صفحہ اول / اسلامک بلاگز / شعرائے نعت کی تاریخ اور نعت کے آداب و تقاضے

شعرائے نعت کی تاریخ اور نعت کے آداب و تقاضے

تاریخ نعت گوئی کی قدامت کا اندازہ کیا لگانا اور اسکے جواز کی دلیل کیا لانا۔۔۔ بیشتر قرآنی آیات خود ‘نعتیہ دیوان’ ھیں۔۔۔ سورہ اخلاص کی ابتدا "قل” سے ھونے پر بھی ایک شاعر نے یوں کہا:

قل کہہ کے اپنی بات بھی منہ سے ترے سنی
اتنی ہے گفتگو تری اللہ کو پسند

مدحت، منقبت، ثناء اور حمد بھی نعت کی اصناف میں سے ھی ھیں۔۔۔ لیکن نعت ان میں سب سے زیادہ عام بھی ھے اور خاص بھی۔۔۔
کہیں حمد اور نعت ایک ھی ھو جاتی ھیں۔۔۔ کیونکہ ذکر مصطفے حمد باری سے جدا نہیں ھو سکتا۔۔۔ لیکن اگر یہاں عبد اور الہ کا فرق ملحوظ نہ رھے تو سب کچھ بھسم ھو جانے کا بھی ڈر ھے۔۔۔ جس طرح رب کی حمد کما حقہ بیان کرنا ممکن نہیں ہے اسی طرح نعت رسول کا حق ادا کرنا بھی ناممکن ھے۔۔۔

محمد سے صفت پوچھو خدا کی
خدا سے پوچھ لو شان محمد ؐ

بالفاظ دیگر

خدا مدح آفرین مصطفیٰ بس
محمد حامد حمد خدا بس

بہرحال، مختلف لوگوں کی تحقیق کے مطابق تاریخ میں حضرت عبدالمطلب نے سب سے پہلی نعت کہی۔۔۔ جب آپ ﷺ پیدا ہوئے تو عبدالمطلب آپ کو خانہ کعبہ لے گئے، دعا فرمائی، خدا کا شکر ادا کیا اور فرمایا:

الحمد للہ الذی اعطانی
ھذا الغلام الطیب الاردان
قد سعد فی المھد علی الغلمان
اعیذہ بالبیت ذی الارکان

اللہ کا شکر کہ جس نے مجھے یہ خوش اندام لڑکا عطا فرمایا۔
اس لڑکے کو گہوارہ طفولت میں ہی سب بچوں پر فضیلت و سعادت حاصل ھے۔
میں اس کو بیت اللہ کی پناہ میں دیتا ھوں۔

رسول اللہ ﷺ کی رضاعی بہن، ‘شیما’ آپ کو گود میں کھلایا کرتیں۔۔۔ لوریاں دیتے ہوئے یہ شعر پڑھا کرتی تھیں۔۔۔

یا ربنا ابق لنا محمدا
حتی اراہ یافعا و امردا
ثم اراہ سید مسودا
واکبت اعادیه معا والحسدا
واعطاہ عزا یدوم ابدا

ہمارے رب ہمارے لئے محمد ؐ کو زندہ رکھیو۔
یہاں تک کہ میں انہیں جوان رعنا کی شکل میں دیکھوں۔
پھر میں انہیں دیکھوں کہ انہیں سردار بنادیا گیا۔
اور ان کے دشمنوں اور حاسدوں کو ذلیل کر۔
اور ان کو ایسی عزت عطا فرما جو ہمیشہ ہمیشہ باقی رھے۔

عمر مبارک کا چوبیسواں برس تھا۔۔۔ جب ایک تجارتی قافلے کے ساتھ مکے سے نکلتے ھوئے حضرت عباس نے یوں الوداع کیا:

یا مجمل الشمس و البدر المنیر
اذا تبسم الشغر لسمع البرق منہ

آفتاب اور بدر منیر کو اپنے جمال سے شرمندہ کرنے والے۔
تو جب مسکراتا ہے تو برق سی لہرا جاتی ھے۔

