صفحہ اول / جہاں نما / کاش! کوئی عبدالمجید ثانی ہو

کاش! کوئی عبدالمجید ثانی ہو

بائیس نومبر بروز جمعرات ہزاروں کافروں نے شیطان کے پجاریوں نے چرچ کے سامنے مجمع لگایا ہوا تھا ۔
یہ مجمع ایک شیطانی تنظیم SIAN نے لگایا ہوا تھا ۔جس کا مقصد ہی اسلام کی راہ کو روکنا ہے ۔
اس مجمع میں اس تنظیم کے ایک شیطان ممبر نے دو قرآن پاک ڈسٹ بن میں پھینکے ۔
پھر مجمع کے درمیان میں دوسرے ملعون نے کھڑے ہو کر قرآن پاک کی توہین کرتے ہوئے جلانے کی جرات کی۔
(سارا وقت ناروے کی پولیس کھڑی تماشہ دیکھتی رہی اور شیطانی کھیل کو روکنے کی کوئی کوشش نہ کی گئی۔اس کا مطلب ہے یہ کام ناروے کی سرکاری سرپرستی میں سر انجام دیا گیا)
اس نے جونہی آگ لگائی مجمع میں سے ایک شیر نے، ایک مرد مجاہد الیاس نے چیتے کی سی پھرتی دکھاتے ہوئے اس ملعون پہ حملہ کر کے قرآن پاک کو بچانے کی کوشش کی ۔
اس کے ساتھ ہی ناروے کی شیطانوں کے ساتھ ملی ہوئی پولیس بھی حرکت میں آ گئی اور نوجوان کو پکڑ کر لٹا دیا اور اوپر بیٹھ گئے جبکہ اس نوجوان کی ہمت دیکھتے ہوئے دو نوجوان بھی آگے بڑھے لیکن ان کو بھی پکڑ لیا گیا ۔
جبکہ قرآن پاک کی توہین کرنے والے ملعون کو بھی آرام سے پکڑ کر ساتھ لے گئے ۔
اس نوجوان کی عظمت کو پوری دنیا کے مسلمانوں نے سراہا اور سلام پیش کیا۔پوری امت نے اس کو مختلف خطاب دئیے ۔جن میں
Defender of Quran
Hero of Umma
Real hero
صلاح الدین ایوبی
شیر اسلام
مجاہد اسلام
اور بہت سے دیگر ۔
اگلے دن ناروے کے مسلمانوں نے قرآن پاک ناروے کی سڑکوں پہ بیٹھ کر پڑھا اور یہ پیغام دیا کہ قرآن پاک کی حرمت اور عظمت ہمارے دلوں کسی صورت کم نہ ہوگی اور نہ ہی اس کو اٹھاتے ہوئے ہم ڈریں گے ۔
اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے ؟
کیوں آئے دن شیطانوں کو جرات ہوتی ہے کہ وہ کبھی حرمت رسولﷺ سے اور کبھی کلام ربی سے کھلواڑ کرتے ہیں؟
شکوہ کس سے کریں؟
شیطانی لشکر سیان سے ؟
ناروے جیسے ملعون ملک سے ؟
یا امت مسلمہ کے سوئے ہوئے حکمرانوں سے ؟
آئیے اپنے جذبات اور مشوروں سے پہلے تاریخ اٹھا کر دیکھتے ہیں کیا کبھی پہلے بھی ایسا ہوا ہے ؟
اگر ہوا ہے تو پھر اس کا انجام کیا ہوا ؟
سلطنت عثمانیہ کے ایک خلیفہ عبدالحمید ثانی ایک دن اپنے مشیروں اور وزرا کے درمیان موجود تھے کہ اچانک ایک حکومتی عہدیدار نے آپ کو آکر ایک ایسی خبر سنائی کہ آپ کا رنگ غصے سے سرخ ہو گیا اور نہایت جلال میں آکر کھڑے ہو گئے۔
حکومتی عہدیدار کے ہاتھوں میں فرانسیسی اخبار موجود تھا جس میں ایک اشتہار شائع ہوا تھا کہ فرانس کے ایک تھیٹر نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخانہ ڈرامہ پیش کرنے کا اعلان کیاہے
