صفحہ اول / سلائڈر / 14 اگست یوم آزادیِ پاکستان ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل

14 اگست یوم آزادیِ پاکستان ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل

آج کی میری اس تحریر کا مقصد یوم آزادی پر ہماری ذمہ داریاں کی نشان دہی کرنا ہے۔آزادی ایک نعمت ہے اس کی قدر ان کو ہی ہوتی ہے جن نے کچھ کھویا ہوتا ہے اس کے لیے یا جن کے پاس یہ نعمت نہی ہوتی۔ 14 اگست کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب وطنی کا جذبے بھرپور ایک خاص دن ہوتا ہے ۔۔ ایک ایسا دن جس کا بچوں اور نوجوانوں کوعید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا ہے ۔۔ گھروں ، چھتوں ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کو لوگ سجانا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ بچوں کے سکولوں کالجوں وغیرہ میں بھی خاص پروگرام ہوتے ہیں ۔۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے تجزیے، کالم نویسوں کے کالم بہت عجیب اور حیران کن انداز میں بات کرتے ہیں 14 اگست کی اہمیت اور اسکی بنیاد کو کھوکھلا کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہتے ہیں اور کچھ حضرات بیرون ِ ملک سے خرچہ لے کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں انھیں غیرت کھانی چاہیں اور انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ 14 اگست صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک خاص تہوار ہے جس دن پاکستان معرض وجود میں آیا ۔۔
14 اگست، آزادی، اور جشنِ آزادی کا مفہوم کیا ہے، عام لوگ اور بالخصوص نئی نسل کی اکثریت اس سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ان پڑھ تو چلو پروپیگینڈے کا شکار ہیں، لیکن پڑھے لکھے بھی غیر تاریخ کے طوطے بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کا تصور ان سب کے لیے ایک مجرد اور رومانوی تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی۔ کس سے حاصل کی، کیوں حاصل کی، اور کیسے حاصل کی؛ ان بنیادی سوالات سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ اس روز ایسے بینر بھی آویزاں کیے جاتے ہیں، جن پر آزادی کے شہیدوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ 14 اگست اور آزادی کا تصور محض ایک خالی خولی نعرے میں تبدیل ہو گیا ہے اور ظاہری ٹیپ ٹاپ، دکھاوا، ہلڑ بازی اور لاقانونیت اس دن کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ہم لوگ سارا سال پاکستان کی کمزوریوں پر مباحث میں اُلجھے رہتے ہیں جو خصوصاً اگست کے مہینے میں مزید دھواں دھار صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر سال میں ایک دن یہ بھی سوچ لیا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں ہم نے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کیا کیا؟ ہمارا کون سا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کے لئے تھا؟ تو شاید بہت سی بے مقصد باتوں پر بحث میں وقت ضائع نہ ہو۔14 اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے اس کے علاوہ پاکستانی جو بیرونِ ملکوں میں مقیم ہیں وہ بھی بہت جوش خروش سے اس دن کی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں ۔۔ بلخوص پچھلے سال مجھے دبی میں 14 اگست منانے کا موقع ملا ۔۔ یہ دن وہاں موجود پاکستانیوں کے لیے باعث فخر اور پرمصرت ہوتا ہے ۔۔ اس دن نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک میں بھی لوگ پاکستان جھنڈوں سے گھروں کمروں ، اپنی رہائش گاہوں کو سجاتے ہیں ۔۔ دنیا کو دکھاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ پاکستان اس دن آزاد ہوا تھا اور دو قومی نظریہ کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان کیوں بنا ۔۔