمن عناصر سے بھی نبرد آزما ہوئی اور اس سلسلے میں بڑے بڑے ملٹری آپریشن کیے  جن میں ضربِ عضب ،آپریشن راہِ راست اور آپریشن بلیک تھنڈر شامل ہیں ۔
پاک فوج اپنے محدود وسائل کے باوجود اندرونِ  ملک اور بیرونِ ملک دشمنانِ اسلام سے لڑ رہی ہے ۔ اس وقت پاک فوج دنیا کی سب سے کم خرچ فوج ہے ۔ امریکہ اپنی فوج پہ فی کس 409,596 ڈالر خرچ کرتاہے ۔ چین ۔۔ 92,456 ڈالر ۔۔۔ انڈیا ۔۔۔ 42,188 ڈالر اور اسرائیل 100,849 ڈالر کرتا ہے اور ہمارا ملک اپنی فوج پہ فقط 13,513 ڈالر خرچ کرتا ہے جو اب تک کی سب سے کم ترین رقم ہے ۔
اس کے باوجود ہماری فوجی دنیا کی بہترین فوج اور مضبوط ترین فوج ہے ۔ جس پہ ہمیں بجا طور پر فخر ہے۔

پاکستان محض زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ یہ ایک اللہ کی مقدس امانت ہے جو ہمیں سونپی گئی ہے جس کی حفاظت کا ذمہ ہر پاکستانی شہری کا ہے نا کہ صرف پاک فوج کا ۔ جو شخص اس امانت میں خیانت کرے گا وہ اللہ کی پکڑ سے بچ ہی نہیں سکتا ۔ پاکستان تا قیامت قائم رہے گا کیونکہ اسکا حامی و ناصر خود اللہ ہے اور یہ سب سے پاک رات 27 رمضان المبارک کو معرضِ وجود میں آیا ۔ یہ وہ سلطنت ہے جس کے متعلق بانی پاکستان نے مرتے وقت کہا تھا کہ "میرا ایمان ہے کہ پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم مل کر اپنے ملک و قوم کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ ہمارا ملک بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکے ۔
بقول شاعر
یہ زمیں مقدس ہے ،ماں کے پیار کی صورت
اس وطن میں تم سب ہو، برگ و بار کی صورت
دیکھنا گنوانا مت،دولتِ یقین لوگوں
یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگوں

پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

ہائےآمریت تجھے کیا رونا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قسم سے ، مجھےتو اب جمہوریت سے بھی ڈر لگتا ہے

ہاں ہاں ابھی بچگانہ ذہن تھا ۔گھر والوں کا پیٹ پالنے کےلیے محنت مزدوری کا …

عالمی امن پر منڈلاتے خطرات

آپ بھی جان لیں کہ اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت رکھنے والے ممالک کے مابین 145 …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: ! This is the link: https://pakbloggersforum.org/875/