چکڑ چھولے

صبح سری پائے کا ناشتہ کرنے کے بعد لاہور شہر کی سیر کرنا سرے پائے ہضم کرنے کا بہترین فارمولا ہے،” پشور” سے آئے ہوئے ہمارے دوست ہوشمند خان کو ہمارا یہ فارمولا بہت پسند آیا, آپ میں سے اگر کسی کو ہمارا یہ فارمولا پسند آیا ہو تو وہ بہ ہوش و حواس ہوشمند خان کو اپنا اتا پتا لکھوا سکتا ہے۔

پشور سے آئے ہوئے ہوشمند خان کو لاہور کی سیر کرانا بہت ضروری تھا اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ”جمیا نئیں سی” بس ویسے ہی اسے لاہور سے پیار تھا۔لاہور پھر لاہور ہے جو یہاں آتا ہے وہ سیر تو کرتا ہے۔
ہوشمند خان سری پائے کھانے کا بہت شوقین ہے وہ شوق کی تسکین کے لئے لاہور آیا۔ جیب سے نسوار نکال کر اس کی گولی بناتے ہوئے اس نے کہا "یرا پشور میں وڈا پاوا ملتا ہےچھوٹا پاوا نئیں ملتا”. ساتھ ہی اس نے نسوار کی گولی منہ میں رکھ لی۔
ہم نے ہوشمند خان کی شوقین مزاجی کو دیکھتے ہوئے اول درجے کے سرے پائے لیے تاکہ مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ رہ جائے اور شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔ جس شخص کو من پسند چیز اپنی من مرضی کی نہ ملے تو اس کا مزہ ختم ہو جاتاہے اور وہ کھانے سے ہاتھ روک لیتا ہے۔مہمان کا کھانے سے ہاتھ روکنا میزبان کے لئے بہت بڑی شرمندگی ہے۔
ہوشمند خان کو سری پائے کا سالن بہت پسند آیا۔ سری پائے کھانے کے بعد اس نے تعریفوں کے پل باندھ دیے، اتنے پل باندھنے سے بہتر تھا کہ ایک کالا باغ ڈیم بنوا دیتا کم از کم قوم کا تو بھلا ہوجاتا۔
میرے کسی پیارے بھائی کے ذہن میں ایک خیال آیا ہے کہ یہ اول درجے کے پائے کیا ہوتے ہیں؟ پائے تو پائے ہوتے ہیں بس، اس میں اول دوئم سوئم کیا ہوا!
بھائی جان بات تو آپ کی ٹھیک ہے کہ پائے پائے ہوتے ہیں چاہے وہ پائے کے نہ ہوں مگر ایک بات یاد رکھنا کہ پائے کے پائے ڈھونڈھ کر لاناجان جوکھوں کا کام ہے کیونکہ صرف اگلے پائے کوئی قصائی نہیں دیتا جب تک پچھلے ساتھ شامل نہ کرے۔
بس یہی وجہ تھی کہ ہوشمند خان تعریفوں کے پل باندھے بغیر نہ رہ سکا۔ مرچ مصالحے تو وہی تھے جو سب لوگ ڈالتے ہیں مگر ذائقہ اللہ کی طرف سے ہے جو وہ کسی کسی کے ہاتھ میں ڈالتا ہے۔
میٹرو بس پر سوار ہو کر آزادی چوک اسٹیشن پر اترے، راستے میں دوران سفر ہوشمند خان کچھ پریشان سا دکھائی دیا، سبب پوچھنے پر کہنے لگا کہ خوش نصیب ہو تم لہوری لوگ کہ 30 روپے میں مشرق سے مغرب تک سفر کرتے ہو۔
حیران ہو کر پوچھا بھئی گجومتہ سے شاہدرہ تک کے سفر کو مشرق سے مغرب تک جوڑ دیا، کہنے لگا! یرا تم بھی نادان ہو یہ ہم مشرق سے مغرب کو ہی آئے ہیں ناں، شمال سے جنوب کی طرف تو نہیں گئے ساتھ اس نے نہلے پہ دہلا مارا اور کہا کہ لگتا ہے تم بھی کھوتا کڑاہی کھاتا رہا ہے یہ سن کر مجبوراً ہاں میں ہاں ملانی پڑی۔ شکر ہے اس نے ڈڈو فرائی کا تذکرہ نہیں چھیڑا۔
ویسے ہوشمند خان کو کچھ یہ بھی جلن تھی کہ ہمارے پشور میں ابھی تک میٹرو بس کھڈوں میں ہچکولے کھا رہی ہے،. پرویز خٹک پہلوان نے ایسا آغاز کیا کہ اختتام ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی، لگتا ہے یہ والے پانچ سال بھی یہ منصوبہ کھا جائے گا اور میٹرو بس کھڈوں میں ہی رہے گی۔
ہم نے یہ کیسے محسوس کیا؟
ہم بتاتے ہیں آپ کو!
ہوا یوں کہ ہوشمند خان کو جب جلن ہو رہی تھی تو اس کے چہرے پر دھوئیں کے بادل منڈلاتے نظر آ رہے تھے، ہم نے تو لاکھ لاکھ شکر کیا کہ وہ برسے نہیں۔
ہمارا خیال ہے کہ ہم نے آپ کو بتا دیا تھا کہ ہم آزادی چوک میٹرو اسٹیشن پر اتر گئے تھے، یاد آیا آپ کو!
ہوشمند خان کو شاہی قلعہ دیکھنے کا بہت شوق تھا اس نے تاریخ پڑھی تو نہیں ہے لیکن اس کو تاریخ دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ اس لیے ہم مہمان نوازی کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کو شاہی قلعے لے گئے۔
اقبالیات سے اسے اتنا ہی شوق ہے جتنا کسی بچے کو پیزے یا برگر سے ہوتا ہے۔ بہرحال ہوشمند خان نے ہمیں علامہ اقبال صاحب کاایک شعر سنایا۔

