صفحہ اول / تحریری مقابلہ: سیرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم / محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل

ہمارے پیارے نبی محبوب خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک عالمگیر شخصیت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو طریقہ زندگی گزارنے کا بتا یا وہ بھی ہر زمانے کے مسلمانوں کے لیے کافی ہے اور ہدایت کا نمونہ ہے۔اور جو خوشخبریاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی وہ بھی آج تک پوری ہوتی جا رہی ہے۔ دنیا میں ہر مذہب نے اللہ تعالی کی محبت کا اہل بننے کے لیے ایک ہی تدبیر بتائی ہے کہ جو ضابطہ اخلاق دیا گیا ہے ان پر عمل کیا جائے۔لیکن دین اسلام نے سب سے بہتر راستہ اختیار کیا کہ اپنے پیغمبرمحمد ﷺ کی ذات کو عملی نمونہ کے طور پر سامنے رکھ دیا۔اسلام میں دو چیزیں ہیں قرآن مجید فرقان حمید اور سنت نبویﷺ۔ کتاب میں احکامات اور پیغام ہے اور نبی کریم ﷺکی ذات احکام الہی کا عملی نمونہ عالم انسانیت پر ظلم و ستم ،ذلت و پستی اور ضلالت و گمراہی کی گھٹائیں چھا گئیں ۔انسان فسق و فجور اور ظلم و تشدد کی تاریکیوں میں ٹھوکر یں کھاتے کھاتے بے بس ہو گیا۔جب جبرو فساد اور ظلم و استبداد اپنی درجہ کمال کو مکمل طور پر پہنچا ۔ تو خالقِ کائنات کی رحمت نے جوش میں آئی تو اللہ ظل و شانہ نے اپنے گمراہ بندوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے جزیرہ العرب کے قلب میں رحمت دو عالم ،فخر موجودات حضرت محمد ﷺ کو معبوث فرمایا۔محسن انسانیت کا عظیم اور لافانی کار نامہ کہ مذہبی ،روحانی ،سیاسی اور معاشرتی انقلاب سرزمین عرب پر برپا کرنا تھا جہاں کوئی باقاعدہ مذہبی نظام،اقتصادی پالیسی ،سیاسی مرکز اور معتبر معاشرتی رواج نہ تھے۔تجارتی قافلوں کو تاخت وتاراج کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ شریف عورتوں کی عصمت و عفت کھلے بازار نیلام کی جاتی تھی ۔ عرب انتہائی سنگدل اور شقی القلب تھے ۔ بیٹیوں کو زندہ پیوند خاک کر دیتے تھے اور اسیران جنگ سے غیر انسانی سلوک رواں رکھتے تھے۔اس عظیم انقلاب نے جو سر زمین عرب پر اترا ،اس نے بنی نوع انسان کی ایک نئی تاریخ کا رخ متعین کیااور جو انسانی صلاحیتیں جبر و تشدد،قتل و غارت،نسل کشی اور ظلم و استحصال کے لیے صرف ہو رہی تھیں ،ان کا رخ تعمیر و ترقی ‘اصلاح و بھلائی‘فلاح و بہبود‘حق و صداقت‘انصاف ومساوات اور خیر خواہی کی طرف موڑ دیا۔امت کے بعض ایسے ہی خوش نصیب گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا میری امت جو ہندوستان سے جہاد کرے گی اور دوسری وہ جماعت جو مسیح موعود کے ساتھ ہوگی۔(نسائی کتاب الجہاد)
اس پیشگوئی کا پہلا حصہ بڑی شان کے ساتھ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اس وقت پورا ہوا جب محمد بن قاسم کے ذریعہ سندھ کی فتح سے ہندوستان کی فتوحات کا آغاز ہوا اور انہوں نے سندھ کے باسیوں کو وہاں کے ظالم حکمرانوں سے نجات دلاکر عدل وانصاف کی حکومت قائم کی اوراپنے اعلیٰ کردار اور پاکیزہ اقدار سے اہل سندھ کو اپنا گرویدہ کرلیا اوریوں یہاں اسلام کا آغاز ہوا۔
اسلام کی عالمگیر فتوحات کا یہی وہ زمانہ معلوم ہوتا ہے جس میں نبی کریم ﷺ کے اس کشف کی تعبیر بھی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہو گی جس میں آپ ؐ نے بیان فرمایا کہ :
’’اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کے مشرق اورمغرب کے کنارے سمیٹ کر دکھائے ‘‘۔ اور پھر اس کی تعبیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’میری امت کی حکومت بالآخر ضرور اَور سرزمینوں پر قائم ہوگی جو مجھے عالم رؤیا میں دکھائی گئی ہیں۔(مسلم کتاب الفتن)
اس کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم قسطنطنیہ (ترکی )کو فتح کرو گئے۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار صحابہ کرام نے اس کے لیے کوشیش کی اور پھر شیخ محمد فاتح نے ترکی کو فتح کیا۔اور اس کے علاوہ قیصر و قصری کو فتح کرنے کی خوشخبری دی تھی۔وہ بھی پوری ہوئی۔