ابو طالب کا وہ شعر جسے بارگاہ رسالت سے سند ملی۔۔۔

وابیض یستسقی الغمام بوجھه
ثمال الیتامی عصمة للارامل

وہ ایسے روشن چہرے والے ہیں کہ ان کے وسیلے سے بارش طلب کی جاتی ھے۔
یتیموں کی سرپرستی کرنے والے اور بیوگان کے محافظ۔

مدینہ میں قحط کے دوران حضورؐ نے نماز استسقا پڑھائی۔۔۔ بارش کیوں نہ ھوتی۔۔۔
فرمایا: اگر آج ابو طالب ہوتے تو انہیں خوشی ہوتی۔۔۔ صحابہ نے عرض کیا: وہ کیسے۔۔۔؟
تب حضور نے انکے اس شعر کی طرف اشارہ فرمایا

حضرت ابوبکر آپ ص پر یہ شعر پڑھتے تھے:

امین مصطفی باالخیر یدعو
کضوء البدر زایله الظلام

امانت دار اور اللہ کے چنے ھوئے، سوائے خیر کے کسی چیز کی دعوت نہیں دیتے۔
جیسے چودھویں کے چاند سے سب اندھیرے دور ھو جائیں۔

اور حضرت عمرؓ حضرت زہیر کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے:

لو کنت من شیئی سوی البشر
کنت المضئی لیلة البدر

اگر آپ بشر کے سوا کسی اور چیز سے ہوتے تو آپ ہی چودھویں کی رات کو روشن کرتے۔

اور حضرت علی نے نعت اس طرح کہی:

فصلوۃ الاله تنزیل علیه
فی دحی اللیل بکرۃ و اصیلا

پس رحمت الہی نازل ھوتی ھے ان پر۔
رات کی تاریکیوں اور صبح و شام میں مسلسل۔

عائشہ صدیقہ نے نعت اس طرح کہی:

لو احیی زلیخا لو رائین جبینه
لاٰثرن بانقطاع القلوب علی الید

اگر زلیخا والیاں آپ کے رخ انور کو دیکھ لیتیں۔
تو اپنے ھاتھ کاٹنے کی بجائے دل چیرنے کو ترجیح دیتیں۔

کعب بن مالک، قبیلہ ’’دوس‘‘ کے اسلام کا سبب بنے۔۔۔ ان کے مکان پر جا کر حضور ص نے خود نعت کی فرمائش کی۔۔۔ غزوہ بدر کے موقعہ پر ان کا شعر بہت مشہور ہوا

شھدنا بان اللہ لا رب غیرہ
و ان رسول اللہ بالحق ظاہر

ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ حق کے ذریعہ غالب ہوں گے۔

عبداللہ بن رواحہ کے اشعار کو حضور اقدس ﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر کے دوران صحابہ کے ساتھ دھرایا

اللھم ان الاجر اجر الاخرة
فاغفر للانصار والمھاجرۃ

خندق کے موقع پر نبی ص کے اونٹ کی مہار تھامے ھوئے یہ شعر کہا

نحن الذین بایعوا محمدا
علی الجہاد ما بقینا ابدا

حسان بن ثابت، کے لئے حضور ﷺ نے دعا فرمائی "اللھم ایدہ بروح القدس” اور فرمایا "جزاک اللہ الجنة”

خلافت راشدہ میں مسجد نبوی میں اشعار سنایا کرتے۔۔۔ عمرؓ نے منع کرنا چاہا تو جواب دیا اے عمر! میں نے اس شخص کے سامنے اشعار پڑھے ھیں جو تم سے بہتر تھا۔۔۔
اس واقعہ کے بعد حضرت عمرؓ نے مسجد کے کونے میں ایک جگہ بنادی اور اس کو ’’بطیحا‘‘ نام دیا گیا۔ آپکے نعتیہ اشعار سے کون واقف نہیں۔۔۔

واحسن منک لم ترقط عینی
واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرا من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء

ایک جنگ میں قریش کو ھرزہ سرائی کا جواب دینا تھا تو اجازت طلب کی۔۔۔ نبی ص نے پوچھا قریش کی ہجو کیسے کرو گے، میں بھی تو اسی خاندان کا فرد ھوں۔۔۔!
کہا، میرے محبوب! آپ کو اس طرح بچاؤں گا جیسے گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ھے۔

