صفحہ اول / ثناء صدیق / مسلمانوں کے سپین میں تعلیمی اور علمی کارنامے تحریر : ثناء صدیق

مسلمانوں کے سپین میں تعلیمی اور علمی کارنامے تحریر : ثناء صدیق

مسلمانوں کی 711 میں سپین میں حکومت قائم ہوئی جب بنو امیہ کی حکومت ختم ہوئی تو ایک اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل فرار ہو کر سپین چلا گیا اور وہاں نئی اموی حکومت کی بنیاد رکھی یہاں مسلمانوں نے بڑے شاندار طریقے سے حکومت کی یہاں فن تعمیر فن مصوری میں کام کیا گیا وہاں تعلیم پر بھی بہت زیادہ کام کیا گیا کتابیں لکھی گیں تراجم کیے گے اور درس گاہیں تعمیر کی گیں عبدالرحمن سوم کے اقتدار میں حکومت قرطبہ میں 70 لائبریریاں اور کتابوں کی دوکانیں تھیں عبدالرحمن سوم کا جانشین الحکم تھا یہ ایک بہت بڑا عالم تھا اس نے قرطبہ میں 23 سکول قائم کیے قرطبہ کی یونیورسٹی اتنی مشہور تھی کہ دنیا بھر کے طالب علم اپنے علم کی پیاس بھجانے یہاں اتے تھے الحکم نے مشرقی ممالک سے پروفیسروں کو یہاں انے کی دعوت دی اور انہیں شاندار تنخواہوں کی پیش کش کی اس نے یہاں ایک بڑی لائبریری تعمیر کی جس میں 4 لاکھہ کتابیں تھیں یہ کتابیں اسکندریہ اور بغداد سے منگوائی گی تھیں اس سے سپین کے ثقافتی میدان میں اتنی ترقی ہوئی کہ ہر شخص پڑھنے لکھنے کے قابل ہو گیا اسپین میں بھی دیگر مسلم ممالک کی طرح مساجد کے ساتھہ مدارس قائم کرنے کا رواج تھا لیکن بہت سے مدارس اور جامعات مسجد سے الگ بھی تھے ان مدارس کے اخراجات کے لیے حکومت نے بڑے بڑے اوقاف مقرر کیے تھے اور وقتا فوقتا خصوصی امداد بھی مقرر کی جاتی تھی تمام مدارس میں مفت تعلیم دی جاتی تھی ہر مسلمان کے لیے تعلیم حاصل کرنا ضروری تھا قرآن و حدیث ،فقہ ، شعروادب کی تعلیم عام طور پر مدارس میں ہوتی تھی لیکن جامعات میں تمام علوم عقلیہ اور نقلیہ کی تعلیم دی جاتی تھی ان مدارس اور جامعات کے لیے اس دور کے جید علماء اور اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی تھی تمام ملک میں کوئی گاوں بھی ایسا نہ تھا یہاں مفلس اور گنوروں کے بچے تعلیم کی نعمت سے محروم نہ ہوں بیرونی ممالک سے آنے والے طلباء کے ٹھہرنے کے لیے جامعات سے ملحقہ اقامت گاہیں بھی بنائی جاتی تھیں جن کے تمام اخراجات کی زمہ داری حکومت پر تھی حتی کہ متعلقہ مضامین کی کتابیں تک بھی طلباء کوحکومت کی طرف سے مفت فراہم کی جاتی تھیں ابتدائی تعلیم حاصل کر کے جب طالب علم اعلی تعلیم کے لیے جاتا تو اس کا امتحان ضرور لیا جاتا تھا جو پاس ہو جاتا اسے داخلہ دیا جاتا ورنہ اگلے سال امتحان کے لیے تیاری کے لیے چھوڑ دیا جاتا اعلی تعلیم کے مضامین میں قرآن و حدیث اور فقہ کے علاوہ علوم قدیمہ ،ہندسیہ، ہیبت ، طب و جراحت ، موسیقی ، منطق ، فلسفہ ، شعروادب ، تاریخ ، جغرافیہ ہوتے تھے