صفحہ اول / عبدالواسع برکات / دہشت گردی کا شکار  عالمی یوم امن ۔۔۔ تحریر : عبدالواسع برکات

دہشت گردی کا شکار  عالمی یوم امن ۔۔۔ تحریر : عبدالواسع برکات

عالمی یوم امن جی ہاں یہ ہر سال 21 ستمبر کو منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد لوگوں میں امن کی اہمیت اور امن کی ضرورت بتانا ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے تمام اراکین ممالک مناتے ہیں اور اپنے ملک کی عوام کو امن کی اہمیت بتاتے ہیں ۔ یہ دن اقوام متحدہ سے بین الاقوامی طور پر اعلان شدہ ہے ۔ اقوام متحدہ نے لازمی طور پر امن کے لیے اہداف بھي مقرر کیے ہوں گے جس کو اس کے تمام رکن ممالک نے منظور بھی کیا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی پوری دنیا میں پھيلی ہوئی یہ تمام کوششیں اور کاوشیں اپنی جگہ قبول جاسکتی ہیں لیکن ان کوششوں کا دنیا میں کوئی فائدہ بھی نظر آتا ہے یا نہیں ؟؟
193ممبر ممالک کی امن کے حصول کی تمام جدوجہد ، ہر ملک میں لا تعداد امن تنظیمیں بھی موجود ہیں ، بین الاقوامی امن ایوارڈ موجود ہیں ، دنیا کا ہر ملک ہر فرد ہر تنظیم امن کا داعی بنا ہوا ہے سیکڑوں تقریبات ، سیمنارز، ریلیوں کا انعقاد ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ہر طرف بدامنی ، نفسا نفسی ، خوف وہراس کی فضا ء، قتل و غارت گری ، اغوا کاروں کی کاروائیاں اپنے جوبن پر ہیں ، ملکوں کی ایک دوسرے کو زِیر کرنے کی کوششیں جاری ہیں ، اسلحہ کی خریدوفروخت کے بھاری معاہدے بھی جاری ہیں ۔انسانیت خطرے میں نظر آرہی ہے ۔
UNO کے رکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دہشت گردی سے عراق تباہ ہو چکا ۔ شام کی تباہی جاری ہے ۔ افغانستان میں بھی انسانیت کے ساتھ جنگ جاری ہے ۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے ہی رکن ملک اسرائیل کے ہاتھوں فلسطین میں کئی دہاہیوں سے انسانیت سسک کر مر رہی ہے ۔ بچے بوڑھے معذور ہورہے ہیں ۔ برما میں انسانیت کے قتل کا ننگا کھیل کھيلا جا چکا ہے ، جس کو پوری دنیا جانتی ہے۔
اور یہ حالیہ دن جو گزر رہے ہیں ان میں سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت جو اقوام متحدہ کا رکن ملک بھی ہے اس نے اقوام متحدہ کی تمام تر امن کوششوں کی دھجیاں بکھیڑتے ہوئے کھلم کھلا دہشت گردی کرکے کشمیریوں پر زندگی بند کردی ہے ان کی سانسوں کو بند کیا جا رہا ہے ۔ نہ خوراک پہنچائی جا رہی ہے نہ ہی میڈیکل کی سہولیات دی جا رہی ہیں ، ایمبولینس کا پہیہ چل رہا ہے اور نہ ہی ہسپتال کھلے ہیں کشمیری گھروں میں قبریں بنا نے پہ مجبور ہیں ۔ کشمیر میں دہشت گرد رکن بھارت کے ہاتھوں انسانیت سسک سسک کر مر رہی ہے ، ایڑیاں رگڑتی انسانیت کو تڑپا تڑپا کر اس سے دشمنی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔
آج اقوام متحدہ میں بھی یوم امن منایا جا رہا ہے اور اس کے حکم پر پوری دنیا بھی امن ڈے منا رہی ہے لیکن فلسطین ﴾، عراق، شام، افغانستان اور کشمیر کے نہتے سسکتے انسانوں کو امن دئیے بغیر ہم کیسے یوم امن منا سکتے ہیں ؟؟ اقوام متحدہ کا کیا کردار ہے ؟؟؟ کیا اقوام متحدہ بھارت اسرائیل اور امریکہ جیسے دہشت گرد ممالک کو لگام نہیں ڈال سکتی؟ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ امریکہ بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں اقوام متحدہ یرغمال بنی ہوئی ہے، ان تین ممالک کی مسلسل دہشت گردی کو اقوام متحدہ نظر انداز کرکے مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ہر کاروائی سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے ۔لگتا ہے اس کی تمام تر کوششیں نام نہاد امن کی خاطر ہیں ۔ اگر اقوام عالم حقیقی امن کی خواہاں ہے تو 47دن ہو چکے ہیں کشمیر کو جیل میں تبدیل ہوئے کیا اقوام متحدہ نے امن فوج اتار دی ؟؟؟؟ کیا اس نے اپنے مبصر بھیجے ؟؟؟ کیا یونیسف نے اپنے ڈاکٹروں کا مشن بھیجا ؟؟؟ پھر یہ عالمی یوم امن منا کر دنیا کو دھوکہ اور فریب دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ اقوام متحدہ دنیا میں امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور اس کی غیر جانبداری پر بھي سوالیہ نشان کھڑا ہے ۔ مسلمانوں کے علاوہ دنیا میں کسی اور مذہب کا مسئلہ ہو اور یہ اقوام متحدہ دنوں میں معاملہ حل کر دے گی مگر مسلمانوں کے مسائل کو پچاس پچاس سال ہو چکے ہیں کوئی ایکشن ہی نہیں لیا جا رہا ۔ مسلمانوں کے احتجاج کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ یہ اقوام عالم کے کردار پر سوالیہ نشان ہے ۔
