صفحہ اول / سلائڈر / منجمد سیف الملوک پر افطار کا خواب ۔۔۔ احمد ندیم اعوان

منجمد سیف الملوک پر افطار کا خواب ۔۔۔ احمد ندیم اعوان

منجمد سیف الملوک پر افطاری کا خواب
احمد ندیم اعوان

(انڈس ایڈونچر کلب کے افطار ٹور کا دلچسپ احوال، حصہ دوم)

افطار رمضان ٹوور کے شرکاء کا سری(شوگراں) کی چوٹی پر اگلا ہدف جھیل سیف الملوک پر افطار کرنا تھا۔

برف پوش پہاڑوں کے درمیان سفید چادر اوڑھے شہزاہ سیف الملوک سے منسوب پریوں کی جھیل کا راستہ ابھی تک نہیں کھلا تھا۔

سنا تھا اس سال برف زیادہ پڑی تھی۔ سیف الملوک کے راستے بھی بند ہیں جیپ اوپر نہیں جاسکتی۔

خیر ہم 18 مئی کو صبح سویرے شوگراں سے نیچے اترے۔ اپنی گاڑیاں لیں اور ناران کی طرف نکل پڑے۔

موسم صاف اور راستہ کافی بہتر تھا۔ گلیشیئر پگلنے کی وجہ سے قدرتی چشمے اور برساتی نالوں میں پانی کافی زیادہ تھا۔ جابجا آبشاریں نظر آرہی تھیں جو سنا ہے جولائی اگست میں غائب یا چھوٹی ہوجاتی ہیں۔

ناران سے قبل سامنا بڑے بڑے گلیشیئرز سے ہوا۔ جنھوں نے ناران جانے والا راستہ روکا ہوا تھا۔ ان گلیشیئرز کو کاٹ کر سڑک صاف کی گئی۔ بڑا منزل تھا جب 20 سے 25 فٹ اونچی برف کی دیواروں کے درمیان سے ہماری گاڑیاں گزر رہی تھیں۔

ناران بازار میں داخل ہوتے ہی ایک بار پھر بارش نے ہمارا استقبال کیا۔ بازار میں ابھی رونق شروع نہیں ہوئی تھی۔ مارکیٹ اور ہوٹلوں میں مرمت کا کام بڑی تیزی سے جاری تھا۔ درجنوں نئے ہوٹل نظر آئے جن کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد فنشنگ کا کام جاری تھا۔ ہر شخص رمضان میں کام مکمل کرکے عید پر آنے والے سیاحوں کا استقبال کرنا چاہتا تھا۔

دن تقریبا 11:30 پر آرکیڈین ہوٹل میں چیک ان کیا۔ کچھ آرام اور دوستوں نے خریداری کی۔ نمازیں ادا کئیں اور پھر تقریبا 1:30 بجے جھیل سیف الملوک کی جانب نکل گئے۔

ہوٹل والوں نے بتایا کہ جہاں تک جیپ جاتی ہے تقریبا وہاں تک آپ کی گاڑیاں بھی پہنچ جائیں گئیں۔ گروپ کے کچھ دوستوں نے جھیل پہلے بھی دیکھی ہوئی تھی۔ مگر وہ جیب میں بیٹھ کر گئے تھے۔

جھیل روڈ میں ہوٹلوں کے درمیان سے گاڑیاں گزار کر ہم تھوڑا ہی آگے بڑھے ہوں گے دو چار موڑ چڑھائی چڑھنے کے بعد ایک موڑ پر موجود برف ہمارے راستے کی رکاوٹ بن گئی۔ گاڑیاں آگے نہیں جاسکتی تھیں اور ہم نے ہر صورت آگے جانا تھا۔

دن کی روشنی میں جھیل تک پہنچنا تھا۔ لہذا پیدل ہی آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ گاڑیاں سے ضروری سامان، افطاری، کیمرے، ڈرون وغیرہ نکال کر وزن سب میں تقسیم کیا۔ سفیان اور طارق بھائی نے گاڑی کسی مناسب جگہ پارک کرکے ڈائیریکٹ پہنچنے کا فیصلہ کیا۔

اب دو ٹیمیں بن چکیں تھیں۔ پہلی ٹیم بالاکوٹ کے دوست احسان الہی کی قیادت میں بغیر ٹریک شاٹ کٹ مار کے اوپر چڑھنا شروع ہوئی۔ جس کے نتیجہ میں فوری سانس پھولنا شروع ہوگیا۔ پہلے گلیشیئر سے پہلے ہی جوان بیٹھ گئے۔

جوانوں کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے رفتار آہستہ اور جیب ٹریک پر چلنا شروع ہوئے۔ مگر انداصہ ہوا کہ یہاں چلنا بھی اتنا آسان نہیں۔