حضرت کعب بن زہیر، اپنے بھائی کے مسلمان پر ھونے پر سیخ پا ھوئے تو رسول کریم کی ھجو کر بیٹھے۔۔۔ پھر قبول اسلام کی توفیق نصیب ھوئی تو نبی کریم کی خدمت میں حاضر ھو کر 58 اشعار پر مشتمل ایک قصیدہ کہا، جس پر حضور اکرم نے ان کو اپنا پیراہن مبارک عطا فرمایا، یوں قصیدۂ بردہ (چادر والا قصیدہ یا قصیدہ لامیہ) کے نام سے آپ کا دیوان معروف ھوا۔
یہ چادر بعد میں امیر معاویہؒ نے بیس ہزار درہم کے بدلے خریدی، اموی حکمراں اسے اپنی مسند نشینی کے وقت بطور تبرک پہنا کرتے تھے۔ اس قصیدے کا ایک شعر جو نعت کی بہترین مثال ھے۔۔۔

ان الرسول لسیف یستضاء به
مھند من سیوف اللہ مسلول

بلاشبہ رسول اللہ ایک ایسی شمشیر ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ھے۔
وہ شمشیر جو ہندی لوھے کی بنی ہوئی ھے۔ اللہ کی تلوار جو نیام سے نکلی ہوئی ھے۔

قصیدہ بردہ کے نام سے ھی ایک دوسرا نعتیہ قصیدہ فارسی اور عربی زبان میں امام شرف الدین بوصیری کا مشہور و معروف ھے۔۔۔
خواب میں برص کے مرض سے شفا یاب ھونے کے لئے نبی ص کی جانب سے چادر عنایت کیے جانے کا واقعہ نقل کیا جاتا ھے، جسکی اصل کوئی نہیں۔۔۔ بوصیری ایک صوفی شاعر تھے، انکے قصیدہ کا بیشتر حصہ انتہائی غلو اور شرکیہ الفاظ پر مشتمل ھے، اس پر علماء نے شدید نقد اور پکڑ کی ھے۔۔۔ یہ قصیدہ میمیہ کے نام سے بھی جانا جاتا ھے۔۔۔

مولای صل و سلم دائما ابدا
علی حبیبک خیر الخلق کلھم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے بعد تاریخ میں بے شمار آئمہ و شعراء نے آپ کی نعت کے باب میں اپنے اپنے نصیب کے مطابق وافر حصہ لیا ھے۔۔۔ تاریخ کو سمیٹتے ھوئے برصغیر میں اپنی زبان اور علاقے میں نعت کی روایت کی طرف چلتے ھیں۔۔۔

ہندوستان میں پہلی نعت شاید فارسی زبان میں کہی گئی۔ میرا احساس ھے کہ جب اردو کا خاکہ بن رہا تھا تو فارسی زبان میں نعت اپنے عروج پر تھی۔ فارسی میں مولانا رومی کی مثنوی معروف و مشہور ھے۔۔۔ مگر فارسی سے راقم کی ناواقفیت کے سبب اسکا ذکر یہاں صرف رسمی سا ھے۔۔۔

مولانا عبدالرحمن جامی فارسی کے ایک صوفی شاعر تھے

تنم فرسودہ جاں پارہ ، ز ہجراں ، یا رسول اللہ
دِلم پژمردہ آوارہ ، زِ عصیاں ، یا رسول اللہ

یا رسول اللہ آپ کی جدائی میں میرا جسم بے کار اور جاں پارہ پارہ ہو گئی ہے
گناہوں کی وجہ سے دل نیم مردہ اور آورہ ہو گیا ہے

چوں بازوئے شفاعت را ، کشائی بر گنہ گاراں
مکن محروم جامی را ، درا آں یا رسول اللہ

روز محشر جب آپ شفاعت کا بازو گناہ گاروں کے لیے کھولیں گیں
یا رسول اللہ اُس وقت جامی کو محروم نہ رکھیے گا

اس صف میں سعدی شیرازی سب سے نمایاں ھیں۔۔۔ عربی اور فارسی زبان میں انکی یہ رباعی سب سے زیادہ عام ھے۔۔۔

بلغ العلی بکمالہ
کشف الدجی بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ
صلوا علیہ والہ

