صفحہ اول / صدائے کشمیر / مسئلہ کشمیر اور ہماری ذمہ داریاں ۔۔۔۔۔ تحریر : عاصم مجید لاہور

مسئلہ کشمیر اور ہماری ذمہ داریاں ۔۔۔۔۔ تحریر : عاصم مجید لاہور

کشمیر کے لوگ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کیا یہ جنگ محض اپنے لیے ہے؟ پہلی بات انڈیا میں کئی کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ اور وہ ہندوؤں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

آخر کشمیری ہی کیوں انڈیا سے جنگ لڑ رہے ہیں؟ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ صرف اپنی ذات کے لیے لڑ رہے ہیں تو وہ تصحیح فرما لے۔ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں اور
پاکستان کشمیر کے بغیر نا مکمل ہے۔ یہ جنگ صرف ان کی ہی نہیں بلکہ وہ ہمارے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پاکستان کے دریاؤں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پاکستان کے بڑے منصوبے سی پیک کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔ اگر ہم کشمیر کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو یاد رکھیں یہ ہم کشمیریوں کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔
تو میرے پاکستانیوں اب یہ آواز تب تک بند نہیں ہونی چاہئیے جب تک پاکستان مکمل نہیں ہو جاتا۔ جب تک ہم اپنی شہہ رگ دشمن سے چھڑوا نہیں لیتے۔

اب دوسری بات ہمیں کیا کرنا چاپیے۔ اس کے لیے تاریخ اسلام سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اپنے حاکم کی ) سنو اور اطاعت کرو ، خواہ ایک ایسا حبشی ( غلام تم پر ) کیوں نہ حاکم بنا دیا جائے جس کا سر سوکھے ہوئے انگور کے برابر ہو۔

           (صحیح بخاری، 693)

یعنی کبھی بھی اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت نہیں کرنی۔ ہاں ہم ان کو احسن انداز میں تلقین ضرور کر سکتے ہیں۔
جیسے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے لاکھوں فرزندان توحید تھے مگر آپ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت نہیں کی۔
امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک جری لشکر ہونے کے باوجود کبھی اسلامی حکمران کے خلاف جنگ نہیں کی بلکہ تیر و تلوار کا رخ کفار کی طرف ہی رکھا۔ کبھی اپنوں کی طرف نہیں کیا۔
لہذا میرے وطن کے نوجوانوں! کشمیریوں کے لئے خون بہتا دیکھ کر آپ کا خون کھولنا فطری تقاضا ہے اور قابل قدر بھی ہے۔ مگر یاد رہے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان، امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ اور امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے کرداروں کو مد نظر رکھنا چاہیے۔

تیسری بات حکمرانوں کے نام۔
ان حالات میں بھی تاریخ اسلام کو کھنگالنا ہو گا۔
بدر کے موقع پر چند تلواریں اور صرف دو گھوڑے تھے۔ مگر 313 اہل ایمان نے کفار کو بدترین شکست دی۔ یعنی جنگ کے لیے سامان حرب کا پورا ہونا ضروری نہیں۔ اللہ کی نصرت پر یقین ہونا چاہیے۔
تبوک کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی معاشی حالت کو نہیں دیکھا۔ پکی ہوئی فصلیں چھوڑ کر غیرت و حمیت کا راستہ اختیار کیا۔ یعنی جب مسئلہ غیرت و حمیت کا ہو تو معاشی حالت نہیں دیکھی جاتی۔
اور موتہ کے مقام پر جب 3 ہزار کا لشکر شامیوں اور رومیوں کے 2 لاکھ کے لشکر سے ٹکرا گیا۔ چشم فلک نے دیکھا 2 روز تک جاری رہنے والی جنگ میں صرف 12 مسلمان شہید ہوئے اور دشمن محاز چھوڑنے پر مجبور ہوا۔ یعنی جنگ میں تعداد نہیں دیکھی جاتی۔
اور ہاں محمد بن قاسم ایک مسلمان بہن کے خط کے جواب میں راجہ داہر کی فوجوں سے ٹکرا گیا۔

ہاں میرے ملک پاکستان کے حکمرانو! کشمیری اپنے خوں میں نہائے جسموں ، پیلٹ گنوں سے چھلنی آنکھوں اور پاکستانی پرچم میں لپٹی لاشیں لیے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
اور کئی دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں۔

انہیں مایوس نہ کیجیے گا۔ عزت کا راستہ اختیار کیجیے گا۔ بڑے فیصلے لینے میں مت ہچکچایے گا۔ اس قوم میں ایمان کی حرارت باقی ہے۔ یہ قوم آپ کی ہر ایک صدا پر لبیک کہے گی۔
کیونکہ

ابھی تکمیل باقی ہے
ابھی کشمیر باقی ہے

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

عالمی امن پر منڈلاتے خطرات

آپ بھی جان لیں کہ اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت رکھنے والے ممالک کے مابین 145 …

مسئلہ کشمیر، امریکہ اور ہمارے ماضی کے حکمران

پاکستان نے اپنے قیام کے ساتھ ہی امریکہ سے دوستی اور اپنے تعلقات قائم کر …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: مسئلہ کشمیر اور ہماری ذمہ داریاں ۔۔۔۔۔ تحریر : عاصم مجید لاہور! This is the link: https://pakbloggersforum.org/kashmir-issue-and-our-responsibilities/