لیکن فنون میں بھی طلباء کو ماہر کیا تھا بہت سے فنون کے شعبے بھی موجود تھے جیسا کہ حیاتی خطاتی چمڑے کا کام فن تعمیر کوزی گری فلاحت و زراعت وغیرہ تھے ان جامعات اور مدارس میں اسناد کے لیے کسی شخص کا مسلمان ہونا لازمی نہ تھا بلکہ تمام دارومدار علمی انہماک اور قابلیت پر ہوتا تھا جس میں یہ صفات ہوتی تھی وہ بلاتامل ان عہدوں پر فائز کیا جاسکتا تھا چانچہ کچھہ یہودی اور عسائی بھی قرطبہ کی جامعات میں استاد مقرر تھے نویں اور دسویں عیسوی میں اسپین کی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گی تھی طالب علم کسی بھی قوم مذہب سے تعلق رکھتا ہو با آسانی ان جامعات میں تعلیم حاصل کر سکتا تھا جس کا نتجہ یہ نکلا یورپ اور جنوبی ایشیا سے آنے والے عسائی اور یہودی طلباء بکثرت ہوتے تھے یہ مسلمانوں کی بے تعصبی کا ہی نتجہ تھا مسلمانوں نے تقربیا 8 سو سال سپین پر حکومت کی یہ وہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا جب یورپ تاریخی میں ڈوبا ہوا تھا اس دور میں مسلمانوں کی بے پناہ ترقی کے ساتھہ ساتھہ علمی میدان کی ترقی قابل فخر ہے ان میں سے چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے علماء اندلس نے قرآن پاک کی تفسیر اور علوم قرآنی کی تشریح و توضیح میں گراں قدر خدمات سر انجام دی یہاں صرف معروف کتب کے نام ذکر کیے جاتے ہیں (ابو عبداللہ احمد بن قرطبی کی تفسیر "الجامع الااحکام القرآن”) ابو بکر محمد بن عبداللہ کی تفسیر "احکام القرآن” ابو عبداللہ محمد بن یوسف حیان کی تفسیر "البحر المحیط” ابن العربی کی تفسیر "تفسیر القرآن الکریم” علماء اندلس نے حدیث میں بہت کام کیا چند معروف محدث قابل ذکر ہیں احمد بن خالد القرطبی نے علم حدیث پر "مسند امام مالک تحریر کی ابو محمد قاسم بن اصبح قرطبی نے سنن داود کے طریقے پر ایک سنن لکھی ابو عمر یوسف بن عبدالبر نے موطا امام مالک کی شرح تحریر کی اندلس میں امامالک کے ایک شاگرد یحیی بن یحیی مصمودی کے زریعے فقہ مالکی کو فروغ حاصل ہوا حکومتی حلقوں میں اس کا بڑا اثرو سوخ تھا جس کی وجہ سے اندلس میں فقہ مالکی کا دور دورہ رہا ابن خلدون لکھتے ہیں "امام مالک کا فقہی مسلک مغرب اور اندلس میں پھیلا اس کی وجہ یہ تھی کہ اندلس اور مغربی لوگ عام طور پر سیدھے حجاز جاتے اور بالخصوص مدینہ سے علم حاصل کرتے” اندلس کے فقہاوں میں زیاد بن عبدالرحمن ، عبدالمک بن حبیب ، قاضی ابوبکر بن عربی ، محمد بن احمد جو ابن رشد کے نام سے مشہور ہیں علماء اندلس نے علم سیرت پر بھی نہایت بلند پایہ کتب تحریر کی ابو عمر ابن عبدریہ نے ” الصقد القرید” تحریر کی ابو الفضل القاضی نے ” کتاب الشفاء” تحریر کی علماء اندلس تاریخ پر کام کرنے میں بھی کسی سے پیچھے نہ رہے ابو زید محمد بن خلدون نے العبر تحریر