صفحہ اول / صدائے کشمیر / جنت نظیر۔۔۔کشمیر۔۔۔۔ایک سلگتا ہوا ایشو۔۔۔!!!!! جویریہ چوہدری

جنت نظیر۔۔۔کشمیر۔۔۔۔ایک سلگتا ہوا ایشو۔۔۔!!!!! جویریہ چوہدری

آزادی۔۔۔۔

اس ایک لفظ کے لیئے انسان کتنا پر جوش ہو جاتا ہے۔۔۔کہ وہ اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر اس سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کا جذبہ بیدار اور بڑھا لیتا ہے۔۔۔
وطن عزیز پاکستان کے ماہ آزادی کی آمد کے ساتھ تو اس انمول چیز۔۔۔”آذادی”کی اہمیت کا اندازہ اور بھی بخوبی ہونے لگتا ہے۔۔۔
وہ نا قابل فراموش قربانیوں کی خونچکاں داستان۔۔۔جھنجوڑ اور تڑپا کر رکھ دیتی ہے۔۔۔۔
جان سے زیادہ خرچہ آیا۔۔۔۔
گھر اپنے تب نام لگا ہے۔۔۔۔
کیونکہ منزل کے حصول کے لیئے پہلے ایک حوصلہ جاگنا ہوتا ہے۔۔۔پھر اس راہ پر گامزن رہنے اور بھاگنے کی صلاحیت از خود جنم لیتی ہے۔۔۔۔
جو ناممکن کام کو ممکن میں بدل دیتی ہے۔۔۔۔پاکستان کا وجود اس کی ایک زندہ مثال ہے۔

کشمیر کے عوام بھی ستر سال سے جذبہ آذادی سے سرشار اس راہ پر گامزن اور قربانیوں کی انمٹ داستان خون جگر سے تحریر کرتے جا رہے ہیں۔۔۔
سفاک و جابر قابضین کی طرف سے ہر ظلم کے وار اور حربے کا سامنا کر رہے ہیں۔۔۔مگر ان کے جذبے میں دراڑ نظر نہیں آئی۔۔۔
کشمیری قیادت کے لہجوں کی مضبوطی رگوں میں ہلچل مچا دیتی ہے۔۔۔اور بے خبر انسان بھی تڑپ اٹھتا ہے۔۔۔!!!
کشمیریوں کے قتل عام اور نسل کُشی کی کوششیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔۔۔
اور جس بے دردی سے ان کے خون کو وادی کے سبزہ زاروں پر بہایا جا رہا ہے۔۔۔اس نے عالمی ضمیر کو جھنجوڑ ضرور دیا ہے۔۔۔مگر خالصتاً انسانی بنیادوں پر اس مسئلے کا حل یو این او کی قراردادوں کی شکل میں موجود ہونے کے باوجود دنیا اس قدر بے حس کیوں ہو گئی ہے کہ ان مظلوم مسلمانوں کو مرنے کے لیئے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔۔۔
بھارت کی طرف سے اب کشمیریوں کے محاصرے اور انسانی حقوق کی پامالی کس سے پوشیدہ رہ گئی ہے۔۔۔؟؟؟
روزانہ کی بنیاد پر درجنوں نوجوانوں کو شہید کرنے کی روایت کس کے ساتھ کھلا ظلم اور نسل کُشی ہے۔۔۔؟؟؟
پاکستان نے ہر فورم پر کشمیر کے بارے میں اپنے موقف کو بھر پور واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔
کیونکہ جنوبی ایشیاء کے استحکام اور امن کا راستہ صرف کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔۔۔
اگر یہ خطہ پر امن نہیں ہوتا تو آگ کی چنگاریاں سلگتی رہیں گی اور اس علاقے کا امن داؤ پر لگا رہے گا۔۔۔
یہ دنیا انسانوں کی ہے اور اکیسویں صدی کی جدید دنیا میں انسانوں کے قتل کا کوئی جواز نہیں بنتا۔۔۔بلکہ باہم بات چیت اور حقائق کی رو سے ہی مسائل کا حل نکالا جانا اربوں انسانوں کی زندگیوں کے لیئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔
اس اہم مسئلے نے دو ایٹمی قوتوں کو آمنے سامنے کر رکھا ہے۔۔۔اور بد قسمتی یہ ہے کہ انڈیا جیسا جمہوری ملک کبھی بات چیت پر سنجیدگی سے آمادہ ہوتا نظر نہیں آیا۔۔۔
جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہیں۔۔۔۔اگر دنیا یہ مانتی ہے تو پھر عمل کیوں نہیں کرتی۔۔۔؟؟؟؟
اٹھارہ سالہ افغان جنگ کا حل بھی آج مذاکرات میں ہی نہیں ڈھونڈا جا رہا۔۔۔۔؟؟؟
لیکن لاکھوں انسانی جانوں کے ضیاع نے کس کا فائدہ کیا۔۔۔؟؟؟
یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان جیسے ذمہ دار ملک کی طرف سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔۔۔اور بھارت کو مذموم مقاصد سے باز رہنے کا مخلصانہ مشورہ بھی۔۔۔۔
اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے پر آمادہ بھی۔۔۔
لیکن اگر وہ یہ بات اور زبان سمجھنے سے قاصر رہا۔۔۔تو پھر ہماری تاریخ کے انمٹ ابواب اسے سبق سکھانے کے لیئے کافی ہیں۔۔۔!!!
اور کسی غلطی کی صورت میں نا قابل شکست افواج پاکستان اس کے دانت کھٹے سے کھٹے ترین کرنے کے لئیے ہمہ وقت بیدار و تیار ہیں۔۔۔
کہ
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔۔۔
بھارت کی آٹھ لاکھ فوج نہتے کشمیریوں کو نہ جھکا سکی توایمان،اتحاد کے ،تنظیم کے ماٹووالی دنیا کی منظم ترین اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل فوج کے سامنے بھلا کیسے ٹھہر سکے گی۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