اخبار کے تراشے سے خلیفہ عبدالحمید ثانی کو بتایا گیا کہ ایک شخص نے ایک ڈرامہ تحریر کیا ہے جسے تھیٹر میں پیش کیا جائےگا اس ڈرامے میں نعوذ با اللہ حضورﷺ کا کردار بھی بنایا گیا ہے اور وہ کردار تھیٹر میں ایک شخص ادا کرے گا(نعوذ باللہ )۔خلیفہ نے حکومتی عہدیدار سے فرانسیسی اخبار لے کر اونچی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا ۔نہایت جلال اور غصے کی حالت میں سلطان کا جسم کانپ رہا تھا جبکہ آپ کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔
آپ وہاں موجود حکومتی عہدیداروں کو مخاطب کر کے اخبار میں شائع اشتہار سے متعلق بتا رہے تھے کہ’’فرانس کے اس اخبار میں ایک اشتہار شائع ہوا ہے کہ ایک شخص نے ایک ڈرامہ لکھا ہے اس میں حضورﷺ کا کردار بھی بنایا گیا ہے، یہ ڈرامہ آج رات پیرس کے تھیٹر میں چلے گا،اس ڈرامے میں اگر وہ میرے بارے میں بکواس کرتے تو مجھے کوئی غم نہیں ہوتا،لیکن اگر وہ میرے دین اور میرے رسول کی گستاخی کریںتو میں جیتے جی مرجائوں، میں تلوار اٹھائوں گا یہاں تک کہ اپنی جان ان پر فدا کر دوں گا، چاہے میری گردن کٹ جائے، یا میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں تاکہ کل بروز قیامت رسول اللہ ﷺ کے سامنے شرمندگی نہ ہو،میں انہیں برباد کردوں گا، یہ برباد ہو جائیں گے،راکھ ہو جائیں گے، یہ آگ اور تباہی ہر ذلیل دشمن کیلئے نشان عبرت ہو گی ، ہم جنگ کریں گے، ہم ان کی طرح بے غیرت نہیں ہو سکتے اور یہ بھی ممکن نہیں کہ ہم اپنے دفاع سے پیچھے ہٹ جائیں، ہم ان سے جنگ کریں گے۔ خلیفہ نہایت جلال میں با آواز بلند گستاخانِ رسول کےخلاف جنگ کا اعلان کر رہے تھے،اسی اثنا میں سلطان نے فرانسیسی سفیر کو طلب کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔کچھ ہی دیر بعد خلیفہ دربار میں روایتی لباس فاخرانہ جو شاید فرانسیسی سفیر پر ہیبت ڈالنے کیلئے زیب تن کیا تھا نہایت جلال اور بے چینی کی حالت میں بجائے تخت پر بیٹھنے کے اس کے سامنے کھڑے تھے اور فرانسیسی سفیر ان کے سامنے حاضر تھا ،سلطان کی حالت سے اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ اسے بلاوجہ طلب نہیں کیا گیا ، اس کے ماتھے پرپسینہ آچکا تھا کہ جبکہ جسم پر لرزہ طاری تھا اور ٹانگیں سلطان کے رعب سے کانپ رہی تھی۔
