صفحہ اول / عبداللہ گِل / عالمی بچوں کا دن اور کشمیری بچے

عالمی بچوں کا دن اور کشمیری بچے

آج چونکہ عالمی دن ہے بچوں کا اس حوالے سے لکھنے کا ذہن میں اک خیال آیا۔جیسے ہی سوچا تو میرا ذہن کشمیری بچوں کی طرف گیا۔کشمیری معصوم بچوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔کشمیر میں کرفیو کو تقریبا 4 ماہ ہونے والے ہیں۔کشمیریوں کو خوبصورت جیل میں رکھا گیا ہے جس میں خوراک، ادویات ،تعلیم اور دیگر نظام زندگی کو تباہ کر دیا ہے بھارتی افواج نے۔حالیہ دنوں میں بھارتی حکومت نے ایک نیا کام شروع کیا ہے اب بچوں کو غائب کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ گیارہ سال سے کم عمر بچے مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا چالیس فیصد ہیں۔ بچوں کی بڑھتی ہوئی گرفتاریوں کے پیش نظر بھارتی سپریم کورٹ میں ایک پیٹیشن بھی دائر ہوئی ہے درخواست گذار نے موقف اختیار کیا ہے بعض گرفتار ہونے والے بچوں کی عمریں دس سال سے بھی کم ہیں۔ زیر حراست بچوں کی اموات کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ درخواست گذار نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر عدالت سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے گرفتار بچوں کی رہائی اور درست تعداد بتانے کی درخواست کی ہے۔یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ان اقدامات کے بعد اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ جس نسل کشی کا خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے وہ اس لاک ڈاؤن میں شروع ہو چکی ہے۔ ایک طرف طبی سہولیات کی عدم دستیابی سے اموات ہو رہی ہیں، بدترین تشدد کی وجہ سے لوگوں کی زندگی ختم ہو رہی ہے۔ جوانوں کو غائب کیا جا رہا تھا تو اب بچوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ یعنی بھارتی حکومت باقاعدہ منصوبہ بندی حکمت عملی کے تحت ہر وہ کام کر رہی ہے جس سے مسلمانوں کو ختم کیا جا سکے۔ آبادی کا توازن بگاڑا جا سکے اور مقبوضہ وادی میں اپنے لیے سازگار حالات پیدا کیے جا سکیں۔ دنیا کی تاریخ میں دس سال سے کم عمر بچوں کی مذہبی بنیادوں پر گرفتاری کی کوئی مثال شاید ہی ملتی ہو لیکن مقبوضہ کشمیر میں یہ ظلم بھی ہو رہا ہے۔ زیر حراست بچوں پر ہونے والے مظالم کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ جہاں سرعام تشدد کیا جائے، خواتین کی عصمت دری کی جائے، مساجد کو بند کر دیا جائے، ماتمی جلوسوں پر دھاوا بولا جائے وہاں بچے گرفتار کیے جائیں گے تو ان سے اچھے سلوک کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ لاک ڈاؤن میں طاقت کے زور پر ظلم کی نئی داستان رقم ہو رہی ہے۔ ان والدین کا حال کیا ہو گا جن کے معصوم بچوں کو بھارتی درندے اٹھا کر لے گئے ہوں۔دس سال سے کم عمر بچوں کی گرفتاری کی خبر آئی ہے۔دس سال کا بچہ تقریبا ساتویں کلاس میں ہوتا ہے۔وہ سال جس میں وہ مکمل طور پر واقف بھئ نہی ہوتا اپنے گردونواح سے یہ ظالم اس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بچہ جو ہے دہشت گرد ہے۔دہشت گرد مگر کیسے ؟؟؟؟؟؟
کیا اس کا یہ نعرہ لگانا
” لے کے رہے گے آزادی ہے
ہے مقصد ہمارا آزادی،
ہے حق ہمارا آزادی۔”
یہ بین الاقوامی قانون بھی یہ کہتا ہے کہ آزادی کے لیے احتجاج کرنا درست ہے۔اچھا جی چونکہ آج عالمی دن ہے بچوں کا تو آج بہت واویلا ہو گا کہ بچوں کو تشدد کا نشانہ نہ بنائے
"مار نہیں پیار ” محبت سے پیش آئے۔ان کے اخلاق کو بلند کرے ۔ان کو بہتر تعلیم دے۔لیکن جو بھارت ادھر کشمیر میں 4 ماہ سے ان بچوں کو سکولز جانے سے روکے ہوئے ان کا تعلیم حاصل کرنے کا خواب درھم برھم کر رہا ہے۔ان کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے اس سے کوئی نہیں پوچھتا ؟
شاعر نقشہ کھینچتا ہے ؛-
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر!
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر!

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: عالمی بچوں کا دن اور کشمیری بچے! This is the link: https://pakbloggersforum.org/childrenday-and-kashmiri-children/