صفحہ اول / اسلامک بلاگز / منزل ڈھونڈ لے گی ہمیں (آپ بیتی) ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

منزل ڈھونڈ لے گی ہمیں (آپ بیتی) ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

عائشہ ایک بہت ہی بااخلاق اور بہت سی خصوصیات کی حامل چھوٹی سی بچی تھی۔ ان کا گھرانہ کافی بڑا تھا اور تمام کزنز ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔

گھرانہ تو اسلامی تھا لیکن پردے کی طرف دھیان نہیں تھا پردے کو عام سی چیز سمجھا جاتا اور یہ تصور ذہن میں ڈالا جاتا کہ ان کزنوں سے کیسا پردہ…؟؟؟
عائشہ بھی انہی سوچوں کے ساتھ پروان چڑھ رہی تھی ننھی سی عمر میں آسمان کو چھو لینے اور تتلیوں کو پکڑنے کی امنگوں سے اپنے شب و روز گزارتے ہوئے آہستہ آہستہ بچپن کی دہلیز کو پار کر رہی تھی۔
عائشہ جب کالج جانا شروع ہوئی تب جانے کیوں وہ بے چین رہنے لگی ۔اسے لگتا تھا کچھ کمی سی ہے اس کی زندگی میں ۔
اسے عجیب سا احساس گھیرے رکھتا تھا جیسے زندگی میں کچھ غلط ہو ۔بہت سے سوالات تھے جو اس کے ذہن میں آتے رہتے تھے لیکن وہ ان کا جواب نہیں جانتی تھی سو وہ مزید بے چین ہو جاتی ۔
پھر اس نے اس بے چینی کو ختم کرنے کے لیے
اسلامی تعلیمات کی مختلف کتابوں کا مطالعہ شروع کردیا ۔
وہ جیسے جیسے دین کو پڑھتی چلی گئی جیسے اسے اپنے ہر سوال کا جواب ملتا چلا گیا اس کی بےچینی کی وجہ سمجھ میں آتی چلی گئی وہ اس کمی کو سمجھنے لگی جو اسے مسلسل محسوس ہوتی تھی اور اسے بے چین رکھتی تھی ۔
دین اسلام تو جیسے ٹھنڈی چھاؤں تھا اس کے احکامات تو جیسے اسی کو اپنی پناہ میں لینا چاہتے تھے ۔
سو وہ احکامات کو اپنی زندگی میں لاگو کرنے کی کوشش کرتی۔
گھریلو ماحول دیکھ کر اسکے جذبات کچھ ماند پڑ نے لگتے لیکن وہ ہر وقت دین کی تعلیمات کی جستجو میں رہتی ۔
گھر میں سبھی کزنز کا آنا جانا تھا اور کوئی روک ٹوک نہیں تھی اتنی عمر ہو جانے کے باوجود کزنز کے ساتھ ہنسی مزاح اور کھیل کود چلتا رہتا لیکن عائشہ اب ان سب خرافات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کہ وہ یہ سب کچھ چھوڑ دے لیکن اس کے لیے یہ سب ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔ عائشہ کی کالج کی ایک سہیلی نے شرعی پردہ کرنا شروع کردیا۔ عائشہ اس سے بہت متاثر ہوئی اور دل میں پختہ ارادہ کرلیا کہ اب وہ بھی پردہ شروع کرے گی۔ جب عائشہ نے پردہ شروع کیا تو الٹا اس کے کردار پر بہت سے سوال اٹھے اور بہت سی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سبھی کہتے کہ پردہ اپنے انھیں کزنز سے کر رہی ہو جن کے ساتھ کھیل کود کر بڑی ہوئی ہو انہوں نے تو دیکھا ہوا ہے ان سے پردہ کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا لیکن عائشہ اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنے پردے پر ڈٹی رہی اور ہر طرح کی تلخیاں اور نفرتیں برداشت کرتی رہی۔
شروع شروع میں سب کو لگتا تھا کہ عائشہ نے غلط قدم اٹھایا ہے لیکن جلد ہی عائشہ کی ثابت قدمی اور دلائل نے سب کو احساس دلادیا کہ جس معاشرے میں پردہ نہیں کیا جاتا وہ معاشرہ کیسے گناہوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ ایسے ایسے گناہوں کا مرتکب ہوجاتا ہے کہ جن کا ازالہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔
عائشہ کو دیکھ کر اور پردے کی رحمتیں دیکھتے ہوۓ عائشہ کی بہنوں اور کزنوں نے بھی پردہ شروع کردیا جو کہ ان کے والدین کی عائشہ کو دیکھ کر خواہش بن چکا تھا کہ ان کی بیٹیاں بھی پردہ کریں۔
اور آج الحمدللہ عائشہ کو پردہ شروع کیے بہت سے سال گزر چکے ہیں اور پردے کی وجہ سے اس کی زندگی بہت مطمئن اور پر سکون ہے۔ اسے سسرال میں بھی کبھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا سب لوگ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور خواہش مند ہوتے ہیں کہ انکی اولاد بھی عائشہ کی طرح باعمل بن جاۓ۔

جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے

یہ ایک عائشہ کی آب بیتی ہے اور ایسی بہت سی لڑکیاں معاشرے میں نظر آتی ہیں جو عائشہ جیسا بنتی ہیں لیکن اس کے برعکس جو اسلامی تعلیمات سے دور رہتی ہیں اور پردے اور گھر کی چار دیواری کو قید خانہ اور داغ سمجھتی ہیں بہت سے مرد ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں ۔
آج کل ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ کزنز کے ایک دوسرے کے ساتھ غلط اور برے مراسم یہاں تک کہ چچی کی اپنے شوہر کے بھتیجوں کے ساتھ اور ممانی کی بھی اپنے شوہر کے بھانجوں کے ساتھ دوستیاں اور غلط مرسم۔ اور جب یہ معاملات ان کے شوہروں پر عیاں ہوتے ہیں تو بہت سی لڑائیاں اور جھگڑے جنم لیتے ہیں خاندان تباہ ہوجاتے ہیں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے یتیم ہوجاتے ہیں اس طرح ایک ہنستے بستے گھرانے میں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔

اسی بے پردگی کی وجہ سے بعض اوقات غلط فہمی کی بنا پر بہت سی عورتوں کو طلاق دلوا دی جاتی ہے اور اس کو ذلیل و رسوا کر کے گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔
جب عورتیں دین سے دوری اختیار کر کے شیطان کے پسندیدہ راستے پر چلیں گی تو دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہی انکا مقدر بنے گی اور آخرت میں بھی رب کی نافرمان اور خسارہ پانے والوں میں شامل ہوں گی۔
رب کی تمام تر رحمتوں سے دور ہوجاۓ گی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
اسلام عورتوں کو شیطان صفت لوگوں سے بچنے کے لئے ہی پردے کا حکم دیتا ہے۔
آج اگر عورتیں اسلامی تعلیمات کو اپنے اوپر لاگو کرتی ہیں اور پردے کا اہتمام کرتی ہیں تو ان کی آنے والی نسلیں بھی برائیوں سے بچ جائیں گی اور معاشرہ اسلام اور امن و امان کا گہوارہ بن جاۓ گا۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سب کو دین کی صحیح معنوں میں سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

امن لایا تو صرف اسلام ۔۔۔  تحریر: عشاء نعیم

کفار نے اسلام کے خلاف ایک بات بہت پھیلائی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے …

عورت، معاشرے کی اہم اکائی ۔۔۔ اشفاق طاہر

آج کل ’حقوقِ نسواں‘ کے تحفظ کے دعویدار گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتے ہوئے یہ دعوت …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: منزل ڈھونڈ لے گی ہمیں (آپ بیتی) ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی! This is the link: https://pakbloggersforum.org/a-quest-to-find-a-goal/