سلطان نے فرانسیسی سفیر کو مخاطب کیا’’سفیر صاحب! ہم مسلمان اپنے رسولﷺ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں، اسی وجہ سے ان سے محبت کرنے والے ان پر اپنی جانوں کو قربان کرتے ہیںاور مجھے بھی کوئی تردد نہیں ہے کہ میں بھی حضورﷺ پر جان قربان کرتا ہوں،ہم نے سنا ہے کہ آپ نے ایک تھیٹر ڈرامہ بنایا ہےجو نبی مکرمﷺ کی توہین پر مشتمل ہے،یہ کہہ کرخلیفہ نے فرانسیسی سفیر کی جانب قدم بڑھانا شروع کر دئیے یہاں تک کہ خلیفہ فرانسیسی سفیر کے قریب پہنچ گئے اور فاصلہ نہایت کم ہو گیا، فرانسیسی سفیر کے جسم پر لرزہ طاری تھا ، وہ خلیفہ کے جلال کے سامنے بہت مشکل سے کھڑا تھا ۔ خلیفہ نے فرانسیسی سفیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہایت بارعب لہجہ میں اسے کہا کہ اگر تم نے اس ڈرامے کو نہ روکا ،تو میں تمہاری دنیا تباہ کر دوں گا،یہ کہہ کر خلیفہ عبدالحمید ثانی نے ڈرامے کے اشتہار والا اخبار فرانسیسی سفیر کی طرف اچھال دیا اور نہایت تیزی سے دربار سے نکل گئے، فرانسیسی سفیر اس اخبار کو اٹھائے فوری طور پر ڈگمگاتا ہوا دربار سے خلیفہ کے جانے کے بعد دیواروں اور فرنیچر کا سہارا لیتے ہوئے باہر نکلا اور سیدھا سفارتخانے پہنچا اور ایک نہایت برق رفتار پیغام فرانس اپنی حکومت کو بھیج دیا کہاگر یورپ کو اپنی آنکھوں سے جلتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے اور فرانس کی فصیلوں پر اسلامی پرچم نہیں دیکھنا چاہتے تو فوری طور پر گستاخانہ ڈرامے کو روکو، عثمانی لشکر حکم کے منتظر کھڑے ہیں، ان کے جہاز بندرگاہ پر صرف احکامات کے منتظر ہیں اور پیادہ فوج اور توپخانہ چھائونیوں سے نکل چکا ہے۔خلیفہ عبدالحمید کی فرانسیسی سفیر کی دربار میں طلبی اور جنگی حکم نامے کے ساتھ فوجوں کو تیار رہنے کے احکامات نے ہی اسلام دشمن پر خوف طاری کر دیا، پوری دنیا منتظر تھی کہ اب کیا ہو گا، یورپ کانپ اٹھا، فرانس نے گھٹنے ٹیک دئیے۔ خلیفہ اپنے خاص کمرہ میں موجود تھے جہاں وہ امور مملکت سے متعلق مشورے اور فیصلے صادر کرتے کہ اچانک ایک حکومتی عہدیدارہانپتا ہوا کمرے میں بغیر اجازت ہی داخل ہو گیا اور گویا ہوا، ’’جناب!ایک خوشخبری آئی ہے۔خلیفہ :وہ کیا؟، حضور فرانسیسیوں نے اس ڈرامے کو ہی نہیں روکا بلکہ اس تھیٹر کو ہمیشہ کیلئے بند کر دیا ہے جس نے نبی مکرم ﷺکی شان میں اقدس میں گستاخی کا ارادہ کیا تھا؟خلیفہ عبدالحمید حکومتی عہدیدار کی بات کرنے کے دوران ہی نمناک ہو چکے تھے، آپ کی زبان سے فرط جذبات سے صرف الحمد اللہ ہی نکل سکا،
حکومتی عہدیدار نے خلیفہ کو بتایا کہ پورے عالم اسلام سے ان کیلئے شکریہ کے پیغامات آرہے ہیں،انگلستان لیور پول کی ایک اسلامی تنظیم نے اس ڈرامے کے روکے جانے کی خبر دی ہے،مصر اور الجزائر میں لوگ خوشی کے مارے سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور سب آپ کے لئے دعائیں کر رہے ہیں ،میرے سردار!اللہ آپ سے راضی ہو، یہ کہہ کر حکومتی عہدیدار خاموش اور مودب ہو گیا، خلیفہ عبدالحمید کی گردن اللہ کے حضور احساس تشکر سے جھک چکی تھی، آنکھوں سے آنسو جاری تھے،کچھ دیر بعد سلطان نے ہمت اکٹھی کی اور گردن اوپر اٹھائی اور اس حکومتی عہدیدار سے مخاطب ہوئے’’اے پاشا! مجھے یہ عزت صرف اس لئے ملی ہے کہ میں اس دین کا ادنیٰ سا خادم ہوں، مجھے کسی بڑے لقب کی ضرورت نہیں‘‘۔ یہ کہہ کر سلطان نے ہاتھ پیچھے کو باندھ لئے اور محل کے دورے پر نکل کھڑے ہوئے۔