"مخبت مجھے ان جوانوں سے ہے”
"ستاروں پہ جو ڈالتا ہے کمند”

یہ شعر ہوشمند خان نے ہمیں ایسے ہی سنایا ہے جیسا ہم نے آپ کو دکھایا ہے، محبت کو مخبت اور ڈالتے ہیں کو ڈالتا ہے پڑھا۔ ہم نے باقاعدہ اس سے پوچھا بھی کہ بھئی یہ شعر پشتو میں پڑھا ہے یا اردو میں۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ہم نے منہ دوسری طرف کر لیا، دوسری طرف منہ کرنے سے تیسرا دروازہ کچھ یوں کھلا کہ ایک دیہاتی نے ہوشمند خان سے پوچھا یہ کس کا گھر ہے، ہوشمند خان نے اس کو بتایا کہ یہ مغلوں کا گھر تھا، دیہاتی کہنے لگا پھر تو زرداری اور نواز شریف خوامخواہ کے بدنام ہیں۔
شاہی قلعے کی سیر سے ہاضمے نے خوب وفا کی اور صبح کے کھائے ہوئے سری پائے رگڑ مگڑ کے فارغ کر دیے تھے پیٹ میں چوہوں کے ناچنے سے پہلے پہلے ہی ہم شاہی قلعے سے باہر نکل آئے۔
ہوشمند خان کے چہرے پر بھی بھوک کے آثار،اثار قدیمہ بن کر ابھرنے شروع ہو گئے تھے۔
ہوشمند خان سے پوچھا کہ وہ اپنی مرضی سے بتائے کیا کھانا چاہتا ہے تاکہ اس حساب سے منصوبہ بندی کی جائے۔ ہوشمند خان کہنے لگا کہ گوشت ہم نئیں کھائے گا ماسوائے گھر کے وہ بھی اگر کسی مسلمان قصائی سے لایا گیا ہوا تو، کیونکہ لہور میں لہوریوں نے کھوتے کھا کھا کر اپنی عقلوں کا مت مار لیا ہے اب ہم نہیں چاہتا کہ ہمارا بھی مت وج جائے، سی فوڈ بھی ہم کو پسند نئیں ہے کیونکہ کچھوا کڑاہی اور ڈڈو فرائی کا اندیشہ آج کل بہت زیادہ ہے، بس اگر کہیں سے دال سبزی مل جائے تو خوب رہے گا اور ہم پیٹ بھر کر کھائے گا۔
دوران گفتگو ہماری نظر ایک ریڑھی پر پڑی جس نے چکڑ چھولے لگائے ہوئے تھے، ہم نے ہوشمند خان سے کہا کہ آج اسے ایک نئی ڈش کھلاتےہیں، ہوشمند خان نے جواب میں کہا کہ او یرا ہم تمہارا مہمان ہے نئی ڈش کھلاؤ یا پرانا ڈش کھلاؤ جوکچھ بھی کھلانا ہے جلدی سے کھلاؤ بڑا بھوک لگی ہے۔
ہم نے کہا تمہیں چکڑ چھولے کھلاتے ہیں، بس اتنا سننا تھا کہ ہوشمند خان کے ہوش اڑ گئے، ہمیں پریشانی لاحق ہو گئی کہ یہ اچانک ہوشمند خان کو کیا ہو گیا۔
کہنے لگا اوئے یرا مجھے اتنا اندازہ نہیں تھا کہ کبھی تم بھی اتنے کمینہ ہو جاؤ گے۔ اسی غصے میں اس نے نسوار کی گولی دائیں رکھی نہ بائیں رکھی بلکہ اوپر کے جبڑے میں ٹھونس لی۔
ہم نے کمینہ ہونے کی وجہ پوچھی؟
کہنے لگا تم مہمانوں کے ساتھ ایسا بھی مذاخ کر لیتے ہو ۔ارے بھئی یہ املا کی غلطی نہیں بلکہ مذاق کو مذاخ ہوشمند خان نے بنایا ہے۔
ہم نے پوچھا کیسا مذاق؟
