صفحہ اول / تہذیب و ثقافت / صحرا میں شجرِ سایہ دار ۔۔۔ حفیظ اللہ سعید

صحرا میں شجرِ سایہ دار ۔۔۔ حفیظ اللہ سعید

( برکت علی بگٹی بھائی سے ملاقات کی روداد )

کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ آپ کی زندگی بیت جاتی ہے لیکن آپ کی ان کے ساتھ وہ ذہنی ہم آہنگی نہیں بن پاتی جو اس تعلق و رشتے کو وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے قریب تر کر دیتی ہے ۔ لیکن اس کے برعکس کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے آپ بالمشافہ ملے نہیں ہوتے۔ غائبانہ یا ابلاغی ذرائع کے ذریعے آپ ان سے متعارف ہوتے ہیں۔اور وہ آپ کے قریب تر ہوتے ہیں بہ نسبت ساتھ رہنے والوں کے۔ یہ تعلق و محبت اس خلوص و ایثار کی وجہ سے ہوتا ہے جو وہ شخص آپ کے ساتھ روا رکھے ہوۓ ہوتا ہے۔ اگر اس فرد کی یہ محبت و ایثار آپ کی محبوب تر چیز سے ہو تو آپ کو وہ شخص اور بھی پیارا اور عزیز تر ہوتا ہے ۔

کل سہ پہر سے لیکر آج صبح تک ایسے بھائی کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا جو ہم جیسوں کی جند جان ملک خداداد پاکستان سے والہانہ محبت کرنے والا ہے۔ اس بھائی کا نام برکت علی بگٹی ہے ان کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ بھائی پچھلے چند روز سے پنجاب کےمطالعاتی و دوستانہ دورے پہ نکلے ہوۓ ہیں۔ یہ بھی بھائی کی ہمت اور جرأت ہے کہ آج کی مصروف اور تیز رفتار زندگی سے وقت نکال کر ہمیں شرف میزبانی بخش رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھائی کی آمد اور ملاقاتوں کے چرچے سن کر ہم نے بھی انہیں فیصل آباد آنے کی دعوت دی جو برکت بھائی نے قبول کر لی۔
برکت بھائی کے ساتھ ساتھ کالم نگار، بلاگر و ہمارے استاد محمد عتیق الرحمن بھائی کی آمد نے اس ملاقات کو چار چاند لگا دیے۔
برکت بھائی کی سوچ اور گفتگو پاکستانیت اور پاکستانی پرچم کے رنگوں میں رنگی ہوئی تھی۔ان کا ایک ایک لفظ و جملہ بلوچستان کے مسائل کو تو اجاگر کر رہا تھا لیکن پاکستان کی محبت میں گندھا ہوا تھا۔
سر شام برکت بھائی ،عتیق الرحمن اور چھوٹے بھائی اسداللہ کے ساتھ فیصل آباد کی مٹر گشت کے لئے نکلے۔ بعد از طعام رات گئے تک فیصل آباد کے مشہور ٹی سٹال ندیم کیفے پر شبیر بھائی، عزیر بھائی، ابوضرار بھائی و دیگر ہمنواؤں کے ساتھ ایک طویل علمی و دوستانہ نشست ہوئی۔ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ برکت بھائی کے ساتھ سب کی پہلی بالمشافہ ملاقات ہے۔ جہاں علمی موضوعات پر بحث مباحثہ ہوا وہی پر فیصل آبادی لب و لہجہ میں مذاق کی روایت بھی جاری رکھی۔
اب کچھ بات کرتا ہوں برکت بھائی کے کام اور پاکستان سے محبت کے حوالے سے۔ کچھ پودے ایسے ہوتے ہیں جن کو زرخیز مٹی مناسب و بہترین آب و ہوا و نگہداشت کی سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ ایسے پودے تیزی کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں اور فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔جبکہ کچھ پودے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو صحرا کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کو کسی قسم کی بیرونی نگہداشت اور سہولیات کا ساتھ میسر نہیں ہوتا۔ قدرت ان کی افزائش اور نگہداشت خود کرتی ہے۔ اس طرح کے پودے خاص الخاص اور ہر دلعزیز ہوتے ہیں کیونکہ یہ صحرا کے بیچوں بیچ تن تنہا اور بھرپور نفع بخش و سایہ دار درخت ہوتے ہیں۔ اس کی زندہ و روشن مثال ہیں ہمارے بہت ہی پیارے و ملک پاکستان سے والہانہ عشق کرنے والے برکت علی بگٹی بھائی۔
جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ بھائی کا تعلق بلوچستان سے ہے۔وہ بلوچستان جہاں قیام پاکستان سے لیکر اب تک تعلیمی، طبی، سیاسی ،سماجی اور معاشی احساس محرومی پایا جاتا ہے۔ یہ احساس محرومی سیاستدانوں کی غلط و لا پرواہی پہ مشتمل پالیسیوں کے مرہون منت ہے۔ ان محرومیوں بھرے تپتے صحرا میں برکت علی بگٹی بھائی ایک شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتے ہیں جو اپنے علاقے میں پاکستانیت اور ملکی دفاعی اداروں کی بھرپور ترجمانی کر رہے ہیں۔ یہی وہ عمل ہے جس کی وجہ سے پنجاب بھر کے دوست احباب برکت بھائی کو اپنی محبتوں میں تول رہے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی برکت بھائی کو زیادہ سے زیادہ ملک پاکستان و ملت کے لیے کام کرنے کی توفیق دے۔اور ہماری باہمی محبتیں قائم و دائم رکھے۔ آمین

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

ففتھ جنریشن وار اور ہماری زمہ داری ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

پاکستان میں آج کل ‘ففتھ جنریشن وار فئیر’ کی اصطلاح کا استعمال کافی عام ہو …

انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ایک جائزہ ۔۔۔ حافظ امیر حمزہ

دنیا میں جس چیز کو بھی اللہ تعالیٰ نے وجود بخشا ہے، وہ سب چیزیں …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: صحرا میں شجرِ سایہ دار ۔۔۔ حفیظ اللہ سعید! This is the link: https://pakbloggersforum.org/a-palm-tree-in-the-oasis/