صفحہ اول / تہذیب و ثقافت / تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

تبدیلی زندگی کی علامت ہے۔ تبدیلی ایک مستقل عمل ہے جو جاری رہتا ہے۔ وقت، موسم انسان، معاشرہ اور اقوام سب تبدیلی کا مظہر ہیں۔ عمرانی لحاظ سے تبدیلی سوچ و فکر کے زاویہ اور طرز عمل کے تبدیل ہونے کا نام ہے۔ تبدیلی مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں میں وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔ بعض تبدیلیاں عارضی اور وقتی ہوتی ہیں اور کچھ تبدیلیاں مستقل ہوتی ہیں۔ بہت سے مواقع پر ہم تبدیلی کا محرک ہوتے ہیں اور کسی موقع پر ہمیں تبدیلی کے زیرِ اثر خود کو تبدیلی کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ بعض تبدیلیاں اس قدر مستقل اور باقاعدہ ہوتی ہیں کہ ہم انہیں تبدیلیوں کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ پھر یہ تبدیلیاں لوگوں کی زندگی پر مختلف طرح اثر انداز ہوتی ہیں اور ہر ایک کی حساسیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ بعض افراد اس قدر ذکی الحس ہوتے ہیں کہ وہ آئندہ ہونے والی تبدیلیوں کا پیشگی اندازہ کر لیتے ہیں اور کچھ اس قدر غیر حساس ہوتے ہیں کہ بڑی سے بڑی تبدیلی کو محسوس نہیں کر پاتے۔
اقوام اور معاشرے افراد سے وجود میں آتے ہیں اور افراد میں انفرادی و اجتماعی تبدیلیاں ہی قوم میں تبدیلی لاتی ہیں۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کا اصول بھی یاد رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک افراد تبدیلی کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی مد نظر رہے کہ تبدیلی محض ہمارے منصوبہ، عمل اور فکر سے نہیں آنی بلکہ اس کے پیچھے ایک سوچ کارفرما ہوتی ہے۔ اگر حاکم وقت یا کسی ادارے کا سربراہ اپنے ملک یا ادارے میں اصطلاحات چاہتا ہے تو اس کے لیے جہاں اس کی منصوبہ بندی اور اس کے مطابق لیے گئے اقدامات اہم ہیں وہیں اس کی اور قوم کی انفرادی و مجموعی سوچ بھی اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو خیر القرون میں ہم ایک ایسا فکر انگیز واقعہ دیکھتے ہیں کہ جب حکمران قوم کی فلاح و بہبود اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے رات کی تاریکی میں شہر کی گلیوں میں گشت کرتا ہے اور ایک گھر کے باہر سے گزرتے ہوئے اس کی سماعت سے پر فکر الفاظ ٹکراتے ہیں۔ یہ الفاظ ایک لڑکی کے ہیں جو اپنی والدہ کا دودھ میں پانی ملانے کا حکم بجا نہیں لاتی اور بتاتی ہے کہ خلیفہ نے اس کام سے منع کیا ہوا ہے۔ اس لڑکی کا اگلا جملہ ہماری عقل کے بند دریچوں کو وا کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب ماں نے بیٹی سے کہا کہ خلیفہ کب ہمیں دیکھ رہا ہے تو دانا و زیرک اور خوفِ خدا رکھنے والی لڑکی نے جواب دیا کہ اللہ تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔
بس اس ایک جملے سے تبدیلی کا اصل محرک معلوم ہو جاتا ہے۔ ذرا غور تو کریں وہ کیا چیز تھی جس نے اس لڑکی کو ملاوٹ کے اس عمل سے روکا اور وہ کون سی قوت تھی جس نے لڑکی کو انکار کرنے کی اخلاقی جرأت دی؟
جواب واضح ہے، خوفِ خدا اور بلا تفریق و تمیز احتساب کا احساس۔
اب ہم دیکھتے ہیں وطن عزیز میں تبدیلی کے خواب کو۔ یقیناً حاکمِ وقت تبدیلی کے لیے پر عزم ہے اور اس کے لیے ضروری اقدامات بھی لیے جا رہے ہیں۔ مگر گزارش ہے کہ آپ جس قدر بھی احتساب اور قانون کے عمل کو سخت، شفاف اور مستعد کر لیں، چیک اینڈ بیلنس پر سو فیصد عملدرآمد مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ جتنے بھی ادارے اور ضابطے بنا لیں جب تک احساس ذمہ داری بیدار نہیں ہوتا حقیقی معنوں میں تبدیلی ناپید رہے گی۔ انفرادی اور مجموعی طور پر خوفِ خدا، تقویٰ اور احتساب کا احساس پیدا کیے بغیر تبدیلی کے اس خواب کی تعبیر ممکن نہیں ہے۔
حکمران سے لے کر وطن کے ہر شہری کو یہ احساس بیدار کرنا ہو گا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ بے شک اللہ کا خوف ہی حکمت و دانائی کے اعلیٰ مقام پر ہونے کی علامت ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سفرِ زندگی کے بدلتے موسم۔۔۔ !!!

سردی کی وجہ سے کرسی ذرا دھوپ میں بچھائی اور گرم گرم سورج کی کرنوں …

تقویٰ کی راہیں۔۔۔ !!! (حصہ اول)  تحریر: جویریہ چوہدری

تقویٰ کا وہ احساس ہے کہ جب دل میں آتا ہے تو اللّٰہ تعالی کی …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد! This is the link: https://pakbloggersforum.org/how-the-change-is-made/