صفحہ اول / تہذیب و ثقافت / عدل و انصاف

عدل و انصاف

بدقسمتی سے پاکستان دنیا کا وہ واحد بدنصیب ملک ہے جو بنا تو اسلام کے نام پر ہے مگر اسلام اس ملک میں حکومتی سطح پر دور دور تک نظر نہیں آتا۔
اسلامی معاشرہ اس وقت تک اسلامی نہیں کہلاتا جب تک وہ مکمل طور پر اسلام کے زیر سایہ پنپ نہ رہا ہو۔
ہر معاشرے کی حیات جاودانی کا سہرہ عدل وانصاف کے سر ہے جن معاشروں میں عدل وانصاف نہیں انہیں زندہ درگور سمجھیں اور جن معاشروں میں عدل وانصاف کا دوہرا معیار ہو وہ نہ تو زندوں میں ہیں اور نہ مردوں میں۔
اسلامی نظامِ حکومت اور طرز معاشرت کی بنیادعدل و انصاف پر رکھی گئی ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اے ایمان والو! تم عدل و انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اوراللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ وہ گواہی خود تمہارے اپنے یا تمہارےوالدین یا تمہارے رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اگرچہ جس کے خلاف گواہی ہو وہ مال دار ہے یا محتاج، اللہ ان دونوں کاتم سے زیادہ خیر خواہ ہے، سو تم خواہش نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ ۔ اور اگر تم گواہی میں گھما پھرا کر بات کرو گے یا حق سے پہلو تہی کرو گے تو بے شک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کررہے ہو خبردار ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کواسلامی معاشرے کے لئے حرف آخر فرما دیا کیونکہ عدل وانصاف ہی میں انسانیت کی بقاء مضمر ہے۔
ہمارے ہاں عدل و انصاف کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔امیر کے لئے الگ عدل وانصاف ہے اور غریب کے لئے الگ۔امیر مال و دولت اور ثروت کے بل بوتے پر عدل وانصاف کو خرید کر اپنی لونڈی بنا لیتا ہے اور پھر جیسے چاہتا ہے اسے استعمال کرتا ہے لیکن غریب عدل وانصاف کے لئے مارا مارا پھرتا ہے بالآخر عدل و انصاف کی تگ ودو میں اس کی بھینٹ چڑھ کر خود ہی مر جاتاہے اور عدل وانصاف اس کی لاش پر محو رقص ہو کر شادیانے بجاتا ہے۔
ہمارے ملک میں جو جتنا بڑا چور ڈاکواور بددیانت ہے عدل وانصاف اتنا ہی اس کا غلام اور تابعدار ہے،یہاں کے منصفوں کو اللہ کا خوف ہی نہیں ہے اور نہ ہی وہ فیصلہ کرتے وقت قرآن وسنت کو مدنظر رکھتے ہیں۔
ہاں لیکن غریب اور کمزور کے لئے منصفوں کے قلم عدل وانصاف پر پورے اترتے ہیں اور برحق فیصلے ہوتے ہیں انہیں پھانسیاں بھی ملتی ہیں اور انہیں عمر قید کی سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔
قرآن مجید میں سورۃ المائدہ میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اور اگر آپ فیصلہ فرمائیں تو ان کے درمیان بھی عدل سے ہی فیصلہ فرمائیں ۔بے شک اللہ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے عدل وانصاف کو پسند فرمایا ہے جو لوگ یا معاشرے عدل وانصاف پر کاربند نہیں رہتے وہاں جانوروں سے بھی بدتر انسانی زندگی کی تذلیل ہوتی ہے
سورۃ الشوریٰ میں اللہ فرماتا ہے:
(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیجئے جو کتاب بھی اللہ نے اتاری ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں۔‘‘
اسی طرح قرآن مجید کی سورۃ المائدہ میں اللہ فرماتا ہے:
’’اور جولوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں سو وہی لوگ کافر ہیں۔‘‘
عدل وانصاف میں سب سے بڑی رکاوٹ رشوت ہے،رشوت ایک ایسا خوفناک کینسر ہے جو ضمیر فروشوں اور بددیانتوں کی ہڈیوں میں رچ بس گیا ہے،اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے بہت بڑے آپریشن کی ضرورت ہے اور اس کے لئے بہت بڑے دل گردے والا سرجن چاہئے۔
عدل وانصاف کی فراہمی کے عمل میں رشوت ستانی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو اور نہ ہی ایسےمال کو حاکموں تک پہنچایا کرو۔‘‘
منصفوں اور حاکموں کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ النساءمیں حکم کے طور پرارشاد فرمایا ہے کہ
’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں، اور جب تم لوگوں پر حکومت کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کروبے شک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے۔‘‘
ججوں اور قاضیوں کو غیر منصفانہ فیصلوں پر مجبور کرنے والوں کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے منافق قرار دیا ہے۔
اللہ پاک سورۃ النساءمیں ارشاد فرماتے ہیں۔

