صفحہ اول / حفیظ اللہ سعید / چڑیا چھپکلی اور کشمیر ملین مارچ

چڑیا چھپکلی اور کشمیر ملین مارچ

مسئلہ کشمیر پچھلی پون صدی سے وہ سلگتا آتش فشاں ہے جو دنیا کے امن کو بھسم کرنے کے لیے ہر دم تیار ہے.مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے قدیمی انسانی المیوں میں سے ایک اہم اور سب سے بڑا المیہ ہے۔مسئلہ کشمیر پہ اقوام متحدہ اور نام نہاد حقوق انسانیت کی تنظمیں ریت میں منہ دباۓ سب اچھا کی گردان کئیے چلے جا رہی ہیں۔2019 ء جہاں مسئلہ کشمیر کو دنیا کے ٹاپ ایشوز میں لے آیا حکومت پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کی پالیسیوں اور کاوشوں سے۔وہیں یہ سال اہلیان کشمیر پہ مودی کی ہندتوا گردی اور ظلم و ستم کا استعارہ بن گیا۔مودی نے کشمیر کی خاص حثیت کو ختم کرتے ہوۓ کشمیر کو ہندوستان میں ضم کرنے کا اعلان کر دیا اور کم و پیش پچھلے اڑھائی ماہ سے کرفیو اور بلیک آوٹ کے نشانے پہ رکھ لیا کشمیر اور اہلیان کشمیر کو۔

تاریخ کا بدترین ظلم و ستم و جبر مسلسل مسلط ہے کشمیر کی فضاؤوں میں لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ آج مملکت خداداد پاکستان کی حکومت اور ادارے مسئلہ کشمیر پہ یک زبان و ہم قدم ہیں۔وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کے فورم سے کشمیر کے لیے وہ آواز بلند کی ہے جس کا انتظار تھا محب وطن افراد و تنظیموں کو ایک طویل عرصے سے۔اسی آواز کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ملک و بیرون ملک مختلف مکتب فکر کے جلسے جلوس ہو رہے ہیں مسئلہ کشمیر پہ۔وزیر اعظم عمران خان نے آج کے دن 20 اکتوبر کو اسلام آباد میں مودی کی ہندتواگردی کے شکار مظلوم کشمیریوں کی آواز بننے کے لیے کشمیر ملین مارچ کا اعلان کر رکھا تھا۔موصولہ خبروں کے مطابق کشمیر ملین مارچ میں شامل ہونے کے لیے ہر شعبہ ہاۓ زندگی اور مکتبہ فکر کے لوگ جوگ در جوگ اسلام پہنچ رہے ہیں۔ شرگاء کے جذبات درد کشمیر میں گوندھے ہوۓ ہیں اور وہ اپنا تن من دھن تک اپنے کشمیری بھائیوں پہ وارنے کا عزم رکھتے ہیں۔اس کشمیر ملین مارچ میں دنیا کا سب سے بڑا کشمیری پرچم لہرایا جاۓ گا۔یہ 5 کلو میٹر طویل اور 12 میٹر چوڑا پرچم جس کا وزن 80 من ہے استعارہ ہے اس یکجہتی و رشتے کا جو اہلیان پاکستان کو اپنے ان کشمیری بھائیوں بہنوں سے ہے جو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو بلند کرتے ہوۓ اپنی جان وار کر اسی سبز ہلالی پرچم کو اوڑھ کر ابدی نیند سو جاتے ہیں

کچھ لوگ پوچھتے ہیں ان تقریروں ، جلسوں و جلوسوں سے کیا کشمیر آزاد ہو جاۓ گا۔کشمیر میں جاری کرفیو میں نرمی آ جاۓ گی یا کشمیریوں کے مصائب کم ہو جائیں گے۔ان لوگوں کے لیے میرا یہی پیغام ہے کہ کشمیر ملین مارچ میں شرکت کرنے والے افراد اس چھوٹی چڑیا کی مانند ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے بچانے کے لیے اپنی ننھی چونچ میں پانی کا قطرہ لیکر پہنچ گئی تھی۔پوچھنے والے نے پوچھا اس قطرے سے کیا ہوگا تو چڑیا نے کہا کہ میں اپنی ہمت کے مطابق کام کر رہی ہوں نتیجہ رب تعالی کے حوالے۔جبکہ ایک چھپکلی آگ کو پھونگیں مار رہی تھی آگ کو اور تیز کرنے کے لیے۔ننھی چڑیا بن جاو اور نتائج رب کعبہ کے حوالے کر دو۔طنز و تنقید کرنے والوں کان کھول کر سن لو چھپکلی بن کر تنقید ، طنز کے نشتر چلانے والوں کے نصیب میں کراہت و دھتکار لکھ دی جاتی ہے

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاتح عالم، غلام زادہ نعمان صابری

محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاتح عال نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک …

مدحتِ خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم، اشتراک : عبدالرب ساجد

ظاھر الوضاء ۔ چمکتا رنگ ابلج الوجه ۔ تابناک چہرہ حسن الخلق ۔ خوبصورت ساخت …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: چڑیا چھپکلی اور کشمیر ملین مارچ! This is the link: https://pakbloggersforum.org/a-sparrow-a-lizard-and-kashmir-march/