صفحہ اول / قومی / اک قرض…. جو ابھی چکانا باقی ہے… ڈاکٹر ماریہ نقاش

اک قرض…. جو ابھی چکانا باقی ہے… ڈاکٹر ماریہ نقاش

لمحوں کی قید سے آزاد ہو کر پل بیتتے رہے….لمحوں اور پلوں کے تانا بانا بنتے بنتے …گھنٹوں, ہفتوں اور مہینوں کے گزرنے کا پتا ہی نہ چل سکا….اور ماہ و سال کی پت جھڑ اور شب و روز کی قید سے آزاد ہو کر اک بار پھر اگست کا مہینہ آن نازل ہوا….
وہی آزادی کا مہینہ جسے باقی عام مہینوں پر اس لیے بھی برتری حاصل ہے کہ اس مہینے میں ملک آزاد ہوا تھا ….آج آزادی کے اکہترویں سال جب قلم ہاتھ میں لیے میں لکھنے بیٹھی تو بڑے بوڑھوں سے سنے آزادی اور قربانی کے کئ قصے ذہن کی سکرین پر اک تسلسل کے ساتھ گردش کرنے لگے…
کہیں لڑکیوں کو عصمت بچانے کیلیے بھاگتے ہوۓ دیکھ رہی ہوں …..
کہیں عزت لٹنے کے خوف سے کنویں میں کودتی لڑکیاں دکھائ دے رہی ہیں…
کہیں ماں کی چیخوں کے درمیان بچے کو برچھے میں پروتا ہوا منظر آنکھوں کو دھندھلا کر رہا ہے…
کہیں باپ کی کٹتی ٹانگیں دل کو افسردہ کر گئیں….
کہیں بھائی کے چیختے وجود سے گردن الگ ہوتے دیکھ کر وجود لرز سا گیا….
اور کہیں بیٹا بازو کٹوا کر بوڑھے باپ کی ڈھال بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوۓ دکھا تو روح لرز گئ…
گھبرا کر ان مناظر کو نظروں سے دل و دماغ سے اوجھل کرنا چاہا نکالنا چاہا ….
تو….. یہ کیا….؟؟؟
میں ناکام کیوں ہو گئی..؟؟؟
یہ اذیت اور درد بھرے مناظر میری سوچ و فکر کی قید سے آزاد کیوں نہیں ہو رہے؟؟؟
کیوں مجھے اس آزادی کے پر کیف نشے اور خوبصورت آزاد فضاؤں میں اکیلا نہیں چھوڑ رہے؟؟؟
ذہنی قید سے آزاد ہو کر ان آزاد فضاؤں کا مزہ کیوں نہیں لوٹ پا رہی….؟؟؟
یہ اک آزاد ملک ہے جسکی آزاد باشندی ہوں میں….میری اک اک سانس آزاد ہے…پھر کیوں یہ خطرناک مناظر مجھے اپنی قید سے آزاد نہیں کر رہے…؟؟؟
کوئ گھنٹہ بھر ان سوچوں سے لڑنے کے بعد میں جس نتیجے پر پہنچی…آئیے قارئین کرام….!!!
آپ بھی سنتے چلیے….
کیا معلوم
کبھی نہ کبھی…
کہیں نہ کہیں….
کسی بھیڑ میں یا تنہائی میں…
کبھی دکھ میں یا درد میں…
کبھی جلوت میں یا خلوت میں…
کبھی خوشی میں یا غم میں….
کسی سوچ میں یا فکر میں…
آپ بھی کبھی اس کیفیت کا شکار ہوۓ ہوں….
تو ناظرین کرام….!!!
یہ آزادی اک ایسی حقیقت ہے جسے آپ کبھی بھی محسوس کریں تو کچھ افسردہ یادیں اس کے ساتھ وابستہ ہیں….
آزادی کو تصور کرتے ہی وہ قربانیاں آپکی بے قراری اور بے چینی کی وجہ بن جائیں گی….
جیسے دھوپ اور چھاؤں کاساتھ ہے….
دریا اور کنارے کا سنگم ہے….
سمندر اور ساحل دونوں اک دوسرے کا لازمی جزو ہیں….
بادل اور بارش…..
آندھی او طوفان…
کا ساتھ ہے….بالکل اسی طرح آزادی اور قربانی کا ساتھ بھی ازل سے ہے…
آج ہم آزاد ملک کے باشندے ہیں….آزادی حاصل کر کے بے فکر ہیں….بے فکری کی نیند سوتے جاگتے ہیں….
مگر یاد رکھیے ہم سب پر اس آزاد سر زمین کا اک قرض ہے…جو ہم سب کو اپنی اپنی حیثیت میں رہتے ہوۓ اتارنا ہے…
یاد رکھیے…!!
کوئی بھی کیفیت مستقل نہیں ہوتی….
کوئی بھی عروج ہمیشگی حاصل نہیں کر سکتا …
کوئی ذی روح ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتا….
اسی طرح آزادی ہمیشہ قائم رہنے والی چیز کا نام نہیں….
اسے قائم رکھنا ہے…
میں نے…
آپ نے….
ہم سب نے ملکر…
جب تک اس ملک کے سبھی لوگ اپنے اپنے حصے کا کردار ادا نہیں کریں گے….اس ملک کی درو دیوار دائم و قائم اور سلامت رکھنے میں آرمی کا ساتھ نہیں دیں گے…تو یاد رکھیے دنیا کی ابتدا ہی اسی شرط پر ہوئی تھی….( کہ اک دن ہر چیز کو زوال ہے )سواۓ رب تعالی کے….
ارے وہاں تو ماں, بیٹی, باپ, بھائ سب کٹے تھے…مرے تھے….
ہمیں تو یہاں صرف ملک کی سرحدوں کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے…
چاہے وہ فنڈز کی صورت میں ہو…
یا آرمی کے روپ میں جوان بیٹے کی شکل میں ہو…
چاہے نیک خواہشات اور تمناؤں کی شکل میں ہو ….
یا چھوٹی موٹی کوششوں کی شکل میں….
یا…..
اک فکر و خیال اور جذبات کو ابھارتی ہوئی تحریر کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو….
قارئین….!!!
میں اپنے حصے کا کردار ادا کر رہی ہوں… یہ اپنی سوچ میں.,,, قلم اور کاغذ کے ذریعے آپ تک پہنچا رہی ہوں….اب آپکی باری ہے….چاہے پڑھ کر نظر انداز کریں…
یا
عمل کریں….
اور وطن سے محبت کا ثبوت دیتے ہوۓ دوسروں سے بھی عمل کروائیں….اور ملک دوست بن جائیں…..
کیونکہ…..!!!
آزادی اک قرض ہے…جسے ہم سب نے ملکر چکانا ہے….

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

شور نہیں شعور ۔۔۔۔ تحریر : زین اللہ خٹک

زندہ قومیں خوشیاں مناتی ہیں۔ لیکن خوشیاں منانے کے بھی کوئی اصول ہونے چاہئیں۔ حدود …

مسئلہ کشمیر اور ہماری ذمہ داریاں ۔۔۔۔۔ تحریر : عاصم مجید لاہور

کشمیر کے لوگ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کیا یہ جنگ محض اپنے لیے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: اک قرض.... جو ابھی چکانا باقی ہے... ڈاکٹر ماریہ نقاش! This is the link: https://pakbloggersforum.org/ik-qarz-jo-abi-chukana-baqi-hy/