صفحہ اول / تحریری مقابلہ: سیرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم / محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ایک عالم گیر شخصیت

محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ایک عالم گیر شخصیت

انسان کے حال و مستقبل کی تاریخی کو چاک کرنے کے لیے ماضی کی روشنی سے فیض حاصل کرنا ضروری ہے جن مختلف انسانی طبقوں نے ہم پر احسان کیے ہیں وہ سب شکریہ کے مستحق ہیں لیکن سب سے زیادہ ہم پر جن بزرگوں کا احسان ہے وہ انبیاء اکرام علھیم السلام ہیں ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے وقت میں اپنی قوموں کے سامنے اس زمانہ کے مناسب حال اعلی اخلاق اور کامل صفات کا ایک نہ ایک بلند ترین نمونہ پیش کیا کسی نبی نے صبر کسی نبی نے ایثار کسی نبی نے قربانی تو کسی نے جوش توحید کسی نے ولولہ حق کسی نے تسلیم کسی نے صفت اور کسی نے زہد و تقوی غرض ہر ایک نے دنیا میں انسان کی ذندگی کے راستے میں ایک ایک منیار قائم کر دیا ہے جس سے صراط مستقیم کا پتہ چل سکے مگر صرورت تھی ایک ایسے رہبر اور رہنما کی جو ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک پورے راستے کو اپنی ہدایات اور عملی مثالوں سے روشن کر دے جو ہمارے ہاتھہ میں اپنی عملی ذندگی کی پوری رہنما کتاب دے دے جس کو لے کر اسی کی تعلیم و تربیت کے مطابق ہر مسافر بے خطر منزل و مقصود کا راستہ پا لے یہ راہنما سلسلہ انبیاء اکرام علھیم السلام کے اخری فرد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
قرآن پاک نے کہا ہے:
يايها النبى انا ارسلنك شاهدا و مبشرا و نذير وداعيا الى الله باذنه وسراجا منيرا
اے نبی بے شک ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے اذن سے اور روشنی کرنے والا چراغ
آپ علیہ السلام خدائے عالم کی تعلیم و ہدایت کے شاہد ہیں نیکو کاروں کو فلاح و کامرانی کی سعادت اور بشارت سنانے والے بشر ہیں اور ان کو بھی جو ابھی تک اس بات سے بے خبر ہیں ہوشیار اور بیدار کرنے والے نذیر ہیں بھٹکنے والے لوگوں کو اللہ پاک کی طرف پکارنے والے داعی ہیں اور خود عالم گیر نور اور چراغ ہیں یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات اور ذندگی اس راستے کی روشنی ہے جو راہ کی تاریکیوں کو کافور کر رہی ہے یوں تو ہر پیغمبر ہے مبشر شاہد داعی اور نذیر بن کر آیا ہے مگر یہ ساری صفات ہر ایک کی ذندگی میں عملا یکساں ہو کر نمایاں نہیں ہوئیں بہت سے انبیاء اکرام تھے جو خصوصیت کے لحاظ سے شاہد بھی تھے جیسا کہ حضرت یعقوب حضرت اسحاق حضرت اسمائیل علھیم السلام بہت سے تھے جو نمایاں طور پر مبشر بنے جیسے حضرت ابراہیم حضرت عیسی علھیم السلام بہت سے انبیاء اکرام کا وصف خاص نذیر تھا جیسا کہ حضرت نوح حضرت موسی حضرت ھود حضرت شعیب علھیم السلام بہت سے انبیاء اکرام امتیازی حثیت سے حق کے داعی تھے جیساکہ حضرت یوسف اور حضرت یونس علھیم السلام لیکن وہ جو شاہد مبشر نذیر داعی سراج منیر سب کچھ تھا بیک وقت تھا اور جس کی حیات پاک میں سارے نقش عملا موجود تھے وہ صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ تھی اور یہ اس لیے ہوا آپ دنیا کے آخری نبی بنا کر بھیجے گئے جس کے بعد نہ کوئی دوسرا آنے والا ہے نہ آئے گا آپ ایسی شریعت لے کر نازل ہوئے جو کامل شریعت تھی اور اس کی تکمیل کے پھر دوبارہ کسی کو نہیں آنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم عالم گیر اور دائمی وجود رکھنے والی ہے قیامت تک اسی کو ہی ذندہ رہنا ہے اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کو مجموعہ کمال اور دولت لا زوال بنا کر بھیجا گیا میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم عالم گیر شخصیت میرے مذہبی عقدے کا محض دعوی نہیں ہے بلکہ یہ وہ ذات عالم گیر ہے جس کی بنیاد واقعات اور شہادتوں پر قائم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ذندگئی عالم گیر ہے ولادت سے لے کر وصال تک دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ہے مگر بالخصوص مسلمانوں کے لیے کامل ہدایت موجود ہے یتمی کی حالت میں پرورش پانا لڑکپن میں بکریاں چرانا صادق و آمین کا لقب پانا حضرت خدیجہ سے شادی کرنا کامیاب ازدواجی ذندگی کی مثال قائم کرنا صالح و سنجیدہ شخص حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مثالی دوستی دین حق کی تبلغ دشمن کی تکالیف پر صبرو تحمل مخالفتوں پر صبرو استقامت حکمت و دانائی سے مقابلہ جنگ کے دور میں کامیاب سپہ سالاری بے مثال حکومت و ریاست قائم کرنا عدل و انصاف کے اعلی مثالیں پیش کرنا حکمت کی تعلیم لوگوں کی تعلیم کا بندوبست کرنا ان کو علم کے حصول کے لیے راغب کرنا بہترین سیاست کرنا ہجرت کرنا لوگوں کی اخلاقی تربیت کر کے اس میں شاندار کامیابی پانا فوجی معاہدے کرنا مصبیت کے وقت دشمن کی مدد کرنا فتح پانے کے بعد دشمن کو معاف کرنا فقرو فاقہ کی ذندگی گزارنا اللہ کے لیے قیام کرنا پاون پر ورم آ جانا عملا مساوات انسانی کو قائم کرنا بچوں سے پیار کرنا شرف انسانی کو بحال کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایمان کا ایسا تزکیہ فرمایا کہ ہر کوئی ایک روشن ستارہ بن گیا جس کی روشنی نے بے مثال لوگوں کو فیض یاب کیا آپ سے پہلے کسی نبی کسی مفکر کسی مصلح کی ذندگی ایسی عالم گیر نہیں ملے گی ذندگی کے ہر شعبے میں آپ کی ذندگی قابل تقلید بن گی ہر شعبہ ذندگی میں آپ نے بنی نوع انسانیت کو عمل کے زریعے ایک معیار فراہم کیا ہے اگر کوئی شخص کلی طور پر مطمئن چاہتا ہے تو وہ نبی پاک کے معیار کو پرکھ لے آپ کی عالم گیرت کی سند اللہ نے دی ہے اگر کوئی چاہتا ہے کہ وہ اپنی ذندگی میں کامیاب ہو تو تو وہ رسول پاک کی عالم گیر شخصیت کا مطالعہ کر لے پھر اس کے مطابق کام کرے اس کا کام خالق اور مخلوق دونوں کی نظر میں معیاری ہو گا

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

کتاب مقبول کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ وسیم احمد

کتاب سے مراد صرف نصابی کتابیں نہیں ہیں،یہاں غیر نصابی و ادبی کتابوں کا ذکر …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ایک عالم گیر شخصیت! This is the link: https://pakbloggersforum.org/muhammad-pbuh-a-global-personality-3/