صفحہ اول / عبدالواسع برکات / خواہش انسانی اور مشیت الہی

خواہش انسانی اور مشیت الہی

وہ گھبرو جوان تھا چوڑے چکلے سینے والا قد کاٹھ کے ساتھ جب چلتا تھا تو گمان ہوتا تھا کہ شیر کھچار سے نکلا ہے ۔ ہر وقت مسکرانا اور دوسروں کے چہروں پہ بھی خوشی سجائے رکھنا اس کی اداؤں میں شامل تھا۔ بچپن سے لڑکپن کا عرصہ کھیلتے کودتے گزر گئے جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا تو پاکستان میں پردیس کا بخار سر چڑھ کر بول رہا تھا اور اسی بخار میں اس کے گھر والے بھی بہہ گئے تو یہ گھبرو جوان سنہرے مستقبل کے سہانے خواب دیکھتا ہوا پردیس کی ہواؤں میں پہنچ گیا۔ وہاں پرنٹنگ کی فرم میں ملازمت شروع کی تو وہیں کا ہو کر رہ گیا پانچ سال پھر دس سال اسی دوران رب اس جوان کو خوشیاں بھی دکھاتا ہے شادی ہوتی ہے اور پھولوں جیسے دو بچے رب عطا کرتا ہے اس کو زندگی بہت حسیں لگنا شروع ہو جاتی ہے میرا رب اس جوان کو صابر رہنے کے لیے غموں سے بھی آشنا کرواتا ہے اس کے والدین کواپنی جنتوں کا مہمان بنا دیتا ہے اور ایک بھائی کو بھی اپنے پاس بلاتا لیتا ہے یہ خوشی غمی میں رب کا شاکر رہتا ہے اس کی حسین  زندگی کی گھڑیاں گزرتی ہوئی پچیس سال پہ آکر رک گئیں وہ اس طرح کہ شوگر نے اس کے پاؤں کو کھا لیا تھا اور پردیس کی تنہائیوں نے شوگر کو سر پہ چڑھا دیا تو کمپنی نے واپسی کا ٹکٹ تھما کر واپس بھیج دیا گیا۔ اور ڈاکٹروں کے فیصلے کے بعد اس گھبرو جوان کی ٹانگ کاٹ دی گئی۔ ہر دل غمگین تھا ہر آنکھ اشکبار تھی لیکن رب کے حکم پہ ہر لب صبر کا گیت گا رہا تھا۔ صبر کا پھل مصنوعی ٹانگ کی شکل میں ملا۔ پلاسٹک کی ٹانگ لگوا کر یہ چوڑے سینے والا شیر جوان پھر پردیس میں پہنچ جاتا ہے اور اپنی اولاد جو اب جوان ہو چکی ہے انکی شادی بیاہ کے منصوبے بناتا ان کے روشن مستقبل کی خاطر اپنی شریک حیات کے سکون کے لیے وہ سہانے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے کے لیے جو اس نے زندگی میں دیکھ رکھے تھے انکی خاطر دن رات محنت شروع کرتا ہے اور ایک بار پھر اپنے تن من دھن سے بے نیاز ہو کر کام کام اور کام میں مشغول ہو جاتا ہے زندگی کی صبحیںں اور راتیں گزرتی جاتی ہیں اس دوران اسکا بڑا بھائی اس کو دنیا میں چھوڑ کر رب کا مہمان بن جاتا ہے وہ یہ غم بھی دل میں پالتا ہے اور دن رات کی محنت بھی کرتا ہے لیکن کسی کو نہیں پتا کہ میرے رب کے فیصلے کیا ہیں میرے رب نے کیا لکھ رکھا ہے پہلی ٹانگ کے کٹنے کے پانچ چھ سال کے بعد ہی شوگر دوسرے پاؤں پہ اپنا رنگ دکھاتی ہے بیماری اور صحت دونوں میرے سوہنے رب کے اختیار میں ہیں انسان کے اختیار میں صبر و شکر ہے۔ ایک دفعہ پھر اس کی زندگی میں غموں کا سیلاب داخل ہوتا ہے پردیس کی ستم ظریفی اور تنہائیاں اس کو کھا چکی تھیں یہ وھیل چئیر پر بیٹھ کر پاکستان کی فضاؤں میں اترتا ہے تو دیکھنے والوں کے دل حلق کو آگئے ۔۔۔۔ کہاں گیا وہ چوڑے سینے والا جوان؟؟ کہاں کھو گیا وہ شیر ؟؟ وہ ہنستا مسکراتا چہرہ اب تکلیف و اذیت کا شکار تھا اس کا جسم ھڈیوں کا ڈھانچا اور پاؤں شوگر کے زخم کا شکار تھا پانچ سال بعد آج اس کی دوسری ٹانگ بھی کاٹ دی گئی ھر دل غم میں ڈوبا ھر آنکھ آنسوؤں سے تر تھی ھاتھ اپنے رب کے آگے اٹھائے ہوئے ایک ہی دعا کرتے رہے کہ ٹانگ بچ جائے لیکن زھر پورے جسم میں پھیلنے کا ڈر تھا یہ میرے رب کا اختیار ہے وہ غیب کا علم رکھتا ہے کہ کس کی دعا قبول کرنی ہے یا آخرت کے لیے رکھنی ہے۔ وہ بے نیاز ہے اس کی مرضی کا اسی کو علم ہے وہ کس کو آزمانا  چاہتا ہے ؟؟ کس کے صبر کا امتحان مقصود ہے اس کو کس کی اطاعت کو پرکھنا مقصود ہے یہ میرا رب ہی جانتا ہے اور یہ رب کے فیصلے ہم انسانوں کو جھنجھوڑتے بھی ہیں کہ اے ابن آدم! کن بھول بھلیوں میں زندگی گزار رہے ہو کس حسن پہ فخر ہے تم کو کس زور بازو پہ ناز کرتے ہو یہ تو تمہارے رب کے حکم کے ہابند ہیں وہ جب چاہے مضبوط و توانا جسموں کو لاغر و کمزور بنا دے وہ جب چاہے گھبرو جوانوں کو معذور کر دے یہ میرا رب جانتا ہے اس کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا انسان صرف صبر کر سکتا ہے اسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتا ہے اسی کے آگے سجدہ ریز ہو سکتا ہے رب کی مرضیاں رب ہی جانتا ہے۔ انسان ھر لمحہ اپنے رب سے جڑا رہے زندگی کا ھر سیکنڈ رب کی اطاعت میں گزرے یہ ہمارا جسم اور پوری کائنات ہمارے رب کے ایک حکم کے منتظر ہیں تو آئیے ہم بھی اسی کے تابعدار بن جائیں۔ اسی کی عبادت سے دامن بھر لیں اس سے پہلے کہ ہمارے لیے بھی رب کا کوئی حکم آ جائے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

پردہ اور ہماری معاشرتی اقدار ۔۔۔ عبداللہ صالح جتوئی

لفظ عورت کا معنی ڈھکی ہوئی یا چھپی ہوئی چیز ہے یعنی سر سے لے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: خواہش انسانی اور مشیت الہی! This is the link: https://pakbloggersforum.org/allah-s-will-and-human-wishes/