آج اس نوجوان الیاس نے بھی قرآن پاک کی حفاظت کرنے کی خاطر جس طرح اپنی جان کی پرواہ نہ کی یہ ایک روشن مثال بن گیا ہے ۔مسلمانوں کا ہیرو بن گیا ہر مسلم کی آنکھ کا تارا بن گیا ہے ۔
قرآن پاک کو آگ لگتے وقت اس کی آنکھوں کا قہر دیکھنے والا ہے ۔
لیکن ہائے افسوس !کسی بھی مسلمان حکمران (سوائے ترکی ہی کے طیب اردگان کے) کی طرف سے مذمتی بیان تک نہ آسکا ۔
قابل شرم ہے ان حکمرانوں کا کردار ۔کاش یہ بھی خلیفہ عبدالمجید ثانی کا کردار ادا کرتے کاش یہ بھی ناروے کے سفیر کو بلا کر نہ صرف پیغام دیتے بلکہ عملی طور پر ناروے سے ہر تعلق ختم کر دیتے ۔
دنیا کے ستاون مسلم ممالک اگر ناروے کا بائیکاٹ کریں گے تو کیا بھلا ناروے کا کوئی نقصان نہ ہوگا ؟
پاکستان کا تو ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والا حکمران ایٹمی طاقت یہ ملک لیکن ایک لفظ مذمت بھی نہ بولا نہ ہی اس نوجوان کو کوئی خراج تحسین پیش کر سکا۔
کیا یہ ہے ریاست مدینہ کے خواب دکھانے والا حکمران؟
کیا یہ طرز عمل ہوتا ہے کروڑوں مسلمانوں پہ حکمرانی کرنے والے شخص کا ؟
کیا تمام مسلم ممالک کے حکمران غدار اسلام ہیں؟
لبرل ہیں؟
کیا کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی ؟
اگر یہ بھی خلیفہ عبدالمجید والا کردار ادا کرتے تو شیطان کفار کبھی بار بار گستاخی کی جرات نہ کر پاتے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے وہ تو کافر ہیں، ملعون ہیں، شیطان کے پیروکار ہیں انھوں نے تو ایسے ہی کرنا ہے روکنا تو مسلم حکمرانوں نے تھا۔روکنا تو مسلمانوں کی ذمہ داری تھا مگر یہ حکمران یا تو معاش سے ڈرتے ہیں یا حکمرانی چھن جانے سے ۔
رب العزت پہ کوئی بھروسہ ہے نہ اس کے کلام و نبیﷺ
سے کوئی محبت ۔
دعا ہے اللہ رب العزت ہمیں دین کی حفاظت کی توفیق دے اور ہمیں اپنے دین کے لئے چن لے۔
آخر میں بتانا چاہوں گی کچھ یہودی اور کچھ یہودی نواز لوگ ناروے کی پولیس کے حق میں اور اس بہادر نوجوان الیاس عمر کے بارے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ایسی تحاریر کو سمجھ جائیے یہ چال ہے ہرگز نہ ان کے جال میں آئیے گا۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: کاش! کوئی عبدالمجید ثانی ہو! This is the link: https://pakbloggersforum.org/abdul-majeed-2-is-awaited-2/