اس صف میں شاہ عبدالعزیز محدث دھلوی بھی ھیں۔۔۔

یا صاحب الجمال و یا سیدالبشر
من وجھک المنیر لقد نور القمر
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فارسی کے بعد اردو زبان کا نعت گوئی میں سب سے زیادہ حصہ ھے۔۔۔ عشقِ رسول اور شوقِ مدینہ ہندوستانی شعرا کا محبوب موضوع رہا ھے۔۔۔ اردو شعرا نے نعت کی صنف میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ھے۔۔۔ فارسی کے بعد سب سے بہتر اور سب سے مؤثر نعتیں اردو ہی میں ملتی ھیں۔۔۔
اردو میں باقاعدہ نعت گوئی کا آغاز سولھویں اور سترھیوں صدی میں ھوا۔۔۔ اس دوران اردو زبان کے تقریبا ہر شاعر نے نعت کہی ھے۔۔۔ مگر چند نام جو نعت سے ھی خاص ھوئے۔۔۔

محسن کاکوروی، اردو کے وہ شعراء، جنھوں نے اپنے آپ کو صرف نعت کے لیے وقف کردیا، محسن ان میں اولین ھیں۔

ازل سے جب ہوئیں تقسیم نعمتیں محسن
کلام نعتیہ رکھا مری زباں کے لیے

فارسی اور اردو کے امتزاج کے ساتھ انہوں نے نعت میں تشبیہات اور استعارات کے لیے وہ اصطلاحات استعمال کیں جو ہندوؤں کے ہاں مقدس تھیں۔ مثال کے طور پر اُن کے مشہور نعتیہ قصیدے ’’مدیح المرسلین‘‘ کا مطلع:

سمت کاشی سے چلا، جانب متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لاتی ھے ھوا گنگا جل

پھر امیر مینائی اس میں سرفہرست ھیں۔۔۔

مدینے جاؤں پھر آؤں مدینے پھر جاؤں
تمام عمر اسی میں تمام ہوجائے

مولانا الطاف حسین حالی نعت گو بھی کمال تھے اور نعت خواں بھی۔۔۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق کے بقول "حالی کی لے سے زمزمے جاری ھو جاتے ھیں”

حالی کی مشہور ترین نعت ان کی طویل نظم "مدوجزر اسلام” المعروف بہ "مسدس حالی” میں شامل ہے۔۔۔ اس کے متعلق سلیمان ندوی کہتے ہیں "سادگی ، سلاست اور روانی کی عمدہ مثال” ھے۔۔۔ یہ مسدس سر سید اور ظفر علی خان کے کہنے پر لکھی۔۔۔ اور ظفر علی خاں کہا کرتے تھے، اللہ پوچھے گا کیا لائے ھو، تو میں عرض کروں گا "حالی سے مسدس لکھوا لایا ھوں۔۔۔

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

خطاکار سے درگزر کرنے والا
بداندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کو زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
مس خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
رہا ڈر نہ بیڑے کو موج بلا کا
ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ھوا کا

اردو نعت میں آج تک حالی کی نعت کا جواب نہیں۔۔۔ ایک سے ایک سحر طراز آئے لیکن حالی سے مستفید سبھی ھوئے۔۔۔

اس تذکرے میں ابو الاثر حفیظ جالندھری کے "شاھنامہ اسلام” سے صرف نظر کیسے ممکن ھے۔۔۔!!!

مبارک ہو کہ دور راحت و آرام آ پہنچا
نجات دائمی کی شکل میں اسلام آ پہنچا

مبارک ہو کہ ختم المرسلیں تشریف لے آئے
جناب رحمة للعالمیں تشریف لے آئے

ضعیفوں بیکسوں آفت نصیبوں کو مبارک ہو
یتیموں کو غلاموں کو غریبوں کو مبارک ھو

مولانا ظفر علی خان کی نعتوں کی مقبولیت کا کوئی ثانی نہیں۔۔۔

دل جس سے زندہ ھے وہ تمنا تمہی تو ھو
ھم جس میں بس رھے ھیں وہ دنیا تمہی تو ھو

ایک اور مشہور نعت

وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
اک روز چمکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں

زکوٰة اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا اور نماز اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں ہو سکتا

