صفحہ اول / عبدالحمید صادق / "علامہ اقبال اور فلسفہ خودی”

"علامہ اقبال اور فلسفہ خودی”

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے صرف ایک معروف شاعر ہی نہیں تھے بلکہ مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم لیڈر اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔

ڈاکٹر صاحب کا شاعری میں بنیادی رجحان خودی طرف تھا۔ زندگی بھر ان کی یہی خواہش رہی کہ امت کو فلسفہ خودی سمجھا دیا جائے تو یہ امت کسی سے کم نہیں۔
علامہ محمد اقبال اپنی شاعری میں بارہا لفظ خودی کو استعمال کرتے ہوئے امت مسلمہ کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، علامہ صاحب امت مسلمہ کو خودی کی تعریف سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

خودی ہے زندہ تو ہے فقر میں شہنشاہی
ہے سنجرل و طغرل سے کم شکوہِ فقیر
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پر نیاں و حریر

کہیں فرماتے ہیں

خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ

کہیں یہ ظاہر کیا ہے کہ لاالہ الا اللہ کا اصل راز خودی ہے توحید، خودی کی تلوارکو آب دار بناتی ہے اور خودی، توحید کی محافظ ہے۔
بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ محمد اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
علامہ محمد اقبال کی دو معرکۃ الآرا نظمیں "شکوہ و جواب شکوہ” کا کوئی مقابل نہیں ، علامہ صاحب رب کے سامنے شکوہ پیش کرتے ہوئے حقیقت میں امت مسلمہ کو ان کا تابناک ماضی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ اپنا ماضی دیکھو کہ تم کتنے بڑے بڑے کارنامے سر انجام دیئے مگر اب تمہیں کیا ہو گیا کہ دنیا کی عیش و عشرت میں گم ہو کر رہ گئے ہو؟
نظم شکوہ میں علامہ صاحب فرماتے ہیں

ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مُصیبت کے لئے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لئے
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لئے
سر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لئے؟

ماضی یاد دلاتے ہوئے مزید فرماتے ہیں کہ

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے
تُجھ سے سرکش ہوا کوئی ، تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے

الغرض دونوں نظموں میں علامہ صاحبامت مسلمہ کے ضمیر کو جھنجوڑ کر یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ تمہارا تابناک ماضی تمہیں اس بات کی طرف بلا رہا ہے کہ دنیا کی عیش و عشرت سے نکل کر ایک اللہ کے بندے بن جاؤ۔

علامہ محمد اقبال کی شاعری کسی ایک طبقے کے لیے نہیں بلکہ ہر عمر اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے فرد کے لیے تھی۔
یوم اقبال کی مناسبت سے یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آج پاکستان میں اگر کوئی شخص ہے حقیقت میں علامہ محمد اقبال کے نقش قدم پر چلتے ھوئے ان کے فلسفہ خودی کو کو لوگوں تک پہنچانے میں جو اہم کردار ادا کیا ہے وہ علامہ اقبال سٹیمپ سوسائٹی کے صدر میاں ساجد علی صاحب کا ہے پچھلے دنوں ان کے ساتھ ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے اپنی اس لائبریری کا وزٹ کروایاجس میں انہوں نے علامہ محمد اقبال کے حوالے سے کثیرتعدادمیں کتابیں اور ان سے منسوب مختلف چیزیں جمع کی ہیں ان کے پاس علامہ محمد اقبال کےنام کی سٹیمپ میں دنیا کی سب سے بڑی کولیکشن موجود ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے اپنی لکھی ہوئی کچھ کتابوں کا بھی تعارف کروایا اور تحفتاً مجھے بھی دیں۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم):ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!! بقلم: جویریہ بتول

محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم):ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!! بقلم:(جویریہ بتول۔ انسانیت کے اصول سے انسان ہی …

محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)۔۔۔ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!!! تحریر: مریم بتول

عالمگیر نبوت کا فرض لیے،ختم نبوت کا تاج سجائے،پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: "علامہ اقبال اور فلسفہ خودی"! This is the link: https://pakbloggersforum.org/allama-iqbal-or-falsfa-khudi/