صفحہ اول / قومی / ہیں یہی جرائم جن سے سعید کو نہیں انکار ۔۔۔ عشاء نعیم

ہیں یہی جرائم جن سے سعید کو نہیں انکار ۔۔۔ عشاء نعیم

پچھلے کئی دنوں سے عجیب و غریب خبریں سن رہے ہیں ایک محب وطن اور سوشل ورکر پاکستانی پر مقدمہ ہوگیا ‘پھر ضمانت اور
آج یہ خبر آئی ہے کہ حافظ سعید صاحب کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ خبر تمام محب وطن پاکستانیوں کے لئے ناقابل یقین تھی ۔
کیوں کہ حافظ سعید صاحب پہ پچھلے کئی سالوں سے بیرونی دباو کی وجہ مقدمات ہوتے رہے ہیں لیکن ہر بار آن کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کی بنا پر نہ صرف پاکستان کی عدالتیں انھیں رہا کرتی رہی ہیں بلکہ وہ خود بھی چیلنج دے چکے ہیں کہ انھیں عالمی عدالت میں لے جائیں اور ثبوت لے آئیں ۔
ان کا بھارت جو جرم بیان کرتا ہے وہ یہ کہ انھوں نے بمبئی حملے کئے تھے ۔لیکن اس کا وہ کوئی ثبوت نہیں سے سکا ۔جبکہ دوسری طرف پاکستان میں بھارت کئی دہشت گردانہ حملے کر چکا ہے اور پاکستان عالمی عدالتوں کو ثبوت دے چکا ہے ۔
اس کا سب سے بڑا دہشت گرد کلبھوشن یادیو گرفتار ہوچکا ہے جو کئی حملوں کا اعتراف کرچکا ہے ۔نہ صرف ان کا حاضر سروس دہشت گرد بلکہ ان کا وزیر اعظم جو خود دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے جسے امریکہ میں گھسنے کی اجازت نہ تھی وہ بھی پاکستان کو ٹکڑے کرنے کا اعتراف کرچکا ہے ۔
جبکہ حافظ سعید صاحب پہ بس ایک ہی الزام ہے وہ بھی بغیر ثبوت کے ۔
البتہ ہم نے حافظ صاحب کو ملک کے طول و عرض میں فلاح کام کرتے ہوئے ضرور دیکھا پے ۔
ہم نے ان کی فلاحی تنظیم ایف آئی ایف کو پاکستان میں زلزلہ ‘سیلاب ‘بارش کے وقت لوگوں کی زندگیاں بچاتے دیکھا ۔ہم نے لوگوں میں عام روٹین میں بھی راشن ‘کپڑے تقسیم کرتے دیکھا ‘ہم نے دیکھا کسی پہ جو بھی مصیبت ہے یہ ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں ۔
ہم نے انھیں تھر میں کنویں کھود کر پانی کا انتظام کرتے دیکھا اور اس سلسلے میں مسلم ہندوؤں میں کوئی فرق نہیں کرتے دیکھا ۔
ہم نے دیکھا بلوچستان میں بھارت نے شر اور پیسہ پھیلا کر بہت سے بلوچ پاکستان کے خلاف کر دئیے ‘پھر اس فتنے کو ختم کرنے کے لئے اسی جماعت کو آگے بڑھ کر اس کے آگے بند باندھتے دیکھا ۔
ہم نے حافظ سعید کو کٹتے بے بس کشمیر یوں کوحوصلہ دیتے دیکھا ۔
ہم نے حافظ سعید کو نظریہ پاکستان کی حفاظت کرتے دیکھا ۔
ہم نے دیکھا حافظ سعید کے جلسے میں بریلوی دیوبندی ‘شیعہ ‘اہل حدیث سب بیٹھے ہیں ۔
ہم نے ان کو فرقہ واریت کے خلاف بولتے دیکھا ۔
ہم نے سنا وہ کہتے ہیں تم صرف مسلمان ہو ‘تم صرف پاکستانی ہو ۔
ہم نے انھیں تحفظ ناموس رسالت کےلئے کھڑے دیکھا ۔
ہم نے انھیں دہشت گردی کے خلاف فتوی دیتے اور کتابیں لکھواتے دیکھا ۔
