صفحہ اول / اسلامک بلاگز / شانِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما ۔۔۔ (قسط: 1) تحریر: سعدیہ بنت خورشید

شانِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما ۔۔۔ (قسط: 1) تحریر: سعدیہ بنت خورشید

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:-

"جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو انکا نام حمزہ رکھا اور جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو انکا نام چچا کے نام پر جعفر رکھا۔
مجھے رسول اللہﷺ نے بلایا اور فرمایا: مجھے یہ دونوں نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے پس آپ علیہ السلام نے ان دونوں کا نام حسن و حسین رضی اللہ عنہما رکھا”

یہ حدیث مبارکہ میری نظر سے گزری تو مجھے انتہائی تجسس ہوا کہ جن کے نام عرشِ بریں سے منتخب ہو کر آئے ہوں انکی شان کیا ہوگی۔ میں جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسوں کی شان کے بارے مزید پڑھنے کے لیے کتب احادیث کھولتی ہوں۔ صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ، باب مناقب الحسن و الحسین میرے سامنے آتا ہے۔
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں، میرے ماں باپ ان پر فدا ہوں یہ نبی کریمﷺ کے مشابہ ہیں۔ حضرت علی سے انکی شباہت نہیں ملتی اور سیدنا علی زبان صدیق سے یہ کلمات سن کر ہنس رہے تھے۔”

سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"جو چاہے کہ گردن، چہرہ اور بالوں کے لحاظ سے رسول اللہﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ کسی کو دیکھے تو وہ حسن کو دیکھ لے اور جو چاہے کہ گردن سے ٹخنوں تک رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ کسی کو دیکھے تو وہ حسین کو دیکھ لے.”

سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے دونوں بیٹے سرور کائناتﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔ اور میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود سے مشابہت رکھنے والے ان دو بچوں سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آپکے کندھے پر سوار ہوتے ہیں تو سرور کونین فرماتے ہیں
"یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اس سے محبت فرما”

لپٹتا ، چمٹتا کبھی گود میں گرتا

یہ تو پھول تھا جو آغوش رسالت میں نکھرتا

حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی شان کے کیا کہنے:

میرے آقا ﷺ اکثر انکو اپنے مبارک کندھوں پر بٹھاتے
اور آپ ﷺ فرماتے "یہ سردار ہیں”
” حسن و حسین میرے پھول ہیں.”
"حسن و حسین شہزادے ہیں۔”

میں کتبِ احادیث کے سنہری اوراق کو پلٹتی جاتی ہوں، پڑھتی جاتی ہوں کہ صحیح سنن الترمذی کی ایک حدیث سامنے آتی یے:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ دعوت پر جاتے ہیں۔ کیا دیکھتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ گلی میں کھیل رہے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مبارک ہاتھوں کو فرط محبت سے اگے بڑھا کر پھیلا لیتے ہیں اور انکو صدرِ اطہر کے ساتھ لگا لیتے ہیں۔ علی کے لخت جگر کے چہرے پہ جناب رسالت مآب کے لب مبارک لگتے ہیں اور میرے آقا ﷺکی زبان سے پھول جھڑنے لگتے ہیں: حسین مجھ سے ہے، میں حسین سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔”

"حسین منی و أنا من حسین”
(حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں)

حدیث مبارکہ کے اس جملہ کو میں بار بار دہراتی جاتی ہوں ” حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں” کہ شاید مجھ پر رحمۃ للعالمین کے کہے ہوئے اس جملے کا مطلب واضح ہو جائے۔
بار بار غور کرنے پر بات سمجھ میں آئی کہ جیسے عموماً جس سے محبت کی جاتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ تم میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
بالکل یہی مراد میرے حضور ﷺ کی ہے کہ ہے حسین مجھ سے ہے۔ یعنی کہ حسین میرا جزو ہے، حسین میرا حصہ ہے، بلاشبہ مجھ میں اور حسین میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اس حدیثِ مبارکہ کا معنیٰ و مطلب واضح ہوجانے پر فرط محبت سے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے کہ پوری کائنات کے سردار فرما رہے ہیں

"احب اللہ من أحب حسینا”
وہ کتنا عظیم شخص ہوگا جو فاطمہ کے بیٹے سے محبت کرکے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی دعا کا حقدار ٹھہرا ہوگا۔
(اللھم اجعل منھم)

حضرت محمد کریم ﷺ نے دس صحابہ کرام کو ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دے دی۔
ابوبکر فی الجنہ
عمر فی الجنہ
عثمان فی الجنہ
(الخ۔۔۔۔۔!!!)

لیکن میں قربان جاؤں جب باری شہزادوں کی آئی تو مقام بڑھ گیا، زاویہ نگاہ بدل گیا
صرف اسی پر بس نہیں کہ حسن و حسین جنتی ہیں
بلکہ فرمایا:

"حسن و حسین جنتیوں کے سردار ہیں.”
ان شہزادوں کی عظمت و رفعت، شان و مقام، بلند مرتبے پر میرے باپ قربان ۔۔ !!
(جاری ہے)

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: شانِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما ۔۔۔ (قسط: 1) تحریر: سعدیہ بنت خورشید! This is the link: https://pakbloggersforum.org/attributes-of-hasnainthe-exalted-people/