کچھ دوستوں نے پہلی مرتبہ گلیشیئر کراس کرنا تھا۔ پہلا گلیشئیر کراس کرنے کے بعد جب دوسرے گلیشیئر پر قدم رکھے تو اس کی لمبائی کے ساتھ سینکڑوں فٹ گہرائی نے جان نکال دی۔ یہی سوچ کر کہ اگر برف پر پاوں سلپ ہوگیا نیچے کہاں تک جائیں گے؟

مگر ہمت مرداں مدد خدا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے عمودی چڑھائی چڑھنا شروع ہوئے اور بالآخر اسے بھی کراس کرلیا۔

جیسے جیسے آگے بڑھتے راستہ اتنا ہی مشکل اور دشوار ہوتا چلا جارہا تھا۔ کہیں برف کی وجہ سے راستے چھوٹے اور کہیں کیچڑ کی وجہ سے چلنا دشوار تھا۔

یہ تقریبا 8 کلومیٹر طویل سفر تھا۔ جو بالکل بھی آسان نہ تھا۔چڑھائی کے ساتھ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے طبعیت میں چڑچڑا پن آنا اور پسینے پر سرد ہوائوں کی وجہ سے سرد درد معمول ہوتا ہے۔ مگر یہاں سب روزے سے تھے۔ خالی پیٹ، خشک حلق کے ساتھ سفر جاری تھا۔ ہونٹوں کی خشکی سے روزے کی سختی کا اندازہ ہورہا تھا۔

ایسے میں دوستوں کا ایک دوسرے کو حوصلہ دینا اور ہلکے پھلکے مزاح کا سلسلہ بھی جاری تھی۔ چھوٹے چھوٹے لطیفے اور واقعات سفر کو آسان بنادیتے ہیں۔

احسان الہی نے لطیفہ سنایا۔
دو گھسرے جارے تھے۔ ایک کسی گھڑے میں گرگیا دوسرے نے ہاتھ دیتے ہوئے حوصلہ دیا۔
اٹھ شمیم میری بہن مرد بن مرد 😀

یہ اس سفر کا یاد گار لطیفہ بن گیا۔ جو تھوڑی تھوڑی دیر بعد حوصلہ دینے کے لیے سنانا پڑتا۔

راستے میں کچھ لوگ ملے جنھوں نے شہباز شریف کی طرح لانگ شوز پہنے ہوئے تھے یہ خچروں پر جھیل تک گئے تھے اور اب واپسی کا سفر کررہے تھے۔ کچھ نے واپسی کا مشورہ دیا۔ مگر جناب ہم کہاں ماننے والے تھے۔ آگے سے آگے بڑھتے چلے گئے۔

راستے میں جھیل تک کا فاصلہ بتانے والے بورڈ لگے تھے۔ مگر کسی نے اس پر سے کلومیٹر کاٹ دیئے تھے۔ 2 ڈھائی گھنٹے کا سفر کرلینے کے بعد بھی اندازہ نہیں تھا کہ مزید کتنا سفر رہ گیا ہے۔

ایسے سفر میں اکثر کچھ لوگ تھکاوٹ یا طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے راستے سے واپس ہوجاتے ہیں۔ مگر الحمدللہ ہمارے گروپ کے باہمت دوستوں کا جذبہ قابل دید تھا۔ کچھ کی طبعیت زیادہ خراب ہوئی تو انہوں نے بیٹھ جانے یا واپس پلٹنے کی بجائے خچروں کی مدد لے لی۔ ان پر سوار ہوکر آگے بڑھ گئے۔

ہم اپنے سفر میں اپنے دوسرے گروپ کے ساتھیوں کو دیکھتے رپے وہ نظر نہ آئے۔ ہمیں یقین تھا کہ وہ فٹ ہیں۔ ہم سے پہلے جھیل پر پہنچ جائیں گے۔

جھیل کے قریب پہنچے تو وہاں سے واپس پلٹنے والوں نے بتایا کہ آپ کے ساتھی جھیل پر پہنچ چکے ہیں اور مسجد کے سامنے آپ کا انتظار کررہے ہیں۔

بالآخر ایک موڑ پر جھیل صفر کلو میٹر کا بورڈ نظر آیا۔ قدم کچھ تیز اٹھاتے ہوئے جب بورڈ کے قریب پہنچے تو برف پقش پہاڑوں کے درمیاں سفید چادر اوڑھے جھیل سیف الملوک کا ملکوتی حسن ہمارے سامنے تھا۔ چند لمحے اس حسین منظر کو دیکھتے رہے۔ سفر کی ساری تھکان غائب ہوچکی تھی۔ سب کے چہروں پر خوشی اور مسرت تھی۔

