صفحہ اول / سلائڈر / ” فکر اقبال اور بین المذاہب ہم آہنگی”

” فکر اقبال اور بین المذاہب ہم آہنگی”

آج اقبال اکادمی اور مجلس اقبال و رومی کے زیر اہتمام ” فکر اقبال اور بین المذاہب ہم آہنگی ” کے موضوع پر بہت خوبصورت تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ھندو’ سکھ’ عیسائی’ اقلیتوں کی بھرپور نمائندگی تھی۔ تقریب کے مہمان خصوصی پسر اقبال سینیٹر ولید اقبال تھے۔ تقریب کے میزبان اقبال اکیڈمی کے سیکرٹری جنرل طاہرحمید تنولی تھے۔ نظامت کے فرائض اعجاز شیخ نے انجام دیے ۔ اقلیتی رہنماؤں نے اپنی تقریر میں پاکستان کی بین المذاہب ہم آہنگی کی کوششوں کوسراہا۔ پاکستان قومی زبان تحریک کی رہنما فآ طمہ قمر نے اپنے خطاب میں کہاکہ ” وہ ادارے اور شخصیات انتہائی لائق تحسین ہیں جو موجودہ دور کے سرکاری اقبال فراموشی کے دور میں فکر اقبال کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی باشعور اور قومی سوچ کی حامل ‘ قائد و اقبال کے دستے کی سپاہی قوم کو یوم اقبال کو ” یوم راہداری کرتار پور” کے طور پر منانے پر بے حد تشویش ہے۔ کیا کوئی سکھ اپنے ملک میں گو رونانک کے یوم پیدائش پر یوم قائد اعظم یا یوم اقبال کو قومی تقریب کے طور پر مناسکتا ہے؟ اگر اس کا جواب نہیں ہے پھر حکمران بھی سن لیں کہ یہ ملک جس کے وہ حکمران ہیں یہ ملک اقبال کے تصور کی روشنی میں قائم ہوا اقبال اس ملک کے نظام اور نظریات میں خون کی طرح سے گردش سے کرتا ہے۔ فکراقبال کومٹانے والے سابق حکمران ذلیل خوار ہورہے ہیں اور موجودہ حکمران ان سے عبرت حاصل کریں۔ حکمران مت بھولیں کہ اگر اقبال اس ملک کا نظریہ پیش نہ کرتے اور قائد اعظم کو برصغیر کے مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے تیار نہ کرتے تو یہ ملک بھی وجود میں نہ آتا۔ محترمہ نے اقلیتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے کبھی بھی کسی مذہب کے روحانی پیشواؤں کوبرابھلانہیں کہانہ ان کی شان میں گستاخی کی۔لیکن غیرمسلموں نے ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ اس سلسلے میں زیادتی کی ہے ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔برصغیر میں برطانوی راج میں دو ھندوؤں نتھورام نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ‘ مسلمانوں نے اس گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف مقدمہ بھی دائر کیا۔لیکن بے سود! پھر عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خود جہنم واصل کرکے شہادت کا جام نوش کیا۔قابل ذکر افسوس کی بات یہ ہے کہ آج تک دنیا کی کسی بھی عدالت نے گستاخ رسول کو پھانسی کی سزا نہیں دی۔ جس کسی نے بھی گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جہنم واصل کیا اپنے جذبے حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جذبات سے مغلوب ہوکر کیا۔ یورپی ممالک میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخانہ خاکے بنانے جارہے ہیں۔ کیا مہذب دنیا کو مسلمانوں کے ساتھ کی گئ یہ گستاخی نظر نہیں آرہی ہے۔ بین المذاھب ہم آہنگی کا پرچار کرنے والے سن لیں کہ مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کی محبت میں دیوانے ہیں۔وہ کتنے بھی گناہ گار کیوں نہ ہوں لیکن حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شعلہ ان کے دل میں ہر وقت روشن ہے۔ لہذا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی پر وہ کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ فا طمہ قمر نے مذید کہا کہ پوری اسلامی دنیا میں کرسمس کے موقع پر عیسائی کمیونٹی کودل کھول کرچھٹیاں دی جاتی ہیں ۔ جومسلمان مغربی ممالک میں مقیم ہیں ان کو بھی عیدین پر چھٹیاں دی جائیں۔ عید مسلمانوں کا ایک بہت عظیم تہوار ہے۔ مغربی ممالک میں مقیم پاکستانی عیدین پر بھی اپنی ملازمت پر حاضر ہوتےہیں مسلمانوں کے ساتھ یہ
نا انصافی ختم کی جائے۔ پاکستان میں ھندو’ مسلم ‘ سکھ ‘ عیسائی کو بھی ان کے مذہبی تہوار کی مناسبت سے چھٹیاں سہولت سے ملتی ہیں۔پاکستان میں جتنے حقوق اقلیتوں کو حاصل ہیں۔اتنے حقوق اکثریت کو حاصل نہیں۔ مذید حقیقت دیکھنی ہو تو بھارت کو دیکھ لیں جہاں گزشتہ روز ہی مسلمانوں کی مسجد شہید کی گئ۔ ہم غیر مسلموں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کشمیر’ فلسطین ‘ عراق’ شام ‘ برما ہر جگہ مسلمانوں پر ظلم ڈھایا جارہاہے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور ظالم ممالک کا سوشل بائیکاٹ ایسے ہی کریں جیسے اسلحے کےبہانے سے اقوام متحدہ نے عراق کا بائیکاٹ کیا۔ کشمیر پر کرفیو کے 105 دن گزر گئے ہیں۔۔ انسانی تاریخ میں اتنا بڑا کرفیو کہیں لگا ہوتو بتایا جائے’ مہذب اور باوقار اور حساس پاکستانی جاننا چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کا قصور کیا ہے؟ کشمیریوں کی آزادی تو ایک طرف رہی کیا کشمیریوں کو زندہ رہنے کا بھی حق نہیں ہے؟ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ موجود ہیں سب مل کر بھارت اور اسرائیل کا سوشل بائیکاٹ کریں کہ یہ دو ممالک بنیادی انسانی حقوق کو کچلنے میں سرفہرست ہیں۔ اور دنیا کا امن تباہ ان دونوں ممالک کی انتہائی پسندی ‘ غنڈہ گردی کی وجہ سے ہے۔ محترمہ نے فکر اقبال کے حوالے سے کہا کہ اقبال نے ازادی سے متعلق اپنا سارا کلام اردو میں پیش کیا۔ جس نے برصغیر کے مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ بیدار کی۔ اگر وہ اپنا پیغام انگریزی میں دیتے تو وہ کبھی بھی عوام الناس میں پذیرائی حاصل نہ کرتا’تحریک پاکستان کے دنوں میں علامہ کا اردو و فارسی کلام ضربِ المثل بن گیا تھا ”
اتنا خوبصورت پروگرام پیش کرنے پر ہم اقبال اکادمی کے سکریٹری جنرل طاہر حمید تنولی ‘ ڈاکٹر جاوید یونس اپل اور اعجاز شیخ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: " فکر اقبال اور بین المذاہب ہم آہنگی"! This is the link: https://pakbloggersforum.org/iqbal-and-inter-religion-coordination/