جدید نعت گو شعرا کی صف میں اقبال کا تعارف کسی بیان کا محتاج نہیں۔۔۔

سالار كارواں ہے میرِ حجاز ﷺ اپنا
اس نام سے ہے باقى آرام جاں ہمارا

اقبال کہ شاعری میں کہیں مبالغہ اور غلو بھی ھے، مگر یہ اقبال کے افکار میں تدریج اور فلسفیانہ گہرائیوں کی وجہ سے زیادہ قابل گرفت نہیں ھو سکا۔۔۔

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا و جود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے
فروغ ذرّہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب

صوفی غلام مصطفے تبسم ادب اطفال اور نعت کیوجہ سے معروف ھیں۔۔۔ بچوں کے لئے انکے نعتیہ اشعار کی ایک مثال

بلند نبیوں میں نام انؐ کا
فلک سے اونچا مقام انؐ کا
ہمارے ہادیؐ، خدا کے پیارےؐ
نبی ہمارے، نبیؐ ہمارے
درود انؐ پر سلام انؐ پر

علی محمد صمصام، پنجابی اور اردو میں نعتیہ کلام کہنے والے ایک گمشدہ عظیم شاعر ھیں۔۔۔
عالم شہیر اور معروف نعت خواں تھے۔۔۔ ایک جلسہ میں "کل نفس ذائقة الموت” کی تلاوت کرتے ھوئے اللہ کو پیارے ھوگئے۔۔۔ نعتیہ کلام پر آپکی تین تصانیف ھیں، چند نمونے کے اشعار

محمدؐ دے رتبے نوں پا کوئی نہیں سکدا
جہاناں دی رحمت کہا کوئی نہیں سکدا
جتھے رات معراج سرکار پہنچی
ستاں فلکاں نوں چیر جا پار پہنچی
مقام اس تے نبیاں چوں جا کوئی نہیں سکدا
محمدؐ دے رتبے نوں پا کوئی نہیں سکدا

ھمارے دور میں جن نعت گو شعراء کے ساتھ ادبی اور دینی حلقوں میں شدید زیادتی کی گئی ان میں علیم الدین علیم ناصری سب سے زیادہ متاثر ھوئے ھیں۔۔۔ "طلع البدر علینا” کے نام سے صدارتی ایوراڈ یافتہ نعتیہ دیوان کے خالق ھونے کے ساتھ "شاھنامہ بالاکوٹ، بدر نامہ، اربعین نووی، متاع دیدہ و دل، اور ضرب خلیل” آپ کے شعری مجموعے ھیں۔۔۔

ان كى گلى كى آرزو ميرا تمام جذب و شوق
ذكر انہى كا ہے عليمؔ ميرى تمام گفتگو

مجدد نعت حفیظ تائب،
بیسویں صدی میں جن نعت نگاروں نے اردو نعت کو نئے انداز سے پیش کیا ان میں حفیظ تائب کا نام سرفہرست ہے۔ انھوں نے نعت میں حضور سے والہانہ محبت کے اظہار کے ساتھ ساتھ آپؐ کی تعلیمات کو بھی نعت کا موضوع بنایا۔۔۔ مثال کے طور پر

اساس عدل و مساوات، دین سرور دیں
تمام نوع بشر ہے رہین سرور دیں

جہاں میں وجہ شرف ہے اگر تو حسن عمل
اصول حق، سخن دل نشین سرور دیں

احمد ندیم قاسمی کے بقول "تائب نے صنف نعت پر بعینہ وہی احسان کیا ھے جو غالب اور میر نے صنف غزل پر کیا ھے۔”
اہلِ نقد و نظر نے حفیظ تائب کو ’’پاکستان کا سب سے بڑا نعت گو‘‘ قرار دیا۔۔۔

’’وہ مصطفیؐ ہیں
وہ مجتبیٰؐ ہیں
رؤف بھی ہیں، رحیم بھی ہیں
بشیر بھی ہیں، نذیر بھی ہیں
وہی ہیں یاسیں
وہی ہیں طه
چراغ روشن
نفوس کے ہیں وہی مزکی
کتاب حکمت پڑھانے والے
بلانے والے خدا کی جانب
نکالنے والے ظلمتوں سے
وہ حق کے حامل
وہ حق کے مرکز
انہی کو حق نے بناکے بھیجا
جہاں کی رحمت
انہی پہ دیں ہوگیا مکمل
ہوئی تمام ان پہ حق کی نعمت
سلام اس نازش زمیں پر