اقوام متحدہ سے امید رکھنا کہ یہ کشمیر فلسطین کا مسئلہ حل کروا دے گی نا ممکن ہے۔ آئیے اسلام کی طرف اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو اللہ رب العزت نے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ پر نازل کیا ۔ یہ دین اس بات کا درس دیتا ہے کہ رنگ و نسل کے بغیر انسانیت کا تحفظ کیا جائے ۔ اسلام ہی یہ درس دیتا ہے کہ ظالم جو بھی ہو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور ہر مذہب کے مظلوم کی داد رسی کی جائے اس کے زخموں پہ مرہم رکھی جائے اس کو امن دیا جائے ۔ اسلام ہی ہے جو ظلم کو برداشت نہیں کرتا ۔ یہ اسلام ہی ہے جو ہر مذہب کے پیروکاروں کو تحفظ دیتا ہے ان کی عبادتگاہوں کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ یہ اسلام عیسائی یہودی بدھ مت کی عورتوں بچوں کو ان کے گھر والوں سے زیادہ عزت دیتا ہے ۔
آج بھي اسلام کے پیروکار امن کے داعی بن کر کھڑے ہیں ۔ سعودی عرب پر ڈرون حملے اور پاکستان پر مسلسل انڈیا کے چھوٹے پیمانے پر سرحدی حملے، را کے اندرونی حملے، افغانستان سے اتحادیوں کے حملے، اس کے باوجود مسلم ممالک صبر کا دامن تھامے امن کے پیغامبر بن کر کھڑے ہیں کہ شاید پر امن طریقوں سے یہ مسائل حل ہو جائیں ۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی۔ پاکستان بھارت کے کئی ہوابازوں کو ابھی نندن سمیت صرف امن کی خاطر انڈیا کے حوالے کر چکا ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کو اہمیت دی صرف امن کے فروغ کے لیے ۔ لیکن انڈیا نے ہمیشہ پاکستان کی امن کوششوں کے جواب میں دہشت گردی کو فروغ دیا ۔ انسانیت کا قتل عام کیا ۔
اقوام متحدہ بتائے کہ دنیا میں کون سا مسلم ممالک ہے جو دہشت گردی کو پھيلا رہا ہے؟ لیکن اس کے برعکس بے شمار مسلم ممالک ایسے مل جائیں گے جو دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ کیوں کہ ان کا اسلام اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا ۔ اسلام تو اس بات کا بھي درس دیتا ہے کہ جنگ کے دوران بھي دشمن کی عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں پہ تلوار نہیں اٹھانی ۔
عالمی یوم امن پہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ آج کشمیر کی عورتوں اور بچوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں کو کس نے بچانا ہے ؟؟ کیا کشمیری بھی یوم امن منائیں گے ؟؟ وہ تو اپنی ہی سرزمین پر قید کردیے گئے ہیں ۔ ان کے تو گھروں کا بھي امن تباہ کر دیا گیا ہے ان کے سکولوں کالجوں ، ہسپتالوں مارکیٹوں پر اور گھروں کے دروازوں پہ فوجی بٹھا دیے گئے ہیں ۔ مجھے لگتا ہے کشمیر میں امن کو ہی ذبح کر دیا گیا ہے ۔
اقوام متحدہ اگر حقیقی اور پائیدار امن کی خواہاں ہے تو امریکہ بھارت اور اسرائیل کی کھلی دہشت گردی کو لگام ڈالنی پڑے گی غیر جاندارانہ فیصلہ کرنا ہوں گے ۔ کشمیر ، فلسطین ، یمن ، شام جیسے دہشت گردی کا شکار تمام ممالک کے باسیوں کو امن فراہم کیا جائے۔ مسلم اور غیر مسلم میں تفریق ختم کرکے صرف انسانیت کی بنیاد پر پوری دنیا کے انسانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا جو رکن ممالک دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہوں  ان کی رکنیت معطل کر دی جائے ان پر پابندیاں عائد کی جائیں ۔ یہ اعمال کرکے ہم حقیقی اور پائیدار امن تک پہنچ سکتے ہیں ورنہ یہ کھوکھلے نعرے اور دکھلاوے کی کوششیں کبھي کامیاب نہیں ہو سکتیں ۔ اور ہر سال یوم امن دہشت گردی کا شکار رہے گا ۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 6)

آتی ہے ندّی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی …

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 5)

جنبشِ موجِ نسیم صبح گہوارہ بنی۔۔۔ا جھومتی ہے نشہء ہستی میں ہر گل کی کلی۔۔۔! …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: دہشت گردی کا شکار  عالمی یوم امن ۔۔۔ تحریر : عبدالواسع برکات! This is the link: https://pakbloggersforum.org/international-day-of-peace-under-the-shadow-of-terrorism/