’’کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان منافقین کو نہیں دیکھا جو زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ وہ اس قرآن پر ایمان لائے، جو آپ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پراتارا گیا ہے اور ان آسمانی کتابوں پر جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے اتاری گئیں. مگریہ چاہتے ہیں کہ اپنے مقدمات کے فیصلوں کے لئے شیطان یعنی احکام الٰہی کو جھٹلانے والے قانون کی طرف لے جائیں، حالانکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ اس کا کھلا انکار کر دیں۔‘‘
مندرجہ بالا قرآنی آیات کی تلاوت سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے ہے کہ اسلام میں عدل وانصاف کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔
یہاں مفتی غلام شبیر صادقی صاحب کی ایک تحریر جو وٹس ایپ سے لی گئی ہے اپنے قارئین کی نذر کرتا ہوں جو عدل وانصاف کے حوالے سے ہے۔امید ہے کہ قارئین کرام انسانوں اور کووں کے درمیان عدل وانصاف کا موازنہ کر سکیں گے۔
کووں کی عدالت:

حیوانات پر جدید تحقیق کے مطابق کووں کے ہاں باقاعدہ عدالتی نظام ہے اور یہ عدالت کسی کو فرد یا جماعت پر ظلم کرنے نہیں دیتی۔ کووں کے نظام عدالت میں ہر جرم کی مخصوص سزا ہے جیسے:

٭کوے کے بچے(چوزے) سے کھانا چھیننے کی سزا یہ ہے کہ کووں کا ایک گروپ اکھٹا ہو کر کھانا چھیننے والے کے پَر نوچتے ہیں یہاں تک کہ وہ بھی بچے کی طرح اڑ نہیں پاتا گویا ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان کا اسلامی قانون نافذ ہے!!

٭اسی طرح گھونسلا خراب کرنے اس کو گرانے یا اس پر قبضہ کرنے کی سزا یہ ہے کہ کووں کی ایک جماعت مجرم کو وہ گھونسلا دوبارہ بنانے پر مجبور کرتی ہے یعنی بالکل اسلامی قانون ہے!!

٭کسی دوسرے کوے کی جوڑی(بیوی)کوے کے ساتھ غلط کاری یا ریپ کی سزا یہ ہے کہ کووں کی ایک جماعت مجرم کو چونج مار مار کر قتل کردیتی ہے!!

ماہرین کے مطابق کووں کی عدالت لہلہاتے کھیتوں اور کھلے میدانوں میں لگتی ہے یعنی کسی بند کمرے میں نہیں، مقررہ وقت پر کوے اکھٹے ہو جاتے ہیں

اور جج بیٹھ جاتے ہیں ملزم کوے کو لایا جاتا ہے عدالتی کاروائی شروع ہوتی ہے تو ملزم کوا سر جھکائے پر پھیلائے انتہائی سیکورٹی میں عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے اور اپنے جرم کے اعتراف میں کائیں کائیں بند کر دیتا ہے یعنی خاموش رہتا ہے۔

جب عدالت کسی کوے کو سزائے موت سناتی ہے تو سیکورٹی پر مامور کوے اس مجرم پر حملہ آور ہوتے ہیں اور چونج مار مار کر اس کو قتل کر دیتے ہیں اس کے بعد ایک کوا اس کو اپنے چونج سے اٹھالیتا ہے اور اس کو دفنانے کے لئے لے جاتے ہیں پھر اس کے جسم کے برا بر قبر کھود کر اس کو دفناتے ہیں اورمکمل احترام سے اس پر مٹی ڈال کر دفناتے ہیں۔

یوں کووں کو اللہ کا عدل معلوم ہے اور انہوں نے اس کو نافذ کیا ہوا ہے مگر افسوس انسان پر جو اللہ کے قانون کی بجائے خودساختہ قوانین کے ذریعے حکومت کرتا ہے، اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ

"زمانے کی قسم انسان نقصان میں ہے”۔

کیا پاکستان جس کو کلمہ کے نام پر بنا یا گیا تھا کے با اثر لوگ کوے کے برابر عقل بھی نہیں رکھتے؟!حالانکہ کوا گندگی کھا کر بھی اتنا عقلمند ہے !! یہ لوگ آخر کیا کھاتے ہیں؟!

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: عدل و انصاف! This is the link: https://pakbloggersforum.org/justice/