کہنے لگا مہمان نوازی سے تنگ آ کر تم کمینگی پر اتر آیا ہے اور اب تم ہم کو چکڑ کھلائے گا۔ساتھ ہی اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا اور ابکایاں لینے لگا جیسے اس کا دل خراب ہو رہا ہو۔ ہم تو اپنے منہ سے نکلے ہوئے چند بولوں کی وجہ سے عالم پریشانی میں گم ہوگئے اور سوچنے لگے کہ یا خدا یہ ماجرہ کیا ہے!
ہوشمند خان کے ہوش ٹھکانے لگے تو اس سے پوچھا بھئی سناؤ اب طبیعت کیسی ہے، کہنے لگا یرا بس بہت ہو گیا اب تم ہمارے ساتھ بھلا کرو اور ہم کو پشور والا بس پہ بٹھاؤ اور چکڑ سے ہماری جان چھڑاؤ ہم کوئی چکڑ مکڑ نہیں کھائے گا۔ہم نے روزہ رکھ لیا ہے۔
ہم نے کہا بھائی ہم آپ کو کون سا چکڑ کھلا رہا ہے اور آپ کیوں چکڑ کھائیں گے۔ ہم نے چکڑ چھولے کی بات کی ہے جو لاہور کی ایک خاص چنا ڈش ہے۔
ہوشمند خان یک دم چوکنا ہوا اور بولا، خوچہ یہ چنا ہوتا ہے۔
ہم نے کہا ہاں یہ چنا ہوتا ہے۔
کہنے لگا تم نے چکڑ کہہ کر ہمارا دل خراب کر دیا خوچہ بتاؤ تو سہی کہ یہ چنا ہوتا ہے۔
ہم نے پھر ہوشمند خان کو بتایا کہ یہ چنا ہوتا ہے اور بغیر کسی لمبے چوڑے مصالحوں کے بغیر تیل گھی کے کالی مرچ کے ساتھ تیار کیا جاتاہے یہ ہندوؤں کی من پسند ڈش ہے اور تب سے چلتی آ رہی ہے اور اب ہندوؤں کے لاہور سے جانے کے بعد یہاں کے مسلمان تیار کرتے ہیں اور یہ ایک مزیدار ڈش ہے۔
یہاں اس نے ایک مسئلہ کھڑا کر دیا کہ ہم تو مسلمان ہے اور ہم ہندو کی ڈش کبھی نئیں کھائے گا۔ ہوشمند خان کا یوں ایک نیا فتنہ کھڑا کرنا ہمارے لئے باعث پریشانی بن گیا۔
پھر ہم نے ایک ترکیب لڑائی کہ یہ پٹھان ہے اس کے ساتھ پٹھان بن کر پیش آؤ ہم اسے اسی ریڑھی پر لے گئے جہاں چکڑ چھولے بک رہے تھے اور چند لوگ ریڑھی کے ارد گرد کھڑے اور کچھ لکڑی کے بینچوں پر بیٹھ کر چکڑ چھولے کھا رہے تھے۔
ہم نے ریڑھی والے سےکہا کہ دو پلیٹ چنے کی اور ساتھ گرم گرم نان دے دو، ہوشمند خان نے چکڑ چھولے ایسے کھائے جیسے کوئی پٹھان دنبے کی کڑاہی کھاتا ہے اوپر سے اس نے ست بھری نسوار کی چٹکی منہ میں رکھی اور کہنے لگا اچھا ہوا تو تم نے ہم کو چکڑ نئیں کھلایا ورنہ ہم تو مر جاتا۔
ہم نے ہوشمند خان سے دست بستہ عرض کی کہ ہم نے چکڑ کا تو نام ہی نہیں لیا بلکہ ہم نے تو چکڑ چھولے کا نام لیا تھا۔
ہوشمند خان نے کہا!
میں بھی تو وہی کہہ رہا ہوں!

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: چکڑ چھولے! This is the link: https://pakbloggersforum.org/chikad-cholay/