صفحہ اول / سلائڈر / پاکستان میں نفاذ اردو، کتنی ذہانت کا متقاضی ہے؟ پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

پاکستان میں نفاذ اردو، کتنی ذہانت کا متقاضی ہے؟ پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

دنیا بھر میں جو جس ملک کی عوامی زبان ہے وہی اس کی قومی اور سرکاری زبان ہے۔ یہ کرنے کے لیے کسی ذہانت، سوچ بچار، تدبیر یا ترکیب لڑانے کی ضرورت نہیں۔ غلاموں یا غلام روحوں کی بات چھوڑ دیں، آپ ازاد، خود مختار، با وقار اور ترقی یافتہ ملکوں کے نام لیتے جائیں یہی حقیقت سامنے آئے گی۔ کچھ ملکوں کے نام میں لے دیتا ہوں باقی دنیا کے بارے میں آپ خود غور فرما لیں۔

امریکہ، برطانیہ، روس، چین، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، اسٹریا، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، سپین، ترکی، ایران، بیلجیم، برازیل، ارجنٹائن وغیرہ وغیرہ۔
میں نے کچھ دن پہلے ایک جگہ سوال کیا کہ یہاں موجود کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ادب کے علاوہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے دوران اپنی کوئی ایک نصابی کتاب مکمل پڑھی ہو، آج تک اس سوال کے جواب سے محروم ہوں۔
پاکستانی حکمرانوں کی ذہانت کس معیار کی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ان کو یہ معمولی ترین بات بھی سمجھ میں نہ آ سکی کہ جب یہ ملک پاکستانیوں کا ہے تو یہاں پاکستانی زبان نافذ کی جائے۔ بڑی معذرت کے ساتھ اس میں بہت بڑا ہاتھ ان لوگوں کا بھی تھا جو اردو کے نام پر قائم اداروں میں بڑی بڑی کرسیوں پر براجمان تھے اور جو نفاذ اردو کی ہر کوشش کو چند باتوں سے ناکام بناتے رہے۔
یہ ملغوبہ زبان ہے
اس میں اصطلاحات نہیں ہیں
اس میں کتابیں نہیں ہیں
اس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں مواد نہیں ہے۔ اور پھر مشکل مشکل عربی اور فارسی میں لتھڑی ہوئی اصطلاحات پیش کر کے ثابت کر دیتے تھے کہ یہ بہت مشکل زبان ہے۔
برباد ہوں یہ لوگ جو جامعہ عثمانیہ اور دیگر علمی اداروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے بجائے چیزوں کو از سر نو کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اس طرح نفاذ اردو کا راستہ مسدود کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
پاکستان کی بدقسمتی کہ یہاں پر عرصہ دراز تک حکومتوں پر ان لوگوں کا قبضہ رہا جو انگریزوں سے تربیت یافتہ اور ان کے محکوم رہے تھے اور ان کی ثقافت، تہذیب، بودوباش اور زبان سے اپنے جسم کے خلیوں تک میں مرعوب تھے۔

کیا کیا جائے؟
ہمیں اس طلسم کو توڑنا یوگا اور اس اثر سے باہر نکلنا ہوگا کہ ہم اردو میں کام نہیں چلا سکتے اور یہ کہ ہمارے لیے انگریزی بہت ضروری ہے۔
کیا اس طرح کی سوچ فرانس، جرمنی، جاپان، چین، روس یا ترکی کے افراد سوچ سکتے ہیں۔ اگر ہمارے لیے انگریزی کسی بھی حوالے سے ضروری ہے تو اتنی اتنی رکھ لیں جتنی ان ملکوں میں ہے، باقی جیسے ان ملکوں میں ان کی زبان نافذ ہے اردو نافذ کر دیں۔

ہم انگریزی میں بہت زیادہ بھیگے ہوئے ہیں؟
کوئی بات نہیں انگریزی کو باہر نکالیں ہماری روح اور جسم ہلکا پھلکا ہو جائے گا، ہم۔حیران ہو ہو کر ایک دوسرے سے پوچھتے رہیں گے کہ اتنے سال ہم یہ غلاظت اپنے اوپر مل کر کیوں پھرتے رہے۔
افسوس ہے پچھلے حکمرانوں پر جن کے دور میں عدالت عظمیٰ نے نفاذ اردو کے لئے انتہائی واضح اور دو ٹوک حکم صادر فرمایا۔ ان کی ذہنی مفلسی کا یہ عالم کہ ان کو یہ ادراک تک نہ ہوا کہ ان کے ہاتھ میں الہ دین کا چراغ رکھ دیا گیا ہے۔ وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے، آئین پاکستان اور پاکستان کے عوام کی توہین کرتے رہے اور قدرت نے ان سے اس توہین کا کھل کر بدلہ لیا۔
یہ بڑی سیدھی سادی بات ہے، ایک جمع ایک دو جیسی، جو ملک جو اس کی زبان وہ اس کی قومی اور سرکاری زبان، یہ بات جاننے کے لئے کسی اعلیٰ ذہانت کی ضرورت نہیں ہے، اور اس پر عمل کرنے کے لیے کسی بہت بڑی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو اپنے گھر میں رہنے بسنے زندگی گزارنے جیسی بات ہے۔ آدمی کب تک ہوٹلوں میں رہ سکتا ہے، وہاں کا کھانا کھا سکتا ہے ہر شخص کو اپنے گھر میں رہنے کی وہاں بسنے کی خواہش ہوتی ہے۔
خیال رہے انگریزی کسی پاکستانی کی زبان نہیں ہے، پاکستان کی زبان نہیں ہے، اس سے جس قدر جلد چھٹکارا حاصل کر لیا جائے یہ پاکستان اور اس میں بسنے والے عوام کے لئے اتنا ہی مفید ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا ، نظم: عہد طفلی بند 2

تکتے رہنا ہائے وہ پہروں تلک سوئے قمر وہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا …

نوائے اقبال، شرح بانگِ درا (نظم: عہد طفلی بند 1)

تھے ديارِ نَو زمین و آسماں میرے لیے وسعتِ آغوشِ مادر اک جہاں میرے لیے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: پاکستان میں نفاذ اردو، کتنی ذہانت کا متقاضی ہے؟ پروفیسر محمد سلیم ہاشمی! This is the link: https://pakbloggersforum.org/how-much-intelligence-is-required-to-implement-urdu-as-national-language/