پاکستان بنانے کے لیے بزرگوں ، نوجوانوں ، بچوں ، یعنی مسلمانوں نے بہت قربانیاں دی ہیں ۔۔14 اگست 1947ء کا سورج برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزادی کا پیامبر بن کر طلوع ہوا تھا۔ مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ انگریزوں بلکہ ہندؤوں کی متوقع غلامی سے بھی ہمیشہ کے لیے نجات ملی تھی۔ آزادی کا یہ حصول کوئی آسان کام نہیں تھا جیسا کہ شاید آ ج سمجھا جانے لگا ہے۔ نواب سراج الدولہ سے لے کر سلطان ٹیپو شہید اور آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر تک کی داستاں ہماری تاریخ حریت و آزادی کی لازوال داستان ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے المناک واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سات سمندر پار سے تجارت کی غرض سے آنے والی انگریز قوم کی مسلسل سازشوں، ریشہ دوانیوں اور مقامی لوگوں کی غداریوں کے نتیجے میں برصغیر میں مسلمانوں کی حکومتیں یکے بعد دیگرے ختم ہوتی چلی گئیں۔ اگرچہ مسلمان حکمرانوں اور مختلف قبائل کے سرداروں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر اور جان و مال کی عظیم قربانیاں دے کر انگریزوں کو یہاں تسلط جمانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کیں تھیں۔قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا خوبصورت بات کی تھی۔: پاکستان اسی دن یہاں قائم ہو گیا تھا، جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا:۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز کی حکمرانی کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ انگریزوں اور ان کے نظام سے نفرت اور بغاوت کے واقعات وقفے وقفے کے ساتھ بار بار سامنے آتے رہے تھے۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے جو عظیم قربانیاں دی ہیں اور جو بے مثال جدوجہد کی ہے۔ یہ ان کے اسلام اور دو قومی نظریے پر غیر متزلزل ایمان و یقین کا واضح ثبوت ہے۔ انہی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔جب ہم تحریک پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اس تاریخی جدوجہد میں یہ بات سب سے زیادہ نمایاں طور پر ہمیں نظر آتی ہے کہ مسلمان اپنے جداگانہ اسلامی تشخص پر مصر تھے۔ یہی نظریہ پاکستان اور علیحدہ وطن کے قیام کی دلیل تھی۔ ہر قسم کے جابرانہ و غلامانہ نظام سے بغاوت کرکے خالص اسلامی خطوط پر مبنی نظام حیات کی تشکیل ان کا مدعا اور مقصود تھا۔ جس کا اظہار و اعلان قائد اعظم محمد علی جناح نے بار بار اپنی تقاریر اور خطابات میں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کے کونے کونے میں: لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان۔ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ؛ اور پاکستان کا مطلب کیا؟، لا الہ الا اللہ
یہ نعرے برصغیر کے مسلمانوں کے دلی جذبات کے حقیقی ترجمان تھے۔عرصہ دراز سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کو آزادی ملنے کی امید پیدا ہو چلی تھی۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پھر انگریزوں کے چلے جانے کے بعد وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندو بنیا کی غلامی میں چلے جائیں گئے۔ وہ ہر طرح کے سامراج سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دی جاسکتی تھی، مگر اس مقصد سے پیچھے ہٹنا انہیں گوارا نہ تھا۔پاکستان کا قیام شب قدر، جمعۃ الوداع ماہ رمضان المبارک 1368ھ بمطابق 14 اگست 1947ء عمل میں آیا۔ ظہور پاکستان کا یہ عظیم دن جمعۃ الوداع ماہ رمضان المبارک اور شب قدر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، محض اتفاق نہیں ہے بلکہ خالق و مالک کائنات کی اس عظیم حکمت عملی کا حصہ ہے 13 اپریل 1948 ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایا:-
” ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں”پاکستان کرہ اراض کا واحد ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ایک نظریہ پر رکھی گئی اور وقت کی سفاک طاقتوں سے اس نظریہ کو منوانے کیلئے اسلامیان ہند نے جو انگنت قربانیاں دیں اقوام عالم کی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ برسہا برس کی جدوجہد کے بعد ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک قرآن پر ایمان رکھنے والوں نے ایک قائد کی قیادت میں پاکستان اس نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جس کا طرز زندگی، ثقافت اور دین سب سے الگ ہے۔ اس قوم کا کسی بھی دوسری قوم میں یا قومیت میں ضم ہونا قطعی طور پر ناممکن ہے۔دو قومی نظریہ کیا یا اس کی بنیاد کیا ہے؟ اس کا انداز بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کی اس تقریر سے کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے 8 مارچ 1944 کو علی گڑھ یونیورسٹی میں طلبا کے اجتماع میں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا۔ ’’پاکستان اس دن معرض وجود میں آ گیا تھا جب ہندوستان میں پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا‘‘ اسی طرح 17 نومبر 1945 کو بابائے قوم نے ایڈورڈ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’ہم دونوں قوموں میں صرف مذہب کا فرق نہیں، ہمارا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے۔ ہمارا دین ہمیں ایک ضابطہ حیات دیتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ہم اس ضابطہ کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔
اب کچھ عرصے سے ان عناصر کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا واویلا کیا جا رہا ہے۔ ایسے لوگوں کی عقل کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ان سے پوچھا جائے کہ کیا پاکستان بھارت کو اس لئے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دے دے کہ اس بھارت نے 1947ء سے پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو اپنے پنجہ استبداد میں لے رکھا اور اپنے وطن کشمیر کو آزاد کرانے کی جدوجہد کرنے والے لاکھوں کشمیری نوجوانوں کو شہید کرچکا اور کرتا رہتا ہے۔
بھارت پاکستان آنیوالے دریائوں پر اپنے زیر تسلط علاقوں میں غیر قانونی بند باندھ کر پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی روش پر قائم ہے جس کا مقصد پاکستان کے سرسبز علاقوں میں پانی کی ترسیل بند کرنا اور اسے ریگستانوں میں تبدیل کرنا ہے۔ تاکہ پاکستان کے مسلمانوں کو ایتھوپیا ایسے سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے یہاں کے لوگ اناج کے ایک ایک دانے کو ترسیں۔دوقومی نظریہ اور پاکستان کے بارے میں جو لوگ غلط باتیں کرتے ہیں انھیں کشمیر کے حالات نظر نہیں آ رہے ۔۔ ِ؟؟ جمعوں کشمیر میں بھارتی کیسے ظلم و ستم کی داستانیں رقم کر رہے ہیں ۔۔دو قومی نظریے کی بنیاد غیر منقسم ہندوستان میں سب سے پہلے البیرونی نے اپنی کتاب ”کتاب الہند“میں پیش کی۔ اس نے واضح طور پر لکھا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں بلکہ اس نے تو یہاں تک بتایا کہ ہندو مسلمانوں کو نیچ قوم قرار دیتے ہیں اور ان سے کراہیت کرتے ہیں۔شبہ مسلمان اور ہندو سینکڑوں سال سے رہ رہے تھے مگر جیسا کہ البیرونی کی کتاب ” کتاب الہند ” میں ذکر ہے کہ ہندو مسلمانوں کو نیچ سمجھتے تھے ۔ مسلمان ایک نیچ قوم کی حیثیت سے ذہنی غلام تھے ۔ یا د رہے کہ یہ وہ مسلمان نہیں تھے جو ایران ، ترک یا عرب سے آئے تھے ان سیدوں ،شیرازیوں ، گیلانیوں ، برلاس ، قریشیوں بخاریوں کو مقام حاصل تھا یہ وہ مسلمان تھے جن کا نسلی تعلق ہندووں ہی کی مختلف برادریوں سے تھا جن میں بگٹی ، مینگل ، بھٹو ، بھٹی ، شیخ ، راو ، رانا ،کھوکھر، سبھی شاامل تھے ۔مگر ان کے قبول اسلام ہی سے وہ ہندو قوم سے جدا ہو کر امت مسلمہ میں شامل ہوگئے اور ہندووں کی نظر میں نیچ کہلائے ۔برصغیر میں دو قومی نظریہ اتنا ہی پرانا ہے جتنی تاریخِ اسلام پرانی ہے ۔ پاکستان بنانے کا مقصد بہت عظیم تھا
