صفحہ اول / سلائڈر / سری کی سردی میں افطار ۔۔۔ احمد ندیم اعوان

سری کی سردی میں افطار ۔۔۔ احمد ندیم اعوان

سری کی سردی میں افطار
احمد ندیم اعوان

(انڈس ایڈونچر کلب کے رمضان ٹور کا دلچسپ احوال)

پشاور موٹر وے پر پہنچ کر اسلام آباد کے دوستوں سے رابطہ کیا تو وہ ابھی کشمیر ہائی وے پر تھے۔ ہم نے سفر جاری رکھا۔ سحری ایبٹ آباد کے میاں جی ہوٹل پر کرنے کا فیصلہ ہوا۔ نیند کے جھونکے سے سفر گزرنے کا اندازہ نہ ہوا۔

ایبٹ آباد کے قریب اسلام آباد والی پارٹی کی کال سے جاگا تو معلوم ہوا سحری کا وقت ہوچکا ہے۔ گاڑی کہیں روک دینی چاہیئے۔ کیونکہ میاں جی کا ہوٹل بند ہے۔

ہمارے سفر لاہور اسلام آباد کے ہوں یا ہزارہ کے میاں جی کے ہوٹل لازمی پڑاو ہوتا ہے۔ مگر اس بار معلوم ہوا وزیراعظم میاں صاحب کی طرح میاں جی ہوٹل والے کا کاروبار بھی بند پے۔ اکثر ہوٹل والے رمضان میں ہوٹل کی مرمت و توسیع کا کام کرواتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ہوٹل بند ہونے کی یہی وجہ ہوا۔

خیر ہم سب دوستوں نے منڈیاں ایبٹ آباد میں سحری کی۔ نماز فجر ادا کی اور آگے کا سفر جاری رکھا۔

مانسہرہ کراس کرکے بالاکوٹ کی جانب بڑھ رہے تھے کہ احسان الہی بھائی نے اطلاع دی کی بالاکوٹ سے ناران جانے والا ایوب پل مرمت کی وجہ سے بند ہے۔ آپ عطر شیشہ سے گڑھی حبیب اللہ کی جانب ہوجائیں۔

گڑھی حبیب اللہ پہنچے تو دریائے کنہار کا کشادہ پاٹ ہمارے استقبال کے لیے موجود تھا۔ پل پر گاڑیاں روکیں اور دریائے کنہار کا حسن آنکھوں میں سمونے کے لیے باہر نکل آئے۔ ساتھ ہی موبائل، ڈی ایس ایل آر اور ٹرائی پوڈ میں نکل آئے۔ سفر کا پہلا فوٹو سیشن شروع ہوا۔

جب تصاویر بنانے سے جی بھرا تو آگے کا سفر شروع کیا۔ متبادل راستہ ہونے کی وجہ سے سڑک چھوٹی، بعض جگہ سے کافی خراب اور کچی تھی۔ خیر رمضان کی خوبصورت صبح میں سفر کرتے ہوئے ایوب پل بالاکوٹ پہنچے۔ جہاں احسان الہی بھائی ہمارے منتظر تھے۔

افطار ناران ٹور کے شرکاء رات بھر سفر کرکے تھک چکے تھے۔ ہمیں بالاکوٹ میں کچھ کام تھے۔ دوستوں کو دریائے کنہار کے اچھلتے کودتے اور شور مچاتے پانی کے حوالے کرکے ایوب پل پیدل کراس کرکے بالاکوٹ بازار میں چلے گئے۔ اکا دکا دکانیں کھل چکی تھیں۔ ہم نے اپنے کام مکمل کیئے اور اگے شوگراں کے لیے سفر شروع کردیا۔

فیس بک پر انیس بھائی کا اسٹیٹس دیکھا وہ دریائے کنہار کے رنگ برنگی پتھروں اور پانی کی تصاویر اپلوڈ کرچکے تھے۔

کیوائی پہنچے تو بازار بند تھا۔ جیپیں بھی نظر نہیں آرہی تھیں۔ شاید رمضان المبارک کی وجہ سے صبح تاخیر سے ہورہی ہے یا پھر سیزن نہ ہونے کی وجہ سے مقامی افراد ابھی ٹھنڈے ہیں۔

کیوائی ناران روڈ پر ایک بستی ہے۔ جہاں سے سڑک اوپر شوگراں کی جانب جاتی ہے۔ یہاں ایک چھوٹا سا بازار چند ہوٹل اور جیب اسٹاپ ہے۔ کیوائی پر سیاحوں کے لیے ہوٹل والوں نے نالے کے پانی اور آبشار کو اس انداز سے ترتیب دیا ہے کہ وہاں آپ چارپائیوں اور کرسیوں پر بیٹھ کر گرما گرم چائے اور پکوڑے وغیرہ سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

