صفحہ اول / حامدالمجید / الو اور چمگادڑ

الو اور چمگادڑ

سورج چاند کو آسمان کے تخت پہ مدعو کر کے خود غروب ہوچکا تھا چاند کے آتے ہی اس کے شاہی غلام ستارے قطار در قطار سر جھکائے اس کے گرد ہالہ بنائے کھڑے تھے۔۔۔۔

سمندر کی اٹکھیلیاں کرتی لہروں پہ چاند کی چاندنی چھم چھم رقص کناں تھی جو ساحل سمندر کے ایک گھنے درخت کی شاخ پہ بیٹھے الو کو فرحت بخش رہی تھی۔۔۔
جو آنکھیں کھولے بڑے غور سے اس منظر کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
اچانک ساتھ والی شاخ پے بیٹھی چمگادڑ نے اس کی دلجمعی کو توڑا۔۔۔
بالکل ایسے جیسے یوٹیوب کی وڈیو میں آنے والا پانچ سیکنڈ کا وقفہ۔۔
ارے الو میاں کہاں مست ہو! چاند کو کم گھورا کرو وہ بھی تیری منحوس آنکھوں کا شکار نا ہوجائے۔۔
الو نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا "میں منحوس نہیں ہوں اور کوئی بھی چیز منحوس نہیں ہوتی اگر اس میں ایک خامی ہو تو کئی خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔ جس کی جیسی سوچ ویسی نظر”
الو میاں! جو مرضی کہہ لیں الو تو الو ہی ہوتا ہے اور مجھے اتنا گیان دینے کی ضرورت نہیں چمگادڑ نے اس کی نصیحت کو ایسے ہی ایک کان سے دوسرے کان کی راہ نکالا جیسے شاگرد استاد کی باتوں کو نکالتے ہیں۔۔۔
الو کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ چمگادڑ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
دماغ اور آنکھیں بڑی ہونے سے کچھ نہیں ہوتا جیسے بھینس کا دماغ تو بڑا ہوتا ہے پر ہوتا خالی ہے۔۔۔۔
چمگادڑ اب اس کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی اور الو کی غصے سے نکلنے والی ہوووں ہوووں آسانی سے سن رہی تھی۔۔۔
سنو ہم نہیں تمہیں سب ہی الو کہتے ہیں عقل رکھنے والے انسان بھی تمہیں الو ہی کہتے ہیں۔۔
نہیں جی انسان مجھے الو نہیں کہتے میں نہیں مانتا ارےےےے الو میاں تیرے ماننے یا نہ ماننے سے کچھ نہیں ہوتا میں تمہیں بتاتی ہوں ابھی کل ہی میں ایک گاؤں میں گھوم پھر رہی تھی کہ ایک گھر سے آنے والی اونچی اونچی آوازوں نے مجھے متوجہ کیا میں وہاں پہنچی تو دیکھا ایک صنف نازک اپنے معصوم بھولے بھالے خاوند پہ تعریفوں کے پھول برسا رہی تھی۔۔۔
"کوئی کام نہیں ہوتا ڈھنگ سے سارا دن سوئے رہتے ہیں بڑے منہ والے الو کی طرح۔۔۔ یہ نہیں کہ بیگم کے ساتھ کاموں میں ہاتھ بٹا دوں کپڑے دھلوا دوں, برتن مانج دوں, دو ہی تو کام کرتے آپ دن بھر ایک "سونا” اور "رات بھر موبائل” کی اسکرین پہ اپنی موٹی موٹی آنکھیں جمائے رکھنا جیسے زنگر برگر کے پارٹنر ہوں۔۔۔
بسس کر دو! میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ وہ مجھے الو نہیں کہتے بلکہ "انسان” انسان کو ہی الو کہتے ہیں اس میں میرا کچھ نہیں جاتا الو نے چمگادڑ کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا اور تم زیادہ خوش نہ ہو جو لڑکیاں ہر وقت موبائل پہ انگلیاں دوڑاتی رہتی ہیں انہیں یہی طعنہ ملتا ہے "چمگادڑ” کی طرح ہر وقت اس سے چپکی رہتی ہو گھر کی حالت دیکھی ہے اس سے بہتر تو کسی کباڑیے کی دکان ہوتی ہے۔۔۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم):ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!! بقلم: جویریہ بتول

محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم):ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!! بقلم:(جویریہ بتول۔ انسانیت کے اصول سے انسان ہی …

محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)۔۔۔ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!!! تحریر: مریم بتول

عالمگیر نبوت کا فرض لیے،ختم نبوت کا تاج سجائے،پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: الو اور چمگادڑ! This is the link: https://pakbloggersforum.org/an-owl-and-a-bat/