صفحہ اول / غلام زادہ نعمان صابری / گالی۔۔۔۔۔۔۔گناہ کبیرہ ہے

گالی۔۔۔۔۔۔۔گناہ کبیرہ ہے

ہمارا دین اسلام ہے اور اسلام ایک مہذب دین ہے اس لئے اس نے کسی بھی نازیبا حرکت اور گفتگو کو سنگین جرم اورگناہ کبیرہ قرار دیا ہے۔ آج یہاں ہم بات کریں گے ایک ایسی نازیبا گفتگو پر جسے گالی کہا جاتا ہے۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اور اس کا گہرا مطالعہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح آشکار ہوتی ہے کہ اسلام میں تو ایک غیر مسلم کو گالی دینا جائز نہیں چہ جائیکہ ایک مسلمان کو گالی دی جائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا فرمان اقدس ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے. لیکن افسوس صد افسوس کہ ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ ایک موذی مرض کی حیثیت سے سرایت کر گئی ہے۔عالم یہ ہے کہ آج گالی کو بطور ہتھیاراور آخری حربہ استعمال کیا جاتا ہےجو تعلیمات دین اسلام اور تعلیمات و سیرتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی سراسر منافی ہے۔ ایسا عمل کسی صورت میں اسلام اور اس کی تعلیمات کی آبیاری نہیں بلکہ الٹا دین کا نقصان ہے۔

لغت میں گالی کی تعریف میں بتایا گیا ہے کہ زبان کا بے ہودہ،غلط اور ناجائز استعمال خواہ کسی بھی شکل میں ہو”گالی کہلاتا“ہے۔لغت کے مطابق گالی بدزبانی اور فحش گوئی کا نام ہے۔
الغرض اسلام میں گالی کو فحش گوئی میں شمار کیا گیا ہے اور اسے ناپسند کیا گیا ہے۔اسلام انسانوں کو تحمل و برداشت اور رواداری کا درس دیتا ہے جو دنیا کا کوئی اور مذہب معاشرہ فراہم نہیں کر سکتا.
قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے اہل ایمان کو یہاں تک حکم دیا ہے کہ غیر مسلموں کے جھوٹے معبودوں (بتوں) کو بھی گالیاں نہ دو. ارشاد ہوتا ہے : وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ فَيَسُبُّوا اﷲََ عَدْوًام بِغَيْرِ عِلْمٍ.
ترجمہ : اور (اے مسلمانوں!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے.‘‘(الأنعام، 6: 108)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے زبان ایک بہت بڑی نعمت ہے، زبان قلوب و اذہان کی ترجمان ہے، اس کا صحیح استعمال ذریعہ حصول ثواب اور غلط استعمال وعید عذاب ہے، یہی وجہ ہے کہ احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم میں“اصلاحِ زبان” کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے خطبہ حجة الوداع کے موقع پر پوری نسل انسانی کو عزت ، جان اور مال کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں (مقرر کی گئی) ہیں ۔یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملو گے۔“(بخاری شریف)

لہٰذا کسی بھی انسان کامال لوٹنا اور اس کی عزت پر حملہ کرنا یا اس کی تذلیل کرنا دوسروں پر حرام ہے۔

بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے گالی گلوچ کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا:”
منافق کی چار نشانیاں ہیں۔
(1)جب بولے جھوٹ بولے۔
(2)وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔
(3)امانت سونپی جائے توخیانت کرے.
(4)جب جھگڑا کرے توگالی گلوچ پر اتر آئے ۔
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ایک شخص کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ ماں کو گالیاں دیتا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو بلوایا اور حکم دیا کہ پانی سے بھری ہوئی مشک لائی جائے ،،
پانی کی بھری ہوئی مشک لائی گئی اور وہ مشک اس کے پیٹ پر خوب کس کر بندھوا دی گئی
اور اس کوحکم دیا گیا کہ وہ اسی مشک کے ساتھ چلے پھرے اور دیگر امور بھی سر انجام دے اور کھانا پینا ،اٹھنا بیٹھنااور سونا جاگنا بھی اسی حالت میں کرے۔۔
ابھی ایک دن بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ بندہ بلبلاتا ہوا دربار فاروقی میں حاضر ہوا اور ہاتھ باندھ کر عرض کرنے لگاکہ اس کو معاف کر دیا جائے وہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کرے گا۔

اتنی بات پر آپ رضی اللہ عنہ نے مشک کا پانی آدھا کر دیا مگر مشک بدستور اس کے پیٹ پر بندھی رہنے دی۔

مزید ایک دن کے بعد وہ بندہ ماں کو بھی سفارشی بنا کر ساتھ لے آیا کہ اس کو معاف کر دیا جائے اور اس مشک کو ہٹا دیا جائے وہ دو دن سے نہ تو سو سکا ہے اور نہ ہی ٹھیک سے کھا سکا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی ماں کی طرف
اشارہ کر کے فرمایا
کہ اس نے تجھے پیٹ کے باہر نہیں بلکہ پیٹ کے اندر اتنے ہی وزن کے ساتھ 9 ماہ اٹھا کر رکھا ہے۔

