صفحہ اول / ثناء صدیق / مسئلہ کشمیر، امریکہ اور ہمارے ماضی کے حکمران

مسئلہ کشمیر، امریکہ اور ہمارے ماضی کے حکمران

پاکستان نے اپنے قیام کے ساتھ ہی امریکہ سے دوستی اور اپنے تعلقات قائم کر لیے پاکستان کا وجود میں آنے کی دیر تھی کہ پاکستان کی قیادت نے انکھیں بند کر کے یک طرف طور پر اپنا مقدر امریکہ کے ساتھ نتھی کرنے کے لیے ہاتھ پاوں مارنا شروع کر دیے گویا اپنی آزادی اور سلامتی کے تحفظ کے لیے موہوم توقعات کے لیے تخلیق پاتے ہی اپنا مقدر مغرب اور امریکہ کے ساتھ باندھہ دیا جو بالآخر ایک سراب ثابت ہوئیں وہ آزادی وہ مسلمانان برصغیر نے خاک و خون کے سمندر سے گزر کر انگریز اور ہندو سے حاصل کی تھی اور مسئلہ کشمیر جو تکمیل پاکستان اور بقاء پاکستان کے لیے جس کا حل بہت ضروری ہے پاکستان نے ہمشہ اس معاملے میں سادہ لوحی سے کام لیا ہے کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے امریکہ کے ساتھ پاکستان کی وابستگی کا ایک بڑا ہدف یہ تھا کہ کشمیر میں رائے شماری کرانے کے لیے امریکہ اپنا وزن ڈالے گا لیکن شہادتوں کا نہ ختم ہونے والے سلسلے کے باوجود امریکہ نے کشمیر کے مسئلے پر چند رسمی کاوائیوں اور خوش کن الفاظ کے علاوہ نہ کچھہ کیا نہ کچھہ کرنا چاہا ہمارے حکمران یہ بات جانتے تھے ہمیں اصل خطرہ روس سے نہیں تھا جتنا بھارت سےہے بھارت کے خلاف دفاع اپنی سالمیت کا تحفظ اور بھارت کے ساتھ تنازعات میں مدد اور حمایت کا حصول ہماری اولین اسٹرے ٹیجک ضروریات تھیں بھارت نے پاکستان کی مالیت اور حصہ غضب کر کے کشمیر پر فوج کشی کر کے ناجائز قبضہ کر کے دنیا کو بتا دیا کہ بھارت پاکستان کی شہ رگ پر قبضہ کر کے پاکستان کو کمزور رکھنا چاہتا ہے اور یہ پاکستان کے لیے بد قسمتی تھی اور اس کی اسٹرے ٹیجک کشش محدود تھی پاکستان کا دشمن بھارت امریکہ کے لیے اتنا ہی پر کشش تھا اور اس کے عالمی مفادات کے لیے بھی ضروری تھا جب اس نے پاکستان کا مجبورا ہاتھ تھاما وہ تب بھی بھارت کو کسی صورت ناراض کرنا نہیں چاہتا تھا اور پاکستان کی یہ بدقسمتی تھی کہ اسے جتنی صرورت امریکہ کی تھی امریکہ کو اس کی اتنی ضرورت نہیں تھی اور امریکہ جتنا طاقتور تھا پاکستان اتنا ہی کمزور تھا اس لیے برابری یا دباو کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا امریکہ جو اسلحہ پاکستان کو دے رہا تھا وہ اسلحہ کمیونزم کے خلاف تھا بھارت کے خلاف ہر گز نہیں تھا اس کے کسی معاہدے کا اطلاق بھارت سے پاکستان کی کسی جنگ کی صورت میں نہیں ہو گا بلکہ وہ ہر گز پسند نہیں کرتا بھارت کی پاکستان کے ساتھ جنگ ہو بھارت کے پاکستان کے ساتھ کسی بھی تنازع کی صورت میں وہ مکمل غیر جانب دار یا رسمی الفاظ ادا کرے گا اگرچہ دونوں کے درمیان عدم توازن کی وجہ سے غیر جانب داری درحقیقت بھارت کے حق میں جانب داری ہے یہ بات ناقابل سمجھہ ہے ہمارے حکمران اس سے جھوٹی توقعات کیوں باندھتے رہے ہیں کلی طور پر اس پر ہی کیوں انحصار کیا؟ وزیر اعظم لیاقت علی خان اپنی سادہ لوحی میں یہی سمجھتے رہے کہ امریکہ کشمیر میں بھارت کی جارحیت کو کوریا کی جارحیت کے برابر سمجھے گا جیسے لوگ توقع کرتے تھے کہ امریکہ بوسنیا میں ایسے ہی کاروائی کرے گا جیسے اس نے خلیج میں کی لیکن لوگ یہ بات بھول گے کوریا اور خلیج میں امریکی مفادات اور تیل بستے ہیں جبکہ کشمیر میں مظلوم انسان وہ بھی مسلمان ہیں پاکستان کے حکمران جانتے تھے کہ امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں شرکت سے وہ روس چین اور دیگر ممالک کی حمایت کھو دے گا لیکن یہ مخالفت موہ لینے کے لیے بھاری قیمت ادا کرنے پر تیار ہو گیا اس لیے وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ کشمیر پر امریکہ کی حمایت ان سب کی مخالفت پر بھاری ہو گی بھارت کو بھی ان معاہدوں کا بہانہ ہاتھ آ گیا جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے اشتراکی روس کا ویٹو کارڈ استعمال کیا جو کامیاب رہا پھر بھارت نے وعدہ کرنے کے باوجود کشمیر میں رائے شماری کرانے سے انکار کر دیا مسلم ممالک کی حمایت بھی پاکستان نے کھو دی مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے پاکستان کو مغرب کا پٹھو قرار دیا اور اعلان کیا "ہمیں نہر سویز اتنی ہی عزیز ہے جتنا