ماضی قریب میں مظفر وارثی، پاکستان کے ریڈیو، ٹی وی پر ھر وقت گونجنے والی آواز تھے۔۔۔ اور رھتی دنیا تک پاکستان کی سر زمین پر نعت پڑھنے والے مظفر وارثی سے مستغنی نہیں ھو سکتے۔۔۔

تو امیر حرم، میں فقیر عجم
تیرے گن اور یہ لب، میں طلب ھی طلب
تو عطا ھی عطا ۔ تو کجا من کجا

میرا پیمبر عظیم تر ھے
کمال خلاق ذات اسکی
جمال ھستی حیات اسکی
بشر نہیں عظمت بشر ھے

انتہائی سادہ ، پرسوز اور مودب انداز میں بہترین نعتیں پڑھنے والے مظفر وارثی کہ نعتوں کے ساتھ جو سلوک آج کیا جارھا ھے وہ قابل افسوس ھے۔۔۔

ایک اور پر لطف بات یہ ھے کہ پاکستان بننے سے پہلے لکھنو اور بعد ازاں سرزمین لاھور بیشتر نعت خوانوں کا مولد، مسکن یا مدفن رھی ھے۔۔۔

مذکورہ تمام شعراء کی نسبت لاھور اور اسکے مضافات سے ھی ھے۔۔۔

رحمان فارس کے بقول

لاھور سے عجب ھیں مدینے کی نسبتیں
فارس!یہ شہر، شہر غلامان نعت ھے

اور غلام سرور لاھوری کہتے ھیں

کجا شہر مدینہ اور کجا لاھور ھے
جائیں گے پر ھم اگر اللہ کو منظور ھے

اردو زبان میں نعت گو شعراء اور علماء کہ فہرست اتنی طویل ھے کہ اس مختصر مضمون میں سمانا ناممکن ھے۔

خواجہ بیدام وارثی، بہزاد لکھنوی، ماھر القادری، راسخ عرفانی، ادیب رائے پوری، اعجاز رحمانی، صبیح رحمانی، حافظ کرناٹکی، ذکی کیفی، اور دیگر بڑے شعراء بھی اسی لڑی کا حصہ ھیں۔۔۔

احمد رضا خان بریلوی، شاہ اسماعیل شہید، مولانا محمد علی جوھر، شبلی نعمانی، مولانا قاسم نانوتوی، مولانا داؤد راز دھلوی، امداد اللہ مہاجر مکی، اشرف علی تھانوی، ابوالکلام آزاد، حسرت موھانی، عبدالرحمن مالیرکوٹلوی، سید نفیس الحسینی، پیر نصیر الدین نصیر اور بڑے مشاھیر علماء بھی اس صف کے نمایاں نام ھیں۔۔۔

نعت گوئی کی اس روایت میں صرف مسلم شعرانے ہی نہیں بہت سے غیر مسلم شعرا نے بھی آپ ص کے فضائل وکمالات کا منظوم تذکرہ کرکے اپنے فن کو اعتبار بخشا ھے۔۔۔ ان میں چند نام کنور مہندر سنگھ، راجہ کرشن پرشاد، جگن ناتھ آزاد، جان رابرٹ، تلک راج پارس اور دلو رام کوثری قابل ذکر ھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موجودہ دور میں نعت کے معنی، موضوع اور مواد میں بڑی وسعت و جامعیت پیدا ہوئی ھے۔۔۔ آپ کی ولادت سے لے کر وصال تک تمام احوال، واقعات و غزوات، اخلاق و خصائل، مکارم و شمائل، اوصاف و معجزات بلکہ آپ کی ذات سے منسوب ھر شخص، جگہ یا چیز کا بصد احترام و عقیدت تذکرہ بھی دائرہ نعت میں شامل ھو گیا ھے۔۔۔

خاکِ طیبہ از دو عالم خوشتر است
اے خنک شہرے کہ آنجا دلبر است

نعت کہنے والے پر لازم ھے کہ اس کا دل محبت رسول سے سرشار ھو۔۔۔ کیونکہ نعت گوئی کی روح صرف اخلاص اور محبت ھے۔۔۔