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان 14 اگست کو نہیں بلکہ پندرہ اگست کو بنا جناب بات یہ کہ اعلان کو ہوا ، اور ہجرت بھی لوگوں نے 14 اگست سے شروع کر دی ، یہ بات نہیں ہے کہ کب پہنچے یا کب انکو منزل پر پہنچے کی مبارک باد دی گئی ۔۔ جب اعلان ہوا کہ پاکستان بن گیا ہے لوگ ہجرت کر کے یہاں آجائیں ۔۔ وقت اوردن تو وہ نوٹ کیا جاتا ہے ۔۔ اور سب سے بڑھ کر شب قدر کی مبارک شب تھی اور 14 اگست کا دن تھا ۔۔
کچھ لوگ نئی نسل کو کس بحث مباحثے میں ڈال رہے ہیں ؟؟ اس سے کیا حاصل ۔۔ ملک اور آزادی کی قدر غلام ملکوں سے پوچھو ، کشمیریوں سے فلصطینیوں ، اعراقیوں سے پوچھو ۔۔پاکستانیوں آپ کی نگاہ اس طرف کم گئی ہے دنیا کی تاریخ میں اتنی قلیل مدت میں یہ وہ پاکستان ہے جس نے 63 سال کی عمر میں 8 جنگیں لڑیں تقسیم کے وقت1948 کشمیر کی جنگ، 1965 میں ہندستان کی مسلط کردہ جنگ، 1971 میں ہندوستان کی مسلط کردہ جنگ، 1999 میں کارگل کی جنگ، دنیا کی سپر پاور روس سے افغانستان میں جنگ، دنیاکی سب سے بڑی 50 لاکھ مہاجرت کو اپنے ملک میں پناہ دی. موجودہ دوسری سپر پاور امریکہ سے جنگ اس کے باوجود پاکستانیوں پاکستان زندہ بلکہ ایٹمی قوت بھی ہے. یہ وہ پاکستان ہے جس کے خلاف اسرائیل، انڈیا اور امریکہ نے اتحاد کرلیا ہے لیکن اس وقت تک اللہ کے حکم سے ناکام ہیں یہ وہ پاکستان ہے جس نے عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کے چھ ایف سولہ جہاز گرائے تھے۔14 اگست وہ دن ہے جب ہر ایک کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا عہد کرنا ہو گا۔پا کستان جیسی فوج کسی ملک کے پاس نہی ہے۔پا کستان جیسی عوام کسی ملک کے پاس نہی ہے۔بس چند ایک دشمن ممالک کے ایجنٹ جو پا کستان کے خلاف بکتے ہیں۔کبھی سندھ تحریک شروع کرتے ہیں اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے تو کبھی بلوچستان میں ٹی ٹی پی آ جاتی ہے ۔کبھی انڈیا کلبھوشن لانچ کرتا ہے ۔تو کبھی امریکہ شکیل آفریدی لانچ کرتا ہے۔کبھی خیبر پختون خواہ میں پی ٹی ایم آ جاتی ہے ۔اس کے نمائندے پاک فوج کی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔پاک فوج کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہیں۔دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔پاکستان کے عوام کو چاہیے کہ پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔جس ملک کی فوج نہی ہوتی وہ کبھی کامیاب ہو ہی نہی سکتا۔ہم سب کو آج پاکستان کی ترقی کے لیے کوشاں رہنا چاہیے اور ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے۔اگر آزادی کی نعمت کو جاننا اور پہچاننا ہے تو فلسطین کی عوام سے پوچھو ،اگر آزادی کی نعمت کوپہچاننا ہے تو مظلوم کشمیریوں سے پوچھو ،غزہ کی عوام سے پوچھو،برما کی عوام سے پوچھو ۔اس لیے آزادی کی قدر کرو اور اپنے ملک۔کی ترقی کے لیے کوشاں ہو جاؤ۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

رات گئی بات گئی

بابا مستانہ کی فہم و فراست کے مطابق” رات گئی بات گئی” والی منطق کے …

مٹی پاؤ

مٹی پاؤ ایک ایسا نایاب فارمولا ہے جس کے موجد غالباً چوہدری شجاعت حسین ہیں …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: 14 اگست یوم آزادیِ پاکستان ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل! This is the link: https://pakbloggersforum.org/indepence-day/