صفحہ اول / تہذیب و ثقافت / جرائم سے پاک پاکستان ۔۔۔ عاصم مجید

جرائم سے پاک پاکستان ۔۔۔ عاصم مجید

کل یا عرینہ ( قبیلوں ) کے کچھ لوگ مدینہ میں آئے اور بیمار ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لقاح ( جگہ کا نام) میں جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہاں اونٹیوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ چنانچہ وہ لقاح چلے گئے اور جب ٹھیک ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو شہید کر کے، جانوروں کو ہانک کر لے گئے۔ علی الصبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( اس واقعہ کی ) خبر آئی۔ تو آپ نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے۔ دن چڑھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ کر لائے گئے۔ آپ کے حکم کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیر دی گئیں اور ( مدینہ کی ) پتھریلی زمین میں ڈال دئیے گئے۔ ( پیاس کی شدت سے ) وہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے ( ان کے جرم کی سنگینی ظاہر کرتے ہوئے ) کہا کہ ان لوگوں نے چوری کی اور چرواہوں کو قتل کیا اور ( آخر ) ایمان سے پھر گئے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔

(صحیح بخاری، حدیث نمبر 233)
وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ رحمت العالمین ہیں۔ جو جانوروں کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھتے تھے۔ اپنی بیٹی زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو شہید کرنے والے، چچا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کرنے والے، اور فتح مکہ کے وقت تمام اذیت دینے والے کافروں کو معاف کرنے والے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذاتی دشمنوں کے ساتھ جو رویہ رکھا، وہ رہتی دنیا تک مثال ہے۔
مگر مسلمانوں کے مال و جان کا نقصان کرنے والوں کو ایسی عبرت ناک اور سر عام سزا کیوں ؟
مدینہ کے لوگ ان کو تڑپتے دیکھتے رہے، آنکھوں سے نابینا کر دئیے گئے، ہاتھ پاوں کٹوائے گئے، پیاس کی شدت سے بلکتے رہے مگر پانی تک دینے کی اجازت نہ تھی۔ آخر وہ تڑپ تڑپ کر مر گئے۔
کیا ایسی سزا دیکھنے کے بعد کوئی ملک و قوم کے مال پر ہاتھ ڈالنے کا سوچ بھی سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
محترم وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب مدینہ کی طرز پر ریاست بنانا چاہتے ہیں تو مدینہ کے قانون بھی مرتب کئیے جائیں۔
یاد رکھیں ” ایک بے انصافی کئی جرائم کی وجہ ہوتی ہے ”
محترم عمران خان صاحب آپ اس ملک کے مال اور عوام کی جان کے محافظ ہیں آپ پاکستان میں اسلامی نظام انصاف قائم کر دیں میں آپ کو پاکستان سے جرائم %90 کم ہونے کی گارنٹی دیتا ہوں۔
مگر شرط یہ ہے کہ نظام انصاف اسلامی، بلا امتیاز ، سر عام اور فوری ہونا چاہئیے۔
جیلوں کی اے ، بی ، سی اقسام ختم کی جائیں۔ یا تو ہر مجرم عورت کے لیے گھر "سب جیل” قرار دی جائیں یا ساری مجرم عورتیں جیلوں میں ہوں۔
مدینہ کے حکمران محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ نامی قریشی عورت کا ہاتھ کاٹتے وقت قوموں کے تباہ ہونے کی وجہ بھی بتا دی تھی،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛
"پچھلی بہت سی امتیں اس لیے ہلاک ہو گئیں کہ جب ان کا کوئی شریف ( امیر ) آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور ( غریب ) چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا ۔”
(صحیح بخاری، حدیث 3475)
آئیں اس قوم کو تباہ ہونے سے بچائیں ، اسمبلی میں اسلامی سزاؤں کے قوانین پاس کروائیں۔ اگر اکثریت نہیں تو صدارتی آرڈیننس استعمال کریں۔ اللہ نے آپ کو موقع دیا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ملک پاکستان کو حقیقی معنوں میں مدینہ ثانی بنا دیں۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

ایسے ازم جو دنیا میں کافی مشہور ہیں خاص طور پر مسلمانوں میں ۔۔۔ بقلم: جواد سعید

لبرلزم آزاد پسندی کا نام ہے۔ اس کا مقصد ایسا معاشرہ جس میں روداری ہو۔ …

سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت تحریر: عبدالواسع برکات

ہمارے وزراء دس دس لینڈ کروز لے کر اور چار چار گاڑیاں سیکورٹی کی لے کر روڈ …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: جرائم سے پاک پاکستان ۔۔۔ عاصم مجید! This is the link: https://pakbloggersforum.org/crime-free-pakistan/