ہم نے حافظ سعید کو فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لئے بھی راشن لے جاتے دیکھا ۔
ہم نے سنا بھارت میں بھی مصیبت کے وقت حافظ سعید نے امداد کی پیش کش کردی ۔
ہم نے حافظ سعید کو کبھی کرپشن میں ملوث نہیں دیکھا
ہم نے حافظ سعید کو شروع سے لے کر آج تک پونے چار مرلے کے گھر میں دیکھا (کیونکہ انھوں نے انڈیا سے غداری کے بدلے پیسہ نہیں لیا تھا بلکہ جوتے کی نوک پہ رکھا )
ہم نے یہ بھی دیکھا جب ان کی جماعت پہ پابندی لگی تو انھوں نے وطن کی خاطر خاموشی اختیار کی ۔
ورنہ لاکھوں کارکنان جو ان پہ اپنی جان تک وارنے کو کو تیار ہیں ایک اشارے سے سارے ملک میں انتشار پھیلا دیں ۔لیکن حافظ سعید نے ان کی یہ تربیت ہی نہیں کی بلکہ جب بھی مشکل وقت آیا ہمیشہ سب سے پہلے جو پیغام آیا یہی آیا پر امن رہیں اور رب کے سامنے جھک جائیں دعائیں مانگیں ملک ہمارا سب سے پہلے ہے ۔
کبھی ان کے کسی کارکن نے ملک میں احتجاج کے نام پہ ایک سڑک بند کی نہ کوئی دوکان جلائی نہ کہیں ہاتھا پائی ۔
ہمیشہ پرامن احتجاج کیا ۔
اپنی جماعت کے خاتمے پہ بھی وطن کو فوقیت دینے والے جرائم کی لسٹ لمبی ہے ۔
اور یہی جرائم ہیں جس کی بنا پر انڈیا ‘اسرائیل ‘امریکہ بلکہ پورا کفر کانپتا ہے اسی لئے وہ حافظ سعید کو پابند سلاسل کرنا چاہتے ہیں ۔
کیونکہ حافظ سعید ان کے ارادوں کے آگے ایک چٹان ہے ۔
اور کئی چٹانیں وہ بنا چکا ہے ۔
یہی تکلیف ہے اہل کفر کو یہی ناقابل برداشت ہے اہل کفر کے لئے ۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق کو الٹ کر دیکھتے ہیں تو ہمیں کئی ایسی مثالیں نظر آتی ہیں جب محب وطن و محب اسلام کو اسی طرح مصائب سے گزرنا پڑا ‘قید و بند اور سولی پہ بھی چڑھنا پڑا لیکن یہ طے ہے کہ ان کا مشن جاری رہتا ہے حق آ کر رہتا ہے ان کا مشن کوئی روک سکا نہ
نام کبھی کوئی مٹا نہیں سکا ۔
حق کی راہ ہمیشہ کٹھن ہوتی ہے ۔
لیکن بالآخر جیت حق کی ہوتی ہے ۔
ہمیں امید ہے حافظ سعید صاحب بھی ان مصائب سے نکل جائیں گے ان شا اللہ ۔
کیونکہ
‏حب الوطنی اور مظلوموں سے پیار
دہشت گردوں کا دشمن ‘امن کا پرچار
ہیں یہی جرائم جو دنیا کو نہیں قبول
ہیں یہی جرائم جس سے سعید کو نہیں انکار

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

گھر کی خاطر

آج میں بہت غمگین تھا کیوں کہ ہم نے بیرونی دباؤ کی خاطر ، ہمیں …

زلزلہ، کرفیو اور بے حال کشمیری ۔۔۔ محمد عبداللہ

مقبوضہ کشمیر میں جہاں کرفیو کے باون دنوں سے وادی کے لوگوں کی زندگی اجیرن …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: ہیں یہی جرائم جن سے سعید کو نہیں انکار ۔۔۔ عشاء نعیم! This is the link: https://pakbloggersforum.org/hafiz-saeed-the-benefactor-of-the-state/