کی محمد بن موسی الرازی نے کتاب الرایات لکھی ابوبکر احمد بن راضی نے تاریخ اندلس لکھی ابن رشد نے اس موضوع پر دو اہم کتب تحریر کیں "مناہج الادلنہ فی عقائد الملتہ” اس کتاب میں آپ نے معتزلہ اشاعرہ ماتریدیہ صوفیا وغیرہ تمام مکاتب فکر کے دلائل کو بیان کیا ” فضل المقال” یہ کتاب مختصر مگر جامع کتاب ہے اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا گیا ہے اندلس کے شعراء میں ابوبکر محمد الزبیدی ، ابن حیان ، ابو القاام ابراہیم بن محمد نے مشہور عرب شاعر متنبی کے دیوان کی شرح تحریر کی طب کے میدان میں اندلس کے طبیبوں میں ابوالقاسم الزہراوی جو قرطبہ کے قریب مدینہ الزہرہ کا رہنے والا تھا اندلس کا ایک نامور طبیب تھا اس نے طب کے موضوع پر ایک کتاب "التصریف لمن عجزعن التالیف” تحریر کی ابوالقاسم زہراوی نے فن جراحت میں اقتصاص پیدا کیا اس نے اپنے اس نے اپنے جراحی کے الات خود ڈیزائن کیے انہیں اپنی ذاتی نگرانی میں تیار کروایا اور ان کے خاکے اپنی کتاب میں شامل کیے اور ہر آلہ کے استعمال کے بارے میں تفصیل تحریر کی عصر حاضر میں جراحی علاج کے ماہرین اسے بہت زیادہ اہمت دیتے ہیں یہ کتاب صدیوں تک یورپ کے بڑے جراحوں کے نزدیک ماخذ بنی رہی علم کیماء کے بارے میں اسکارٹ لکھتا ہے ” عملی طور پر زمانہ حال کے کیماء اور دوا سازی کے موجد عرب کیماء ساز تھے انہی کے طفیل تیزاب شورہ پوٹاس چاندی کا پانی فاسفورس اور اکسجن کے وجود سے اگاہ تھے” اندلس میں سرکاری کتب خانے کے ساتھہ ساتھہ ذاتی کتب خانے بڑی تعداد میں تھے عوام کو کتابیں کرنے کا بڑا جنون تھا اندلس کے اسلامی حکمران الحکم رعایا میں یہ بات مشہور تھی جس کو بادشاہ سے ملنا ہے وہ اس کے لیے ایک نادر کتاب لکھے الحکم کی لائبریری قرون وسطی کی سب سے بڑی لائبریری تھی اس میں 4 الاکھہ کتابیں جمع تھیں اس کتب خانے کے بارے میں کہا جاتا ہے ایسا نادر اور قیمتی کتب خانہ نہ کرہ ارض پر پہلے موجود تھا نہ اب ہے اندلس کا ایک اور اہم کتب خانہ ابن فطیس کا تھا یہ بہت امیر شخص تھا جس محلے میں رہتا تھا سب مکانات اس کی ملکیت میں تھے اور سب کابوں سے بھرے پڑے تھے اس کو معلوم ہوتا فلاں کے پاس نادر کتاب موجود ہے اس کتاب کو ھاصل کرنے کے لیے بے دریغ پیسہ خرچ کر دیتا ابن سعد کا کتب خانہ عوام کے استفادے کے لیے وقف تھا محمد بن حزم کے کتب خانے میں نادر کتابیں موجود تھیں کتب خانوں میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں بھی شریک تھی ایک مشہور کتب خانہ عائشہ بنت احمد کا تھا۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: مسلمانوں کے سپین میں تعلیمی اور علمی کارنامے تحریر : ثناء صدیق! This is the link: https://pakbloggersforum.org/educational-achievements-of-muslim-era-in-spain/