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ھے
اسی میں ھے اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ھے

نعت گو پر یہ بھی لازم ھے کہ وہ مقام رسول سے خوب واقف ھو۔۔۔ اور اپنے خیالات کے اظہار پر مکمل قدرت رکھتا ھو۔۔۔ اگرچہ حضور کی شان ھمارے بیان سے کہیں بڑھ کر ھے۔۔۔ مگر یہ حدیث ضرور پیش نظر رہے کہ "میری تعریف میں غلو اور مبالغہ سے مت کام لو” ۔۔۔

وہ رفعتِ خیال وہ حسنِ بیاں نہیں
جو کچھ کہا حضور کے شایانِ شاں نہیں

امام المادحین ، شاعرِ دربارِ رسالت سیدناحضرت حسان بن ثابت نے بھی یہی کہا تھا

ما ان مدحت محمدا بمقالتی
ولکن مدحت مقالتی بمحمد

میں اپنی بات سے محمد ﷺ کی تعریف نہیں کرسکتا، بلکہ محمد ﷺ کے ذکر سے اپنی بات کو قابل تعریف بناتا ھوں۔

نعتیہ شاعری میں نہ صرف شعر و سخن کی آزمائش ہوتی ہے بلکہ اس کسوٹی پر عقیدہ توحید و رسالت کی پرکھ بھی ہوتی ہے۔۔۔ اسی لیے ارباب سخن نعتیہ شاعری کو دو دھاری تلوار سے تشبیہ دیتے ہیں۔۔۔ ذرا سا غیر محتاط انداز بیان بے ادبی اور گستاخی کے زمرے میں آجاتا ھے۔۔۔ اور سب کچھ خاک کر دینے کو کافی ھے۔۔۔

میاں ! یہ عشق ہے اور آگ کی قبیل سے ھے
کسی کو خاک بنائے، کسی کو زر کر دے

محبوبِ رب العالمین ﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ نعت پیش کرنا محض توفیق ایزدی سے ہی ممکن ھے۔۔۔ اور اسکے لئے علم و عقیدے کی پختگی بھی لازمی اور اتباع و اطاعت کی روش بھی۔۔۔

نہیں ہے نعت فقط نام شعرگوئی کا
عمل مآلِ سخن ہو تو نعت ہوتی ہے

فقط زبان ہی نہیں دل بھی ہو غلام ان کا
مطیع سارا بدن ہو تو نعت ہوتی ہے ​

پہلے پہل علماء نعتیں کہا کرتے تھے۔۔۔ اب جاھل اور گمراہ عقیدے کے حامل لوگ اس میدان میں زیادہ شہرت پا گئے ھیں۔۔۔
بلا تفریق مسلک ھر دور میں علماء نے اس مسئلے پر توجہ دلائی ھے۔۔۔ مفتی تقی عثمانی صاحب کا اسی ضمن میں ایک مضمون "نعت اور اس کے آداب” نظر سے گذرا۔ انہوں نے بھی اس قسم کے اشعار پر کڑی تنقید کی ھے، جن میں غلو شرک کی حد تک پہنچا ھوا ھے۔۔۔

جسٹس پیر کرم شاہ الازہری بھی ایسا کلام پسند نہیں کرتے تھے جس میں غیر محتاط الفاظ استعمال ھوئے ھوں۔۔۔

ایک نعت خواں نے ان کے سامنے پنجابی کا یہ ماہیا پڑھا

رب عشق کما بیٹھا
اک تن بدلے سارا عالم
گل وچ پا بیٹھا

آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا۔ اس کو دفع کرو اور اسے مزید پڑھنے سے روک دیا۔۔۔

اسی طرح کا یہ شعر بھی کسی طور شان الوہیت کے مناسب نہیں

تصویر محمد عربی دی
رب آپ بنا کے لٹیا گیا

ایسے بہت سے شعر نعت کے نام پر زبان زد عام ھیں۔۔۔ جو اللہ کی شان میں گستاخی اور نبی ص کے بارے غلو کی انتہا کو پہنچے ھوئے ھیں۔۔۔

اللہ کے قبضے میں وحدت کے سوا کیا ھے
جو کچھ ہمیں لینا ھے لے لیں گے محمد سے

جناب امیر مینائی جیسے شاعر جو نعت کی وجہ سے ھی مشہور ھیں اور بجا طور پر مشہور ہیں ، وہ بھی بعض اوقات یہ احتیاط ملحوظ نہیں رکھ سکے اور اس قسم کے اشعار کہہ گئے

مختار کل ھو مالک روز جزا ھو تم
رحمت کا ھے مقام کہ خاص خدا ھو تم

اب "مالک روز جزا” مالک یوم الدین کا ترجمہ ھے۔ تو کون عقلمند اس شعر کو درست مانے گا۔۔۔!

