صفحہ اول / جویریہ چوہدری / سلسلہ امہات المؤمنین (1) حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا (حصہ دوم)

سلسلہ امہات المؤمنین (1) حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا (حصہ دوم)

حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے ہر قربانی پیش کی، اپنا تن من دھن،مال و زر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر کر دیا اور ایثار کا مثالی نمونہ پیش کیا۔ اپنا مال آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر کے اس کے خرچ کا اختیار بھی آپ صلی اللہ علیہ کو دے دیا۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب بھی حضرت خدیجہ کا ذکر کرتے تو بہت زیادہ توصیف کرتے،
حضرت عائشہ فرماتی ہیں،مجھے غیرت آئی تو میں نے فرمایا:
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اکثر ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں،حالانکہ اللہ نے آپ کو اس سے بہتر بیوی عطا کی ہے یعنی(حضرت عائشہ)۔۔۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللّٰہ تعالی نے مجھے اس سے بہتر بیوی عطا نہیں کی، وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائیں،جب سب لوگوں نے میرا انکار کیا۔
اس نے اس وقت میری تصدیق کی،جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا۔
اس نے اپنے مال و دولت سے میری مدد کی جب دوسروں نے مجھے محروم کیا۔
اور اللّٰہ تعالی نے مجھے اس سے اولاد کی نعمت عطا کی، جبکہ دوسری بیویوں سے اولاد نہیں ہوئی۔ (رواہ احمد)۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کی موجودگی میں، پچیس سالہ ازدواجی زندگی میں کوئی اور نکاح نہیں کیا۔۔اور یہ عرصہ انتہائی محبت و الفت سے بھر پور گزرا۔۔۔
اسی تعاون بھری زندگی کا نتیجہ تھا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عمر بھر ان کی نیکیاں بیان کرتے رہے۔۔۔
کفار مکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے بدکنے لگے اور ان کا کچھ اثر نہ لیا،تو اس سخت اذیت کے ماحول میں حضرت خدیجہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ڈھارس بندھاتیں۔
اس صاحبہ فراست خاتون نے ہر تکلیف کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی و تشفی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
نزول وحی کے وقت گھبراہٹ کے موقع پر آپ رضی اللّٰہُ عنھا نے ان الفاظ میں رسول اللہ کو تسلی دی کہ:
اللّٰہ تعالی آپ کو ہر گز رسوا نہیں کرے گا،آپ صلہ رحمی کرتے ہیں،یتیموں،ناداروں کا خیال رکھتے ہیں،مہمان نوازی کرتے ہیں،مصیبت زدگان کی مدد کرتے ہیں۔۔۔ !!!
اپنے مال سے تکلیف زدہ مسلمانوں کاخیال رکھنے ،اسلام کی راہ میں عظیم قربانی اور کردار ادا کرنے والی ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کے کردار کی اللہ رب العزت نے کتنی قدر دانی کی کہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم !
یہ خدیجہ ہیں جو کھانے کا برتن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس لا رہی ہیں،
جب وہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور میری طرف سے بھی۔
اور انہیں جنت میں موتیوں کے محل کی خوشخبری دیجیئے،جس میں شوروغل ہے اور نہ کوئی تکلیف و تھکاوٹ۔۔۔”
(صحیح بخاری)۔
دنیا میں جنت کی بشارت پانے والی پہلی خاتون سے رسول اللہ کو بہت زیادہ محبت تھی۔۔۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ کے رشتہ داروں کی عزت کیا کرتے تھے،آپ کی سہیلیوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے،آپ کی سہیلیوں کے گھروں میں کھانا بھجواتے۔
حضرت خدیجہ سب سے پہلے ایمان لائیں،مسلمان بنیں اور سب سے پہلے پہلی وحی کو تسلیم کیا۔۔۔ان منفرد اعزازات کی حامل،اپنی غمگسار و ہمدرد بیوی کی وفات پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بہت رنجیدہ ہوئے،
اور اس صدمہ کی ہی مناسبت سے نبوت کا دسواں سال عام الحزن کہلایا۔۔۔ !!!
آپ رضی اللّٰہُ عنھا نے ماہِ رمضان 10 نبوی میں وفات پائی۔۔۔
اولاد میں بیٹے کم عمری میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔۔۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کی چاروں بیٹیاں،زینب،رقیہ،ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھن تھیں جن میں سے حضرت زینب ابو العاص،حضرت رقیہ و ام کلثوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
(رضی اللہ عنھا)۔
اللّٰہ تعالی ہم مسلمان مردوں،عورتوں کو اپنی زندگیاں اپنے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا کے عظیم کردار کی روشنی میں گزار کر ابدی فلاح سے ہمکنار ہونے کی توفیق بخشے۔
دین اسلام کی ترویج و اشاعت کی خاطر ایسے ہی جذبۂ قربانی سے مالا مال فرمائے۔آمین۔
لا ریب امت کے لیئے اسوۂ حسنہ میں بہترین ازدواجی تعلقات کی یہ انتہائی روشن مثال ہے۔
اللّٰہ ہمارے احوال کی بھی اصلاح فرما دے اور ہر شوہر،بیوی سیرتِ طیبہ کی راہ نمائی میں اپنا اپنا کردار سمجھ سکیں۔۔۔۔ !!!!!

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

"آئی لو یو” کہنا سیکھیے

احبک آئی لوو یو میں تم سے محبت کرتا ھوں ہم کیوں سمجھتے ھیں کہ …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاتح عالم، غلام زادہ نعمان صابری

محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاتح عال نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: سلسلہ امہات المؤمنین (1) حضرت خدیجہ رضی اللّٰہُ عنھا (حصہ دوم)! This is the link: https://pakbloggersforum.org/hazrat-khadija-part-2/