پاکستان کے عوام اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے تھے،کھڑے ہیں۔۔۔۔اور کھڑے رہیں گے۔۔۔ان شآ ء اللّٰہ۔

لیکن دنیا کا بھلا اسی میں ہو گا کہ سلگتا ہوا مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے کشمیریوں کو آذادی و حق خود ارادیت دینے کا وعدہ وفا کر دیا جائے۔۔۔!!!
اور امن و ترقی کے خواب کو بکھرنے نہ دیا جائے۔۔۔۔!!!!!!
ستر سالوں سے بہتا لہو اب جواب مانگ رہا ہے۔۔۔حقوق کی پامالی کا۔۔۔۔انسانی جانوں کے بے دریغ قتل عام کا۔۔۔۔عورتوں اور بچوں کے پژمردہ چہروں پر لکھی حقوق کی خلاف ورزیوں کی داستان کا۔۔۔۔!!!!!
اور بیدار ہونے کا اس سے آگے بڑھ کر کوئی وقت نہ ہو گا۔۔۔!!!

اللّٰہ سے دعا ہے کہ دشمن کے چین قرار اُڑے رہیں۔۔۔
اور اس کے ہر وار بیکار جائیں۔۔۔!!!
میرے وطن۔۔۔۔چمن۔۔۔”پاکستان” اور اس کے محافظوں کا اللّٰہ حامی و ناصر ہو۔۔۔آمین۔۔۔!!!!!

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

رات گئی بات گئی

بابا مستانہ کی فہم و فراست کے مطابق” رات گئی بات گئی” والی منطق کے …

مٹی پاؤ

مٹی پاؤ ایک ایسا نایاب فارمولا ہے جس کے موجد غالباً چوہدری شجاعت حسین ہیں …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: جنت نظیر۔۔۔کشمیر۔۔۔۔ایک سلگتا ہوا ایشو۔۔۔!!!!! جویریہ چوہدری! This is the link: https://pakbloggersforum.org/kashmir-a-burning-issue/