نعت گوئی میں حضور نبی کر یم ﷺ سے تعلق رکھنے والی چیزوں بالخصوص مدینہ طیبہ کے ساتھ اپنی محبت و عقیدت کا اظہار نعت گو شعراء کا خاص مضمون رہا ہے۔۔۔ لیکن بسا اوقات مدینہ طیبہ اور جنت کا موازنہ اس انداز میں کیا جاتا ہے جس سے جنت جیسی عظیم نعمت جو رضائے خداوندی کا مظہر ھے، کمتر محسوس ہونے لگتی ھے۔۔۔

قسمت میں مری چین سے جینا لکھ دے
ڈوبے نہ کبھی میرا سفینہ لکھ دے
جنت بھی گوارا ہے مگر میرے لیے
اے کاتبِ تقدیر مدینہ لکھ دے

اندازہ فرمائیں کہ یہ احکام شریعت سے بے بہرہ ہونے اور کم عقلی کی دلیل ہے۔۔۔

مولانا احمد رضا خان بریلوی کا اردو نعت گوئی میں بہت بڑا نام ھے۔۔۔ وہ بھی ایسی روایات کے ناقد رھے ھیں۔۔۔
فرماتے ھیں

پیش نظر وہ نوبہار، سجدے کو دل ہے بے قرار
روکیے سر کو روکیے ہاں یہی امتحان ہے

یہاں اعجاز رحمانی جیسے فاضل شعراء بھئ ھیں جن کا انداز اس سے کہیں زیادہ حکیمانہ اور صحیح عقیدے کی ترجمانی پر مبنی ھے

در رسولﷺ پہ سجدہ گزارنے والو
بجز خدا کوئی حلاّلِ مشکلات بھی ہے ؟

آداب نعت کے متعلق فاضل بریلوی نے یوں کہا ھے

ہوں اپنے کلام سے نہایت محظوظ
بے جا سے ہے المنة لله محفوظ
قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھی
یعنی رہے احکام شریعت ملحوظ

عصر حاضر میں ایک تو غلو کے سبب فاسد اور گمراہ عقیدے نعت کے موضوع کے ذریعے داخل ھوئے ھیں اور دوسرا نعت کا موضوع بالخصوص ولادت اور میلاد کی رسم بد سے جوڑ دیا گیا ھے۔۔۔

تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں یا رسول اللہ
تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یا رسول اللہ

گلی گلی سج گئی، شہر شہر سج گیا
آئے نبی پیارے نبی، میرا بھی گھر سج گیا

ھم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے
ھر حال میں سرکار کا میلاد کریں گے

موضوع بھی مختلف فیہ ھوا، ادب کی چاشنی بھی گئی، اور اس میں فرقہ پرستی اس حد تک گھس گئی ھے کہ حب نبی میں نعت کو صرف میلاد اور خاص مسلک کے ساتھ منسلک سمجھ لیا گیا ھے۔۔۔

ایک مشہور نعت خواں، نعت کے نام پر یوں گویا ھوتے ھیں۔۔۔

میں ھوں قادری سنی ٹن ٹن ٹنا ٹن
غلام نبی ھوں، میں ھوں غلام پنجتن

اب ان نعتوں میں موسیقی کی دھنوں کا استعمال اور فلمی انداز اختیار کرنے کے بارے میں ھر ذی شعور کو اپنی رائے خود ھی قائم کر لینی چاھئے کہ کس قدر جائز ھو سکتی ھے۔۔۔!!!

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: شعرائے نعت کی تاریخ اور نعت کے آداب و تقاضے! This is the link: https://pakbloggersforum.org/history-and-etiquettes-of-naat/