صفحہ اول / سیاست / اک سال امیدوں کا ۔۔۔ عشاء نعیم

اک سال امیدوں کا ۔۔۔ عشاء نعیم

 

اک سال امیدوں کا
عشاء نعیم

پاکستان میں 2018 کے الیکشن میں برسر اقتدار آنے والی جماعت پی ٹی آئی کو اقتدار سنبھالے ہوئے جولائی 2019 میں ایک سال مکمل ہو گیا ۔
پی ٹی آئی ایک ایسی جماعت ہے جسے نوجوانوں کی جماعت سمجھا جاتا ہے ۔
پاکستانیوں کی اکثریت نے اس جماعت کو نجات دہندہ سمجھا ہوا ہے ۔کیونکہ اس کے سربراہ عمران خان ہیں جو دنیائے کرکٹ میں ایک بڑا نام ہونے کے ساتھ پاکستان کو اپنی کپتانی میں ورلڈ کپ جتوانے والے تو اس کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ کینسر ہسپتال قائم کرنے والی شخصیت ہیں جہاں غرباء کا مفت علاج بھی ہوتا ہے ۔عمران خان پاکستان کی عوام میں سیاست سے پہلے ہی ہیرو کے طور پہ جانے جاتے ہیں سو لوگوں کو ان سے سیاست میں بھی ہیروئیک کردار کی توقع ہے ۔
وہ ان سے ملک کے تمام مسائل کے خاتمے کی توقع رکھتے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر اچھے کام کو بہت زیادہ سراہا جاتا ہے لیکن اگر کوئی کام غلط لگے تو بھی ان کے کارکنان اسے بھی صحیح بنا کر پیش کرنے کی پوری تگ و دو کرتے ہیں ۔
عوام سمجھتی ہے کہ ملک سے ‘مہنگائی ‘کرپشن ‘دہشت گردی ‘لوٹ مار غرض تمام برائیاں عمران خان صاحب ختم کر دیں گے۔
اس حکومت نے بہت بڑے بڑے فیصلے کئے خو انتہائی مشکل بھی تھے ۔
ان میں سے ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کے کرپشن کیسز بنانا اور ان کے سربراہان کی گرفتاری بھی شامل ہے ۔
نواز شریف اور آصف علی زرداری دو بڑے لیڈد جنھیں پکڑنا کسی دیوانے کا خواب لگتا تھا اس حکومت نے پورا کر کے سب کو حیران کردیا ۔
عمران خان کسی ضدی بچے کی طرح تمام کرپٹ لوگوں سے پیسہ نکلوانے پہ مصر ہیں اور کسی قسم کا کمپرومائز کرنے پہ تیار نہیں ۔
عوام کی اکثریت ان کے اس کارنامے پہ خوش ہے ۔
دوسرا کارنامہ خان صاحب کا بیرون ممالک میں حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ قانون بنانے کا مطالبہ ہے ۔عوام اس کارنامے پہ انھیں ایک اچھے مسلمان کے طور پہ دیکھتی ہے ۔
خان صاحب کے اچھے کاموں کے ساتھ کچھ ایسے کام بھی تھے جو عوام میں ناپسندیدہ تھے جن میں معاشی بدحالی مہنگائی ‘آسیہ مسیح کی رہائی پہ تو عوام کی اکثریت تڑپ اٹھی ۔
اس کے علاوہ ملک کی ایک محب وطن جماعت ‘جماعت الدعوہ کو بین کرنا ‘ اور کچھ عرصے بعد اس جماعت کے امیر حافظ محمد سعید صاحب کی گرفتاری یہ ایسے امور ہیں جن پر عوام کا شدید رد عمل سامنے آیا۔
سوشل میڈیا پہ عمران خان کو زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔
کیونکہ حافظ سعید صاحب پہ جو دہشت گردی کا مقدمہ بنایا گیا وہ بے بنیاد ہے ۔
حافظ سعید صاحب ایک محب وطن پاکستانی، عالم دین اور پرامن شہری ہیں ۔ان پہ ممبئی حملوں کا جو الزام ہے وہ تو ایک جرمن صحافی بھی ثبوتوں کے ساتھ بتا چکا ہے کہ وہ بھارت کا خودساختہ ڈرامہ تھا ۔
خان صاحب کے کچھ وزرا بھی اپنی وزارت کو چلانے میں ناکام رہے جن کی خان صاحب کو چھٹی کروانی پڑی ۔
البتہ حال ہی میں کیے گئے امریکی دورے میں خان صاحب کا وی آئی پی مہنگے طیارے کی بجائے عام طیارے کا استعمال ‘مہنگے روزانہ لاکھوں کے کرائے کے ہوٹل میں قیام کی بجائے پاکستان کے سفارت خانے میں قیام ‘اور امریکی صدر سے دوٹوک بات کرنا اور امریکی صدر ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش کے اظہار کی وجہ سے خان صاحب پھر عوام کہ آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں ۔
امید ہے خان صاحب کی حکومت پاکستان کو تمام چھوٹے بڑے مسائل سے نکال کر ‘کرپِشن کا پیسہ واپس لا کر اور سی پیک کا منصوبہ مکمل کر کے عوام کی امیدوں پہ پورا اترے گی ۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

فرشتے اتریں گے تیری نصرت کو

اس وقت ملکی صورت حال انتہائی نازک حالت میں ہے ۔الحمداللہ امن تو ہے دہشت …

سیاسی لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑگیا، ذمہ دار کون؟

پاکستان میں دیگر شعبہ جات کی طرح میدان سیاست بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: اک سال امیدوں کا ۔۔۔ عشاء نعیم! This is the link: https://pakbloggersforum.org/a-year-of-hope/