صفحہ اول / عرفانِ اقبال / جواب شکوہ بند نمبر 34 از عرفان صادق

جواب شکوہ بند نمبر 34 از عرفان صادق

دشت میں ،دامنِ کہسار میں، میدان میں ہے
بحر میں، موج کی آغوش میں، طوفان میں ہے

چین کے شہر، مراقش کے بیابان میں ہے
اور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہے

چشمِ اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شان ” رَفعناَ لَکَ ذِکرَک ” دیکھے

📚کتاب :بانگ درا
نظم : جوابِ شکوہ
بند نمبر: 34

📝الفاظ کے معنی
دشت: صحرا
بحر: سمندر
رفعت: بلندی
بیاباں: جنگل۔ ویرانہ

🖋مفہوم:
عاشقِ رسول صلی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ، آپ ص کی تعلیمات کی روشنی شرق و غرب میں پھیلی ہوئی ہے دنیا کا چاہےکوئی بھی گوشہ کوئی بھی کونا ہو رب کی ہر ہر تخلیق میں ذات اقدس کی خوشبو ہےاور تاابد رہے گی۔۔۔
عشقِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اہلِ ایمان کے سینوں میں پوشیدہ ہے۔
دنیا یہ منظر تاقیامت دیکھے گی اللہ ذوالجلال کا وعدہ سچا کہ
” ہم نے آپ کا ذکر بلند فرما دیا”
اس عشق کا فیض ہے کہ اس شمع رسالت کے پروانے حبشی رض،قرنی ر۔ض، غازی علم الدین،اور کبھی عامر چیمہ کی صورت نثار ہوتے رہیں گے
آپ کا نام اور آپ کا اسوہ حسنہ ہی رہتی دنیا تک ہادی و رہبر ہے اوراس امر پہ مہر ثبت ہوچکی ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 6)

آتی ہے ندّی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی …

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 5)

جنبشِ موجِ نسیم صبح گہوارہ بنی۔۔۔ا جھومتی ہے نشہء ہستی میں ہر گل کی کلی۔۔۔! …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: جواب شکوہ بند نمبر 34 از عرفان صادق! This is the link: https://pakbloggersforum.org/jwab-shikwa-stanza-34/