آگے بڑھے۔ جہاں منجمند جھیل کے چاروں طرف سفید برف ہی برف تھی۔ کئی جگہوں پر پاوں رکھتے تو پاوں برف میں دھنس جاتے۔ اب لانگ شوز کا مقصد سمجھ آیا۔

جھیل پر اکا دکا لوگ تھے جو ہمارے پہنچنے کے چند لمحوں بعد ہی واپس نکل گئے۔ ہم نے آگے بڑھنا شروع کیا۔ کیمرے اور ڈرون نکال کر جھیل کے حسن کی عکس بندی شروع کی۔ گروپ فوٹو بنائے۔ ایک دوسرے پر برف کے گولے پھینکے۔

خوشی اتنی تھی کہ یقین نہیں آرہا تھا۔ ایک مشکل سفر کرکے ہم اپنی منزل پر پہنچ گئے۔

یہاں بورڈ آویزاں تھا آنسو جھیل پیدل سفر 4 گھنٹے۔ مگر اس برف میں مزید آگے بڑھنا مشکل تھا۔

سیزن کھل جانے کے بعد یہاں سیاحوں کو بے حد رش، جیپوں کا شور، کشتیاں اور ہلا گلا ہوتا ہے۔ مگر آج یہاں مکمل سناٹا تھا۔

میں ایک جانب بیٹھ کر جھیل اور پہاڑوں کو تسلی سے دیکھنے لگا۔ ان کی سرگوشیاں سننے لگا۔ یہ جھیل قدرت کا حسین تحفہ ہے۔ جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اسے صرف وہاں جاکر محسوس کیا جاسکتا ہے۔

ہم نے برف پر افطاری کا سامان رکھا۔ رب سے دعائیں کئیں۔ کچھ تصاویر بنائیں۔ ہمارا آج کا ہدف مکمل ہوچکا تھا۔ ہم منزل پر پہنچ چکے تھے۔ ابھی افطاری میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔

ارادہ تھا جن دوستوں کی طبعیت خراب ہے انہیں خچروں پر واپس بھیج دیا جائے۔ مگر یہاں جھیل پر ہمارے سوا کوئی نہیں تھا۔ خچر والے بھی واپس جاچکے تھے۔ افطاری کے بعد اندھیرے میں واپسی کا سفر مشکل ہوسکتا تھا۔

مشورہ کے بعد طے پایا کہ جو روشنی میسر ہے اس میں واپسی کا سفر کرتے ہیں۔ جہاں مغرب ہو افطار کرلیں گے۔

واپسی کے سفر میں پھر قافلہ پھر دو گروپس میں تقسیم ہوگیا۔ ایک ٹیم جیب ٹریک سے واپسی پلٹی اور دوسری نے شاٹ کٹ کا استعمال کرتے ہوئے نیچے اترنا شروع کردیا۔

افطاری کا سامان اوپر والی ٹیم کے پاس اور پانی و شربت کی بوتلیں نیچے والی ٹیم کے پاس چلی گئیں۔ مغرب کے وقت ہم نے بریک لگائی۔ پانی کی بوتلوں میں سوادش کی شربت گلاب ملائی۔ اور ٹھنڈی ڈار شربت سے افطار کرلی۔ زندگی میں شربت پینے کا اتنا مزہ کبھی نہیں آیا۔ جی چاہتا تھا مزید شربت پیئں مگر ہمارے پاس موجود پانی ختم ہوچکا تھا۔

آخر کار واپسی کا سفر مکمل ہوا اور ہم سب گاڑیوں کے پاس پہنچے۔ یہاں فروٹ اور افطار کا دیگر سامان موجود تھا۔ کھانا واپس پہنچ کر کھانے کا پروگرام تھا۔ یہاں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ناران واپسی ہوئی۔

جہاں گرما گرم شنکیاری چپلی کباب سے بھوک مٹائی۔ کھانے کے بعد سب کو تھکاوٹ کا احسان اور نیند آنے لگی۔ چائے پی کر نمازیں پڑھیں۔ اور دوست آرام کرنے کمروں میں چلے گئے

ہمیں سحری کی تیاری اور اگلے دن کا شیڈول پلان کرنا تھا۔ بازار میں ایک قہوہ والا مل گیا جس کا قہوہ پینے سے میری طبعیت بھی کافی بہتر ہوگئی۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سری کی سردی میں افطار ۔۔۔ احمد ندیم اعوان

سری کی سردی میں افطار احمد ندیم اعوان (انڈس ایڈونچر کلب کے رمضان ٹور کا …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: منجمد سیف الملوک پر افطار کا خواب ۔۔۔ احمد ندیم اعوان! This is the link: https://pakbloggersforum.org/aftar-with-adventure-at-saiful-malook-nadeem-awan/