اس بات کو کہوں کہ کرو ں گا یہ میں ضرور
ٹلتی نہیں وہ با ت خدائی یہی تو ہے

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میری امت میں سے 40 کذاب اٹھے گئے جو نبوت کے جھوٹے دعویدار ہو گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جھوٹے مدعیان نبوت کا فتنہ کھڑا ہوا جسے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ختم کیا۔ان سب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیریت کا ثبوت ملتا ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کو آفاقی اور عالمگیر بنایا گیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل جماعت انبیاء میں سے کسی کی نبوت کا دائرہ اس قدر وسیع نہ تھا ہر پیغمبر کو کسی نہ کسی خاص علاقے، ملک، قوم، آبادی، شہر یا قریہ کی طرف مبعوث کیا جاتا اور وہی لوگ اس کے مخاطب ہوتے۔ مزید یہ کہ ان کی بعثت ایک خاص زمانے کے لئے ہوتی ان کے وصال کے بعد اگلی نسلوں کے لئے اور پیغمبران گرامی مبعوث کر دیئے جاتے۔ مگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت مبارکہ زمان و مکان کی جملہ حدود سے آگے بڑھ گئی۔ نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت خاص خطہ عرب کے لئے تھی اور نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ظاہری یا اس کے بعد ایک مخصوص زمانے تک کے لئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت تمام عالم انسانیت کے لئے ہوئی جس میں شرق تا غرب جملہ اقوام عالم شامل ہیں۔ اسی طرح نبوت و رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ بلا شرکت غیرے روز قیامت تک عملاً برقرار رہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی فرمانروائی روز محشر بھی جاری وساری ہوگی۔ مقام محمود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تخت ہوگا، شفاعت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نظام سلطنت ہوگا، لواء الحمد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم عظمت ہوگا، تمام کائنات انسانی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در پر سائل اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تابع احسان ہوگی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام اقوام و امم کے محسن اور قائد و شفیع ہوں گے حتی کہ اختتام حشر پر جنت کا افتتاح بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے دست مبارک سے کروایا جائے گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل اولین و آخرین میں سے کسی کو جنت میں داخلے کی اجازت بھی نہ ہوگی۔
سبحان اللہ! ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیریت اور جامیعت کا ثبوت اور کیا دو۔یہ تو ایمان والو کا یقین ہے ۔اس کے علاوہ میرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیریت کو مسلمان تو مانتے ہی ہیں مغرب کے غیر مسلموں نے میں اقرار کیا ۔
مغربی مفکر یوں لکھتا ہے :
The essential significance of the appearance of Muhammad is the crystallization of a new experience of the divine, which welded all those who shared it into a new kind of community. The effect of this experience on contemporary relationships is evident and unmistakable in both languages and art.(1)
(1) Gustave Edmund Von Grunebaum, Classical Islam : A History, 600-1258.
’’محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ظہور کی خصوصیت و اہمیت اس الوہی واردات کی تشکیل میں مضمر ہے جس سے اس عمل میں شریک ہونے والوں کی شیرازہ بندی ایک نئی قوم کی شکل میں ہوئی۔ اس تجربے کا اثر و نفوذ جو عصری روابط کی صورت میں ظاہر ہوا اس کی چھاپ زبانوں اور فنون لطیفہ پر نمایاں نظر آتی ہے۔‘‘
ایک اور انگریز مفکر بولا اور کیا کہتا ہے
"The greatest success of Mohammad’s life was effected by sheer moral force. ”
"محمد کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کا اثر سراسر اخلاقی قوت نے حاصل کیا۔”

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

کتاب مقبول کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ وسیم احمد

کتاب سے مراد صرف نصابی کتابیں نہیں ہیں،یہاں غیر نصابی و ادبی کتابوں کا ذکر …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل! This is the link: https://pakbloggersforum.org/muhammad-pbuh-a-global-personality-2/