صفحہ اول / قومی / کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! تحریر : بلال شوکت آزاد

کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! تحریر : بلال شوکت آزاد

6 ستمبر 1994, یوم دفاع پاکستان وہ دن تھا جب میرے والد نے پہلی دفعہ مجھے جذبہ حب الوطنی, جہاد, شہادت, دفاع وطن, افواج پاکستان, کشمیر اور اس دن کی تاریخی حیثیت کے بارے میں تب بتایا تھا جب میری عمر صرف چھ سال تھی اور میں اپنے والد کے کام کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔

اس کے بعد ہر سال 2001 تک یوم دفاع پاکستان, یوم بحریہ اور یوم فضائیہ کے پروگرامز میں لیکر جانا اور آرمی, نیوی اور ایئر فورس کے میوزیمز کی سیر ہمارے لیئے بلکل ویسے ہی لازم بلکہ فرض ہوگئی جیسے ہر سال عیدین منانا ہم پر فرض ہے۔

چھ سال کی عمر سے جو نظریاتی اور عسکری سبق رٹنا شروع کیا تو اگلے چھ سال یعنی بارہ سال کی عمر تک میں اپنے آپ میں ایک فوجی بن چکا تھا اور پاکستان و افواج پاکستان کی محبت ایسی کوٹ کوٹ کر جسم و جاں میں بھر چکی تھی کہ اپنی یہ دھمکی کھلے عام تھی کہ جس کو پاکستان اور افواج پاکستان سے ذرا سی بھی تکلیف ہے وہ چپ رہنے میں ہی سیف ہے۔

چونکہ میرے والد کا تعلق پاک بحریہ سے تھا تو میرا فطری جھکاؤ, لگاؤ اور الفت پاک بحریہ سے زیادہ تھی بانسبت بری و فضائی افواج کے لیکن 6 ستمبر 1994 کی شام جب ہم باپ بیٹا کی یوم دفاع پاکستان پر بات چیت ہوئی تو اس کے بعد اگلے سال سے یہ روٹین بن گئی کہ میں 5 ستمبر کو رات جلدی سوجاتا اور 6 ستمبر کی صبح جلدی اٹھ کر ٹیلی ویژن پر گارڈز کی تبدیلی سے شروع ہونے والا پروگرامز دیکھ کر دن کا آغاز کرتا اور پھر اس دن اور اگلے دو دن کی مناسبت سے جو جو پروگرامز شیڈول ہوتے ان سے لطف اندوز ہوتا بشمول عسکری نمائشوں اور میوزیمز کی سیر وغیرہ۔

خیر بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قوموں کی تاریخ میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں, جہاں خیر ہے وہاں شر بھی ہے, جہاں عروج ہے وہاں زوال بھی ہے۔

لیکن ترقی یافتہ اور مہذب قومیں کیا کرتی ہیں کہ ان کی اگلی نسل مکمل نظریاتی پروان چڑھے اور ترقی کی منازل طے کرنے میں دقت نہ ہو؟

قومیں اپنے ہیروز اور اہم قومی دنوں کو پوری شان و شوکت سے یاد رکھتی ہیں اور ان کی یادیں اپنی نئی نسلوں کو من وعن پہنچادیتی ہیں اور ایسے لمحات جب قوم واقعی قوم بن کر کسی مصیبت یا ناگہانی آفت و بلا سے نبرد آزما ہوئی ہو کو نئی نسل میں فخر سے بیان کرتی ہے تاکہ اگر مستقبل قریب یا مستقبل بعید میں پھر کوئی انہونی ہو تو نئی نسل بھی اسی قومی جذبہ حب الوطنی سے آگے بڑھ کر مصائب کا مقابلہ کرے جیسے ان کے آباؤ اجداد نے کیا تھا۔