نہ وہ ٹھیک سے سو سکتی تھی اور نہ ٹھیک سے کھا سکتی تھی ،پھر تو اسے موت کی سی اذیت دے کر پیدا ہوا اور 2 سال اس کا دودھ پیتا رہا ،

اور جب اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا تو اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کے لئے تیرے منہ سے گالیاں نکلتی ہیں ،، اگر آئندہ یہ شکایت موصول ہوئی تو تجھے نشانِ عبرت بنا دونگا۔

(فتاوی و اقضیتہ عمر ابن الخطاب)
مسلم شریف کی روایت ہے کہ جب دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کریں تو گناہ ابتدا کرنے والے پر ہی ہوگا،جب تک مظلوم حد سے نہ بڑھے۔ایک طرف تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے گالی گلوچ سے منع کیا اورفرمایا کہ گالی گلوچ کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہوگااور دوسری طرف اخلاقی طور پر یہ بھی ہدایت کی ہے کہ گالی کا جواب گالی سے نہ دیا جائے،اس لئے کہ اس طرح کرنے سے دونوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔

کسی مسلمان کی دل آزاری کرنا بہت سخت گناہ ہے اور گالی کے ذریعے انسان کو شدید تکلیف ہوتی ہے کوئی اس تکلیف کا اظہار کر دیتا ہے اور کوئی صبر کا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے ۔ مذہب اسلام نے صرف مسلموں کو نہیں بلکہ غیر مسلموں کو بھی گالی دینے سے منع فرمایا ہے۔اور اگر کوئی اہل ایمان کو گالی دے توکس قدر سخت گناہ ہوگا اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

صحیح بخاری کی حدیث ہے،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا:مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ۔

غیر مسلم شہری کو زبان یا ہاتھ پاﺅں سے تکلیف پہنچانا، اس کو گالی دینا ،مارنا ،پیٹنا یا اس کی غیبت کرنا اسی طرح ناجائز اور حرام ہے جس طرح مسلمان کے حق میں ناجائز اور حرام ہے ۔”الدرالمختار“میں یہ اصول بیان ہوا ہے کہ :”غیر مسلم کو اذیت سے محفوظ رکھنا واجب ہے اور اس کی غیبت کرنا بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح مسلمان کی غیبت کرنا۔“(الدرالمختار)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا:من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیراً أولیصم” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ : جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے(اسے چاہئے یا تو) وہ بھلائی کی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔

اہل ایمان کی گفتگو بہترین اورپر تاثیر ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ فضول باتوں سے احتراز کرتے ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا:من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ“ (مؤطا امام مالک)
ترجمہ : فضول باتوں کو چھوڑ دینا ، آدمی کے اسلام کی اچھائی کی دلیل ہے ۔

حضرت سیدنا ابو موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اےاللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! مسلمانوں میں سے کون افضل ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا: “من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ“ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔(بخاری ومسلم )

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم سے(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی دوسری بیوی ام المؤمنین حضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بابت) عرض کیا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے لئے ام المؤمنین حضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا ایسا ہونا کافی ہے۔
بعض راویوں نے کہا کہ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی "ایسا ہونا کافی ہے”سے مراد یہ تھی کہ وہ پستہ قد ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے(ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے) فرمایا“لقد قلت کلمۃً لومج بھا البحر لمزجتہ“ تو نے ایسی بات کہی ہےکہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو وہ اس کا ذائقہ بھی بدل ڈالے۔( سنن ابی داؤد)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا : “إن دماء کم وأموالکم و أعراضکم بینکم حرام۔۔۔۔ الخ“(بخاری شریف) ۔ ترجمہ : یعنی ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کا خون، مال اور اس کی عزت وآبرو قابل احترام ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا : “من یضمن لي مابین لحییہ ومابین رجلیہ أضمن لہ الجنۃ“
ترجمہ : جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے تو میں اس کے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ (بخاری )

جس طرح زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے کی بنا پر جنت کی بشارت دی گئی ہے ایسے ہی ان دونوں کی حفاظت کی کوتاہی کرنے والوں کے لئے تنبیہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا:أتدرون ما أکثر ما یدخل الناس النار ؟ الأجوفان: الفم و الفرج“
ترجمہ : کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کو کثرت کے ساتھ کون سی چیز جہنم میں داخل کرے گی؟ وہ دو کھوکھلی چیزیں ، زبان اور شرمگاہ ہیں۔
( سنن ترمذی ،سنن ابن ماجہ واسنادہ صحیح )

یوں ہی بلا وجہ شریعت کی رو سے کسی مسلمان جاہل کی بھی تحقیر حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم فرماتے ہیں:یحسب امری من الشران یحقرا خاہ المسلم کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ، رواہ مسلم عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
ترجمہ : آدمی کے لئے برا ہونے کو یہ کافی ہے کہ اپنے بھائی مسلمان کی تحقیر کرے مسلمان کی ہر چیز مسلمان پر حرام ہے خون آبرو مال(اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب تحریم خلم المسلم وخذلہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی )

اسی طرح کسی مسلمان جاہل کو بھی بغیر کسی وجہ کے گالی دیناحرام اور ناجائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم فرماتے ہیں:سباب المسلم فسوق رواہ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ والحاکم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ.
ترجمہ : مسلمان کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے (اسے امام بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ اور حاکم نے ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا)
( صحیح مسلم کتاب الایمان باب سباب المسلم فسوق قدیمی کتب خانہ کراچی )
مسلمان کو گالی دینے والا اس شخص کی مانند ہے جو عنقریب ہلاکت میں پڑ اچاہتاہے۔ (اسے امام احمد اور بزار نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما سے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ تعالٰی کو ایذا دی (اسے امام طبرانی نے الاوسط میں سند حسن کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے)

جب عام مسلمانوں کے باب میں یہ احکام ہیں تو علماء کرام کی شان تو ارفع واعلٰی ہے۔ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :لایستخف بحقہم الامنافق۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔علماء کو ہلکا نہ جانے گا مگر منافق (طبرانی نے کبیر میں ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا)

حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا:لایستخف بحقہم الامنافق بین النفاق رواہ ابوالشیخ فی التوبیخ عن جابر بن عبدﷲ الانصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
ان کے حق کو ہلکا نہ سمجھے گا مگر کھلا منافق (اسے ابوالشیخ نے التوبیخ میں حضرت جابر بن عبداللہ انصارٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔)
(کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ حدیث مؤسسۃ الرسالۃ بیروت )

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا ارشاد گرامی ہے :لیس من امتی من لم یعرف لعالمناحقہ۔ رواہ احمد ۲؎ والحاکم والطبرانی فی الکبیر عن عبادۃ بن الصامت رضی ﷲ تعالٰی عنہ۔
جو ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت سے نہیں۔ (اسے احمد، حاکم اور طبرانی نے کبیر میں عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔

خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اہل قدس کو جو امان دی تھی اس کے الفاظ اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو میسر مذہبی آزادی کا دستور ہیں:هذا ما أعطی عبد اﷲ عمر أمیر المؤمنین أهل إیلیاء من الأمان، أعطاهم أمانا لأنفسهم وأموالهم ولکنائسهم وصلبانهم، وسقیمها وبریئها وسائر ملتها، أنه لا تسکن کنائسهم ولا تهدم ولا ینتقص منها ولا من حیزها، ولا من صلیبهم، ولا من شیء من أموالهم، ولا یکرهون علی دینهم، ولا یضار أحد منهم، ولا یسکن بإیلیاء معهم أحد من الیهود.
یہ وہ امان ہے جو ﷲ کے بندے عمر بن الخطاب امیر المومنین نے ایلیا کو دی. ان کی جانوں، ان کے اموال، ان کے کلیساؤں، ان کی صلیبوں اور ان کی ساری ملت کو امان دی گئی ہے. ان کے گرجوں کو بند کیا جائے نہ گرایا جائے، نہ ہی ان میں کمی کی جائے اور نہ ان کے احاطوں کو سکیڑا جائے، اور نہ ان کی صلیبوں میں کمی کی جائے اور نہ ہی ان کے اموال میں کمی کی جائے اور کسی کو اپنا دین چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے، اور نہ کسی کو تکلیف پہنچائی جائے اور نہ ان کے ساتھ (جبراً) یہودیوں میں سے کسی کو ٹھہرایا جائے (کیونکہ اس زمانہ میں مسیحی لوگوں اور یہود میں بڑی عداوت تھی( طبری، تاریخ الأمم والملوک)
الغرض مسلم ہو یا غیر مسلم کسی کو بھی گالی گلوچ کرنا یا لعن طعن کرنا جائز نہیں اور نہ ہی یہ کوئی پسندیدہ عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو پسند نہیں فرمایا ہاں ایک صورت ہے کہ مظلوم پر جب ظلم ہو رہا ہو تو اس کو اجازت ہے تاکہ ظالم کو مزید ظلم کرنے سے روکا جا سکے قرآن پاک میں ہے : لاَّ يُحِبُّ اللّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَن ظُلِمَ وَكَانَ اللّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا.
ﷲ کسی (کی) بری بات کا بآوازِ بلند (ظاہراً و علانیۃً) کہنا پسند نہیں فرماتا سوائے اس کے جس پر ظلم ہوا ہو (اسے ظالم کا ظلم آشکار کرنے کی اجازت ہے)، اور ﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے ۔
کسی بھی مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے، جو کوئی ناجائز طریقے سے مال کھاتا ہے اس پر گناہ ہے، گالی نہیں دینی چاہئے بلکہ قانونی کاروائی ضروری ہے۔
گالم گلوچ بہت برا اور ناپسندیدہ عمل ہے لہٰذا ہر صورت اس سے بچنا چاہئے بلکہ ہر اس عمل سے بچنا چاہئے جس سے کسی کو تکلیف پہنچے یا اس کی دلآزاری ہو۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: گالی۔۔۔۔۔۔۔گناہ کبیرہ ہے! This is the link: https://pakbloggersforum.org/abusing-is-sinful/