کیوائی سے اپنی گاڑی پر شوگراں جایا جاسکتا ہے بشرط کہ گاڑی اچھی ہو۔ ہماری گاڑیاں تو اچھی تھیں مگر ہم نے انہی پر آگے بھی سفر کرنا تھا۔ معلوم ہوا کہ شوگراں کی سڑک سے برف ہٹا دی گئی ہے مگر سڑک کی مرمت کا کام باقی ہے۔ سڑک پر کھڈے وغیرہ ہیں۔ سو اپنی گاڑیاں کیوائی میں پارک کرکے جیب لینے کا فیصلہ ہوا۔

یہاں ہمیں جیب ڈارئیور شاہ جی ملے۔ جو نہایت نفیس انسان ہیں۔ شاہ جی کا کہنا ہے وہ صبح سوتے نہیں۔ مطلب بائیکاٹ فجرولہ کرتے ہیں۔

شاہ جی نے دوسری جیب اور ڈیزل کا انتظام کیا اتنی دیر میں ہم نے اپنے بیگ سے مختصر ضروری سامان نکال کر باقی گاڑیوں میں ہی چھوڑ دیا۔

دو جیپوں میں قافلہ شوگراں کی جانب روانہ ہوا۔ مستقل چڑھائی تھی۔ سڑک کے دونوں جانب آسمان کو چھوتے درخت تھے۔ سبزہ کمال کا تھا۔ نظارے کرتے ہوئے شوگراں پہنچے۔ یہاں پنجاب کی گرمی کے ستائے ہوں کا استقبال ٹھنڈ نے کیا۔

ہوٹل بکنگ پہلے سے تھی۔ پیرا ڈائیز ہوٹل کے کمروں میں سامان رکھا اور پہاڑوں پر موجود برف اور آسمان پر چھائے بادلوں کے نظارے کرنے لگے۔ بارش شروع ہوگئی تھی۔

رات بھر سفر کی وجہ سے تھکاوٹ ہوگئی تھی۔ دوستوں کو 2 بجے تک آرام کرنے کا کہا اور ہوٹل والوں کو افطاری کی تیاری کا آڈر لکھوایا۔

ٹوور کے شرکاء کمبلوں میں خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگے۔ بارش کافی تیز ہوگئی۔ اس بارش میں باہر نکلنا اور سری پہنچ کر افطار کرنا ناممکن نظر آنے لگا۔ جیب ڈرائیور کا کہنا تھا کہ بارش اور کیچڑ کی وجہ سے گاڑی اوپر نہیں جائے گی۔ آپ کو کل صبح لے جائیں گے۔ مگر ہم افطار سری پر ہی کرنا چاہتے تھے۔

2 بجے دوستوں کو اٹھایا۔ وضو کرکے باجماعت ظہر و عصر کی نماز ادا کی۔ اس دوران اللہ نے موسم صاف کردیا۔ بارش رک گئی۔ بادل رخصت ہونا شروع ہوئے اور درمیان سے نیلا آسمان نظر آنا شروع ہوگیا۔

3 بجے جیپیں سری جانے کے لیے تیار تھیں۔ موسم بہت ہی خوشگوار ہوگیا تھا۔ دوستوں نے ویڈیوز بنائیں اور سری کے لیے روانہ ہوگئے۔

راستہ کافی خراب تھا۔ کئی جگہ پر برف اور کیچڑ کی وجہ سے گاڑی سلپ ہوتی۔ دعائے سفر تو آغاز ہی میں پڑھ لی تھی اب مشکل وقت کی دعائیں بھی پڑھنا شروع کردیں۔

خیر خراماں خراماں زور لگاتے اچھلتے کودتے جیب سری پہنچ ہی گئی۔

یاد رہے اس مقام کا پین دی سری سے کوئی تعلق نہیں۔ اس بارے کئی لوگ داستانیں مشہور ہیں۔ سری مقامی زبان میں اونچائی کو کہتے ہیں۔ اسی طرح پائے کا تعلق بھی لاہور کے پھجے پائے والے سے نہیں بلکہ اس پائے کا کوئی دوسرا مقام نہیں سے ہے یعنی کوئی مقابلہ نہیں۔ باقی آپ سمجھ دار ہیں سمجھ تو گئے ہوں گے۔

سری میں ہمارے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ جیب والوں کو کہنا تھا کہ اوپر پایا کی طرف اس سیزن میں کوئی جیپ نہیں گئی۔ اوپر کافی برف تھی۔ چاروں طرف حسین نظارے موجود تھے۔ ساتھ ہی ہلکی ہلکی بارش شروع ہوگئی۔