6 ستبمر ہماری تاریخ کا وہ تابناک دن تھا جب دشمن اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی خاطر ہم پر وہ میدان چھوڑ کر چڑھ دوڑا تھا اچانک جہاں ہم نے اس کے دانت اصل میدان جنگ یعنی کشمیر سیکٹر میں اتنے کھٹے کردیے تھے کہ آزاد کشمیر جتنا اور علاقہ ہمارا مفتوحہ ہوچکا ہوتا پر کشمیر میں ہار دیکھ دشمن سیالکوٹ, لاہور, اوکاڑہ اور بالترتیب تمام مشرقی سرحد پر فوج لیکر چڑھ دوڑا پر وہ غلط فہمی یا خوش فہمی میں ایک ایسی موت کی وادی میں در آیا جہاں سروفروشان اسلام و پاکستان نے بدر و حنین کی یادیں تازہ کردیں۔

دکھا دیا دنیا کو کہ 313 والے آج بھی کامیاب ہوسکتے ہیں گر توکل اللہ اور قوت ایمانی 313 والوں جیسی ہوجائے تو۔

کتنے ہمارے نئی نسل کے نوجوان ہیں جنہیں یہ معلوم ہو کہ 6 ستبمر کی جنگ دراصل دفاعیہ کم جارحانہ زیادہ تھی؟

ہمارا ایک ہی مسئلہ, ایک ہی دکھ ہے 1947 سے, کشمیر۔

کشمیر کی خاطر ہماری افواج نے ایک گرینڈ فریڈم آپریشن, آپریشن جبرالٹر تشکیل دیا اور اس پر عمل کیا جس کی وجہ سے بھارتی افواج کا مورال بری طرح ڈاؤن ہوا اور کشمیر بھارت کو ہاتھ سے جاتا نظر آیا لہذا بھارت نے بین الاقوامی سرحدی خلاف ورزی میں پہل (کشمیر کی سرحد تب نہ تو لائن آف کنٹرول تھی اور نہی بین الاقوامی سرحد لہذا پاکستان کی کشمیر پر چڑھائی بلکل بھی بین الاقوامی سرحدی اصول کے خلاف نہیں تھی پر کچھ دانشور آپ کو اس بابت بری طرح گمراہ کرسکتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ افواج پاکستان نے خود شروع کی اور الا بلا۔) کرکے پاکستان کے پرامن شہروں کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی اور اسی جنگ کے خاتمے کا معاہدہ سائن کرکے لال بہادر شاستری کا دیہانت ہوگیا تھا شدید خفت اور شرمندگی سے۔

بتانے کا مقصد بس یہی ہے کہ اپنی افواج کو ہلکا مت لیں اور یہ مت سمجھیں کہ کشمیر ان کی ترجیحات میں شامل نہیں بلکہ یاد رکھیں کہ کشمیر افواج پاکستان کی اولین ترجیحات میں اول ہے اور اس کا ثبوت 1948, 1965, 1999 اور 2019 کی وسیع و محدود پاک بھارت جنگیں و جھڑپیں ہیں۔

اگر تب نامساعد حالات اور عسکری لحاظ سے کمتر فوج نے آپریشن جبرالٹر جیسے آپریشن لانچ کرکے کشمیر کو آزاد کروانے کی خاطر اپنی جان, مال اور پاکستان تک کو داؤ پر لگا دیا تھا تو ٹھنڈ رکھیں وہ آج بھی کوئی کارگر موقع گنوائیں گے نہیں۔

آج کا دن قوم کی نئی نسل کو یہ بتانے, دکھانے, سمجھانے اور سنانے میں گزاریں کہ ہم کیسی قوم ہیں اور ہمارا کردار کیا تھا اور اب ہم نے کس کردار کے ساتھ ملک کا دفاع مضبوط کرنا اور آگے بڑھنا ہے۔

یاد رکھیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان ہی وہ عنصر ہے جس نے ہمیں 6 ستمبر 1965, یوم دفاع پاکستان کا دن دیا۔

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی یاد منانے کا دن اور کشمیر و فلسطین!!! بلال شوکت آزاد

آج دنیا بھر میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے شکار انسانوں کی …

کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!!   بلال شوکت آزاد

ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: کشمیر, 6 ستمبر اور یوم دفاع پاکستان!!! تحریر : بلال شوکت آزاد! This is the link: https://pakbloggersforum.org/kashmir-and-defence-day-of-pakistan/