صفحہ اول / صدائے کشمیر / کشمیر لہو کا دریا اور بھارتی پراپیگنڈے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

کشمیر لہو کا دریا اور بھارتی پراپیگنڈے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

جنت ارضی کا ٹکڑا کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے جس پر بھارتی فوج نے غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور کشمیر میں ہونے والا ظلم اور بربریت کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کے نت نئے حربے آزما رہا ہے اور مسلسل کشمیریوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔

کشمیری بطور مسلمان اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے اسی وجہ سے کشمیری کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑا اور خون خرابہ نہیں چاہتے بلکہ کشمیری امن کے متلاشی ہیں اور امن کے لئے ہی وہ آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔
بھارتی غاصب فوج کے کے مظالم سے رہائی چاہتے ہیں ایسا خطہ چاہتے ہیں جس میں وہ امن و امان سے اپنی زندگی بسر کریں ان کے بے گناہ پیاروں کو شہید کردیا جاتا ہے جو ان کے لئے قیامت خیز منظر ہوتا ہے۔
بھارتی فوج کشمیریوں کا حق خودارادیت چھیننے اور آزادی کی تحریک کو دبانے کے لئے اس خوبصورت وادی کو لہو لہان کر رہا ہے کشمیر میں مظالم کی ایسی ایسی تاریخیں رقم کی گئی ہیں کہ انسانیت کانپ اٹھتی ہے جو چیخ چیخ کر بھارتی فوج کا اصل چہرہ دکھا رہی ہیں
بھارتی فوج نے کشمیر میں لاتعداد کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
لاکھوں عورتوں کی عصمت دری کی ان کو اپنی حوس اور درندگی کا نشانہ بنایا معصوم ننھے منے پھول سے بچوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے لیکن ان سے سوال کرنے والا کوئی نہیں….!!!!
اگر بات کرنی ہو بھارتی فوج کے انسٹیٹیوشن ریپ کرائمز کی تو کنان پور اور شوپیاں کی مثالیں منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اگر بات کرنی ہو بھارتی فوج کی میس کلنگ کی تو یجپور ، ہندوارہ اور سوپور کی مثالیں بھارتی فوج کے مظالم کی منظر کشی کررہی ہیں۔
کشمیریوں پر اس قدر مظالم ڈھانے کے باوجود بھارت کی نفرت کی آگ ٹھنڈی نہیں ہورہی اور کشمیریوں پر مزید مظالم ڈھانے کے لئے بھارت نے کشمیر میں دس ہزار بھارتی فوجیوں کی کمک جموں خطہ کے ضلع راجوری میں پہنچائی ہے۔
راجوری میں حریت پسندوں کا مقامی نیٹ ورک نہ ہونے کے برابر ہے پھر اتنی بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کیوں کی گئی ہے….؟؟؟؟؟
علاوہ ازیں…
28000 بھارتی پیرا ملٹری کے دستے زبانی حکمنامے پر کشمیر میں پہنچاۓ جارہے ہیں سکولوں میں فوجی کیمپ بناۓ گئے ہیں جس سے کشمیری خوف و ہراس کا شکار ہو رہے ہیں۔

آج انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں کیوں خاموش ہیں…؟؟؟؟
کیا انکو یہ مظالم نظر نہیں آرہے…؟؟؟؟
پونچھ کے رہائشی علاقے میں جگہ جگہ فوجی بنکرز کی تعمیر کیوں کی گئی ہے…؟؟؟؟
ساؤتھ کشمیر کے علاقے ترال میں پیرا ملٹری کی پچاس بڑی گاڑیاں کیوں پہنچائی گئی ہیں…؟؟؟؟

اور اس کے ساتھ ساتھ پلگام امرناتھ یاترا میں کیمپ راتوں رات یہ کہہ کر خالی کروا لیا گیا ہے کہ ان پر حملہ ہونے والا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر میں آج تک غیر ریاستی باشندوں پر حملہ نہیں ہوا وہ کشمیر میں محفوظ تھے لیکن اچانک بھارتی فوج نے ان کو کشمیر چھوڑنے کا کیوں حکم دیا…؟؟؟
آخر کون ان پر حملہ کرنا چاہتا ہے…؟؟؟
آج سے پہلے کسی نے حملہ کیوں نہیں کیا…؟؟؟
بھارتی فوج کی سازشوں سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں جو بھارتی فوج کی ناچاکیوں کا پردہ چاک کررہے ہیں ..

حقیقت میں یہ سب بھارتی فوج کا اپنا رچایا کھیل اور پراپیگنڈا ہے بھارت کشمیر پر حملہ کرنا چاہتا ہے اسی لئے امرناتھ یاتراؤں کو ریاست سے نکلنے کا حکم دیا۔

بھارت نے ایل او سی کے پاس بھی بہت بھاری تعداد میں فوج اور اسلحہ اکٹھا کرلیا ہے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر دونوں طرف مسلمان ہیں اور کسی قسم کے حملے اور اسکی جوابی کارروائی میں مسلمان ہی مارے جائیں گے جو کہ بھارت کا اصل مقصد ہے اور جب جب دنیا میں بے گناہ مسلمان مارا جاتا ہے تو پوری دنیا نیند کی گولیاں کھا کر سو جاتی یا پھر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیتی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی چپ سادھ لیتی ہیں …
یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نزدیک مسلمان کی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے جو کہ جانوروں کے حقوق کے لئے چیخ اٹھتی ہے لیکن مسلمانوں کی خاطر سکتے میں آجاتی ہے..!!!

افسوس صد افسوس….!!!!!

ذرا آپ ہی اپنی اداؤں پہ غور کریں
ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک میں پختگی اور للکار سے بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار ہے جس کے نتیجے میں وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے کشمیری عوام آزادی کی خاطر بہت سی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی ہے اب بھارتی فوج کی اضافی تعیناتی ان کے ولولوں کو کم نہیں کرسکتی بھارت کشمیر میں اپنی ہی موت کا سامان اکٹھا کررہا ہے جو اس کے لئے بہت نقصان دہ ہوگا۔
بطور پاکستانی ہم سب اپنی پاک فوج اور کشمیر کے ساتھ ہیں یہ ظلم کا اندھیرا چھٹ جاۓ گا اور روشن سویرا ضرور ہوگا جو کشمیر کی آزادی کی نوید سناۓ گا
ان شاءاللہ عزوجل

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

چڑیا چھپکلی اور کشمیر ملین مارچ

مسئلہ کشمیر پچھلی پون صدی سے وہ سلگتا آتش فشاں ہے جو دنیا کے امن …

کشمیر ملین مارچ، آخر کیوں؟

آج جمعہ کا دن ہے 18 اکتوبر اور آج کا دن وہ دن ہے جب …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: کشمیر لہو کا دریا اور بھارتی پراپیگنڈے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی! This is the link: https://pakbloggersforum.org/kashmir-a-stream-of-blood/