بھارت کو کشمیر” جب روس اقوام متحدہ میں اپنی رائے شماری سے پھر گیا تو امریکہ نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ابتداء میں پاکستان نے بھی اس کوئی اہمیت نہیں دی بلکہ وہ امریکہ کی حمایت کو کافی سمجھتا رہا بلآخر روسی وزیر اعظم بل گانن اور خروشیف نے یہ اعلان کیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اس پر بھی امریکہ ٹس سے مس نہ ہوا 1962 میں جب بھارت اور چین کی لڑائی شروع ہوئی امریکہ نے سب سے بڑھ کر یہ کام کیا کہ پاکستان بھارت کے لیے کوئی مشکلات پیدا نہ کرے بلکہ کشمیر کے لیے منہ سے بھاپ بھی نہ نکالے روسی ثالثی پاکستان اور بھارت کے معاہدے سے کشمیر ایجنڈا گویا محو ہو گیا یہاں تک کہ کشمیری مجاہدین نے1988ء میں اپنے خون سے مسئلہ کشمیر کے المیے کو دوبارہ رقم کرنا شروع کر دیا اس مرحلہ پر جب بھارت کشمیر میں بدترین ظلم ڈھا رہا ہے اور امریکہ ایسے حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ بھارت بھی ناراض نہ ہو اور جہاد بھی ٹھنڈا پڑ جائے اور امریکی مفادات بھی پورے ہونے کا راستہ نکل آئے ہمیں امریکہ سے گلہ شکوہ نہیں کرنا چاہیے اس نے ہمیں کسی دھوکے میں نہیں رکھا اسکی پالیسی شروع سے ہی واضع تھی ہم نے خود اس سے جھوٹی توقعات باندھی اور خود فریبی کا شکار رہے یہ پالیسی اس کے اس اصول کے عین مطابق رہی ہے کہ کوئی دوست مستقل دوست نہیں ہوتا اصل دوستی اپنے مفادات کی ہوتی ہے ہمارا گلہ ہمارے حکمرانوں سے ہے انھوں نے آنکھیں بند کر کے اس سے مستقل دوستی کر لی ہمیں امریکہ کی تاریخ اسکی جڑوں اور اسکی نفسیات سے بھی آگاہ ہونا چاہیے یہ ملک اللہ سے عہد ایفا اور حکومت الہیہ کے قیام کی جستجو میں قائم ہوا تھا تقریبا نصف صدی سے غلط پالیسوں اور بد اعملیوں اور امریکہ کے ساتھ اندھا دھند وابستگی اور مکمل انحصار کے نتجے میں جو تنکے بکھر چکے ہیں ہم ان کو جوڑ کر اپنا اشیا تعمیر کر سکتے ہیں ضعف و شباب قوموں کا اٹل مقدر نہیں ہے صحیح سمت اور مقصد اختیار کر کے اور صبر و حکمت کے ساتھہ مناسب اقدامات کر کے ہم اپنی پس ماندگی ذلت اور موجود حالت میں عظیم تغیر برپا کر سکتے ہیں ہم اپنے دفاع اور سلامتی کے لیے بقاو ترقی کے لیے صرف اللہ کی طرف دیکھنے کا فیصلہ کر لیں نہ امریکہ کی طرف نہ کسی اور کی طرف
و من یتوکل علی اللہ فھو حسبه(الطاق3)
جو اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے
الذين قال لهم الناس ان الناس قد جمعو الكم فاخشوهم فزادهم ايمانا وقالو حسبناالله و نعم الوكيل(آل عمران 73)
جن سے لوگوں نے کہا تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہو گی ہیں ان سے ڈرو یہ سن کر ان کا ایمان بڑھہ گیا اور انہوں نے جواب دیا ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے وہی بہترین کارساز ہے
دجالی تہذیب کے غلبے کے اس دور میں جب اسباب ہی ارباب بن گے یہ بات ملا کی بڑک تو لگے گی جب کارڈ وہنل ولزے کو جس نے برطانیہ کے بادشاہ ہنری ہشتم سے وفاداری اور یکے بعد دیگرے اس کی شادیوں کا جواز فراہم کرنے کے لیے اپنی جان تک لڑا دی جب بادشاہ نے اسے موت کی کوٹھڑی تک پہنچا دیا تب اس نے کہا تھا اگر میں نے اتنی جانثاری سے اپنے خدا کی خدمت کی ہوتی تو وہ مجھے اس حسرت ناک بلکہ عبرت ناک انجام تک نہ پہچاتا جس یکسوئی اور اخلاص سے ہم نے امریکہ کی طرف دیکھا اگر اللہ پاک کی طرف دیکھتے اور اس کا دامن پکڑتے تو اس انجام تک نہ پہنچتے

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم):ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!! بقلم: جویریہ بتول

محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم):ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!! بقلم:(جویریہ بتول۔ انسانیت کے اصول سے انسان ہی …

محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)۔۔۔ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!!! تحریر: مریم بتول

عالمگیر نبوت کا فرض لیے،ختم نبوت کا تاج سجائے،پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: مسئلہ کشمیر، امریکہ اور ہمارے ماضی کے حکمران! This is the link: https://pakbloggersforum.org/kashmir-issue-america-and-our-past-governments/