یہاں فاریسٹ والوں کا ہٹ تھا۔ سب اس کے شیڈ کے نیچے جمع ہوگئے۔ گروپ فوٹو اور قدرتی مناظر کی عکس بندی کے بعد کچھ دوستوں نے پیدل پایا جانے کا پروگرام بنایا۔ فیصلہ ہوا 6:10 تک جہاں پہنچ سکے ٹھیک پھر واپس افطاری کے لیے جمع ہوجائیں گے۔

سفر شروع کیا مگر چند منٹوں بعد ہی بارش نے سب کو واپسی پر مجبور کردیا۔

سری میں جیپ ڈرائیورز نے لکڑیاں جمع کرکے آگ لگا دی تھی۔ آگ کو دیکھ کر سب ایسے جمع ہوگئے جیسے شمع پر پروانے جمع ہوتے ہیں۔

لکڑیاں گیلی ہونے کی وجہ سے دھواں بہت زیادہ تھا۔ مگر سردی زیادہ ہونے کی وجہ سے کوئی آگ سے دور ہونے کو تیار نہ تھے۔

قریب ہی پاکستانی پرچم لہراتا نظر آیا۔ جس کے نیچے سب نے جمع ہوکر فلک شگاف پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔

اس خوبصورت جگہ پر پلاسٹک بوتل اور کچرا دیکھ کر دکھ ہوا۔ کچھ دوستوں نے اس پر وی لاگ کے لیے پیغام ریکارڈ کیا اور ہم نے فیصلہ کیا کہ افطاری کے بعد اپنا سب کچرا اور شاپر اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے۔

افطار کا وقت قریب تھا۔ گاڑیوں سے افطار کا سامان نکال کر تیاری شروع کردی گئی۔ طارق بھائی فروٹ کاٹنے لگے۔ اور سفیان بھائی نے پانی کی بوتل میں سوادش کی شربت گلاب ملا کر شربت تیار کرلیا۔ ہر شخص ہی مصروف تھا۔ اگر افطاری نہیں تو اس کی ویڈیو بنانے میں ضرور مصروف تھا۔

بارش جاری تھی۔ ٹھنڈ مزید بڑھ گئی۔ جلتی آگ سے دھواں نکل رہا تھا۔ ایک چھپڑ کے نیچے افطاری کا سامان لگا دیا گیا۔ سب نے مناجات کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے۔ اپنے رب سے دعائیں مانگ رہے تھے۔

سری کی خاموشی میں عمر ہشام بھائی کی آواز اللہ اکبر اللہ اکبر گھونجی۔ آذان کے ساتھ سب نے افطار شروع کردی۔

افطار میں فروٹ شربت کے ساتھ بریانی بھی تیار کرکے لائے تھے۔ بریانی کا پتیلا کھولا گیا۔ گرم گرم بریانی سامنے موجود تھی۔ سردی میں گرم بریانی کسی نعمت سے کم نہ تھی۔ مگر سردی کی وجہ سے انگلیاں کام نہیں کررہیں تھی۔ پلیٹ سے بریانی کا لقمہ بنانا مشکل ہورہا تھا۔

اندھیرا ہوچکا تھا۔ سامان سمیٹ کر واپس شوگراں کا سفر شروع کیا۔ مغرب عشاء ہوٹل میں ادا کی۔

کمروں میں پہنچ کر کچھ سکوں ہوا تو پھر ایک مرتبہ بھوک جاگ اٹھی۔ بریانی دوبارہ گرم کروا کر دسترخواں لگوایا۔ کھانے کے بعد گرما گرم چائے نے خوب مزہ دیا۔

رات کے 10 بج چکے تھے۔ سحری بھی بیدار ہونا تھا۔ اگلے روز ناران اور جھیل سیف الملوک بھی جانا تھا۔

سب دوستوں نے اپنے اپنے کمبل سنبھالے اور سونے کے لیے لیٹ گئے۔ کمبل تو سلانا چاہتا تھا مگر موبائل کی محبت میں نیند غائب تھی۔ اب کمرے کی لائیٹ بند کی تو منظر کچھ یوں تھا کہ کمبلوں میں سے نور نکلتا نظر آرہا تھا۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

منجمد سیف الملوک پر افطار کا خواب ۔۔۔ احمد ندیم اعوان

منجمد سیف الملوک پر افطاری کا خواب احمد ندیم اعوان (انڈس ایڈونچر کلب کے افطار …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: سری کی سردی میں افطار ۔۔۔ احمد ندیم اعوان! This is the link: https://pakbloggersforum.org/aftar-with-adventure-nadeem-awan/