صفحہ اول / اسلامک بلاگز / شان حسنین کریمین رضی اللہ عنہما (قسط: 2) ۔۔۔  سعدیہ خورشید

شان حسنین کریمین رضی اللہ عنہما (قسط: 2) ۔۔۔  سعدیہ خورشید

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"اللہ کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لاتے ہیں
حسن ابن علی، آپ ﷺ کے کندھے مبارک پر تشریف فرما ہیں اور ان کا لعاب آپ ﷺ کے کندھے پر بہہ رہا تھا۔”

کیسا خوبصورت منظر ہے۔۔۔!!
جس کو رب تعالیٰ نے دونوں جہانوں کا سردار قرار دیا اس کے کندھے پر جس کا لعاب گرتا رہا ہوگا وہ بھی کتنا عظیم ہوگا۔

جناب حسن رضی اللہ عنہ سینہ مبارک پر پیشاب کردیتے ہیں۔
صحابہ پکڑنے کے لئے دوڑتے چلے آتے ہیں
فرمایا: رہنے دو، کوئی بات نہیں میرا بیٹا ہے۔۔۔ اس جگہ پر پانی بہا دیتے ہیں

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جناب حسنین کریمین کا کسی بھی وقت آنا ناگوار نہ گزرتا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ان شہزادوں کو دیکھ کر ہنستے، مسکراتے اور خوش ہوا کرتے تھے۔

جن کی وجہ سے خوش ہوا کرتے تھے، ان کی وجہ سے ہی ایک دن کالی کملی والے میرے آقا رونے لگے۔
زار و قطار روتے چلے جاتے ہیں
دونوں جہانوں کے سردار کی آنکھیں آنسو بہاتی چلی جاتی ہیں۔

سیدنا علی پوچھتے ہیں
میرے ماں باپ آپ پر قربان…!!
آقا کیا ہوا۔۔۔؟
فرمایا: جبرئیل علیہ السلام مجھے خبر دے کے گئے ہیں کہ حسین کو فرات کے کنارے قتل کردیا جائے گا۔ اور کہا: اپ چاہیں تو آپ کو وہاں کی مٹی سونگھا سکتا ہوں۔۔۔
فرمایا؛ ہاں! جبرئیل ہاتھ بڑھاتے ہیں اور مٹھی بھر مٹی مجھے پکڑا دیتے ہیں۔
اسی وجہ سے آنکھوں پر قابو نہ پاسکا اور آنسو بہہ نکلے۔

اس ضمن میں کئی احادیث میری نظروں کے سامنے سے گزرتی چلی جاتی ہیں۔۔

میرے آقا روتے چلے جاتے ہیں

اپنے شہزادے کے قتل ہونے کی خبر سن کر کیوں نہ روتے… !!

آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو جاتے ہیں کہ کالی کملی والے آقا کو ان بد بختوں کی وجہ سے تکلیف پہنچی۔۔۔

منظر بدلتا ہے۔۔۔۔!!!

حضرت حسن، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کر کے کوفہ چھوڑ دیتے ہیں۔۔
اور بنی ہاشم سمیت مدینہ طیبہ میں قیام پذیر ہو جاتے ہیں

زندگی کے 47 سال گزارنے کے بعد آپ کی موت کا وقت آ جاتا ہے ۔۔۔
آپ رضی اللہ عنہ کو اہلِ غدر زہر دے دیتے ہیں۔۔
نبی کے نواسے کی تکلیف بڑھتی جاتی ہے۔۔۔
شدید گھبراہٹ محسوس ہونے لگتی یے
کہنے والے نے کہا اے ابو محمد۔۔۔!!!
یہ گھبراہٹ کیسی۔۔۔؟؟
یہ تکلیف کیسی۔۔۔؟؟
ابھی جسم سے روح جدا ہو جائے گی تو سامنے
اپنے نانا جناب رسول اللہ ﷺ، اپنے والدین( علی و فاطمہ)، اپنی نانی خدیجہ، اپنے ماموں، اپنے چچا، اپنی خالائوں کو سامنے پائیں گے۔۔۔
یہ سنتے ہی تکلیف دور ہو جاتی ہے، گھبراہٹ ختم ہو جاتی ہے۔

جنازے کا وقت آتا ہے۔۔۔
اہلِ علم اور نیک لوگوں کے جنازے میں ہزاروں، لاکھوں افراد جمع ہوتے ہیں۔
لیکن!
یہ جنازہ تو فاطمہ کے لخت جگر کا ہے
یہ جنازہ تو آقائے کائنات کے شہزادے کا ہے
جہاں تک نگاہ جاتی ہے لوگ ہی لوگ نظر آتے ہیں
یوں محسوس ہوتا کہ لوگوں کا وسیع سمندر یہاں امڈ آیا ہے۔
مدینہ اپنی بے انتہا وسعتوں کے باوجود تنگئ داماں کا شکار ہوجاتا ہے۔۔۔

منظر ایک بار پھر بدلتا ہے۔۔۔۔!!!

جناب رسالت مآب کی پیشینگوئی کا وقت ہوا چاہتا ہے
کوفی آپکو خطوط بھیج کے بلاتے ہیں
جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں سمیت جاتے ہیں

کوفہ پہنچتے ہیں کہ کوفی اپنی باتوں سے مکر جاتے ہیں
اور آپ ابن زیاد کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہوجاتے ہیں۔۔

وہ وقت آگیا جس کی وجہ سے سید المرسلین کی عیون سے زاروقطار آنسو مبارک نکلے تھے

وہ لمحہ آن پہنچا جس کی وجہ سے پھول سا چہرہ بھی مر جھا گیا تھا

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اس واقعہ کی خبر پہنچتی ہے تو فرماتی ہیں:

"کیا انہوں نے ایسا کیا ہے۔۔۔؟
اللہ تعالیٰ ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے! یہ کہہ کر بیہوش ہو جاتی ہیں”

فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جگر گوشے کی شہادت پر جِن بھی رونے لگتے ہیں۔۔
ابن مرجانہ اس چہرے پر لاٹھی مارتا ہے جو نبی ﷺ کے مشابہ تھا
جس چہرے پر سرور کونین کے لب مبارک لگتے رہے۔۔ !!

ابن مرجانہ پر تا قیامت لعنت برستی رہے گی

ڈنکے کی چوٹ پہ ظالم کو برا کہتی ہوں

ہر اس شخص پر لعنت ہے جس کا سیدنا و محبوبنا و امامنا الحسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت میں کسی قسم کا حصہ تھا
یا الٰہی۔۔۔۔!! ہمارے دلوں کو اہلِ بیت کی محبت سے منور فرما اور روز قیامت ہمیں ان کے ساتھ اٹھانا ۔۔۔ ( آمین)

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: شان حسنین کریمین رضی اللہ عنہما (قسط: 2) ۔۔۔  سعدیہ خورشید! This is the link: https://pakbloggersforum.org/attribute-to-hasnain-the-exalted-people/