صفحہ اول / تحریری مقابلہ: سیرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم / "محمد ﷺ ایک عالمگیر شخصیت” ۔۔۔ محمد ہارون

"محمد ﷺ ایک عالمگیر شخصیت” ۔۔۔ محمد ہارون

جب ہم عالمگیرشخصیت کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد ایسی شخصیت ہے جس کی زندگی سے تمام عالم انسانیت رہنمائی حاصل کرے جس کی شخصیت تاریخیت، کاملیت ، جامعیت اور عملیت کا بے مثال نمونہ ہو۔چونکہ دنیا کے تمام انسانوں کی ضروریات الگ الگ ہیں مثلاََ کوئی ریاست کا بہترین حکمران بننا چاہتا ہے تو کوئی بہترین سپہ سالار بننے کا خواہاں ہے، کوئی اپنے اخلاق سے لوگوں کے دل جیتنا چاہتا ہے تو کوئی زاہد اور عابد بننے کا خواہشمند ہے، کوئی تجارت میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے تو کوئی طب کے اسرار و رموز سے واقفیت کا خواہاں ہے، کوئی مثالی عدل کر کے بہترین منصف بننا چاہتا ہے تو کوئی فاتح بن کر دشمن قوم پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ایسے میں کسی شخصیت کے عالمگیر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی زندگی تمام عالم کے لوگوں کو ان کی زندگیوں کے ہر شعبے سے متعلق رہنمائی فراہم کرے اس کے علاوہ کسی شخصیت کی عالمگیریت معلوم کرنے کے لیے اس کی زندگی کو تاریخیت ،کاملیت ،جامعیت اور عملیت کے پیمانے پر جانچنا ضروری ہے۔

زمانہ گواہ ہے کہ تخلیق آدم ؑ سے اب تک چشم فلک نے صرف ایک شخصیت ایسی دیکھی ہےجس کی زندگی کا ہر لمحہ نوع انسان کی رہنمائی کا باعث بنا ،جس کے روز و شب نے حق کے متلاشیوں کو سیدھا راستہ دکھایا،جس نے اپنی زندگی میں تمام ممکنہ محاسن اخلاق کی اعلیٰ مثال قائم کر کے اپنی زندگی کو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے مشعل راہ بنایا اور وہ شخصیت اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ ہیں۔
صرف نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ ہی ایک ایسی شخصیت ہے جس میں مذکورہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں اوریہ عالمگیریت کے ہر پیمانے پر پوری اترتی ہے۔ ذیل میں مذکورہ شرائط کے پیش نظر نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

"تاریخیت ”
تاریخیت سے مراد یہ ہے کہ جس انسان کی زندگی عالم انسانیت کی رہنمائی کے لیے پیش کی جا رہی ہو وہ صرف قصے کہانیوں پر مبنی نہ ہو بلکہ تاریخی لحاظ سے مستند ہو۔عصرحاضر میں بہت سے مذاہب کے پیروکار اپنے مذہب کے قدیم اور مستند ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کےپاس اپنے اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں ہے اس کے برعکس مسلمانوں نے اپنے پیغمبر سے متعلق ہر چیز ،شخص اور بات کی جس طرح سے حفاظت کی ہے وہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ ایک طرف جہاں آپ ﷺ کے اقوال و اعمال کو ضبط تحریر میں لایا گیا وہیں آپ ﷺ کے اقوال و اعمال کو روایت کرنے والے صحابہ کرام ؓ،تابعین ؒ،تبع تابعین ؒاور ان کے بعد چوتھی صدی تک کے راویوں کے نام ،حالات اور اخلاق و عادات کو بھی لکھا گیا جن کی تعداد جرمن ڈاکٹر سپرنگر کے مطابق پانچ لاکھ ہے۔
حدیث کو لکھنے کاکام تو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی شروع ہو گیا تھا مثلاََ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ کے خطبہ کو لکھا گیا، آپ ﷺ نے مختلف بادشاہوں نے نام جو خطوط لکھے وہ آج بھی محفوظ ہیں اس کے علاوہ آپ ﷺ نے مختلف صحابہ کرام ؓ کی طرف جو احکامات لکھ کر بھیجے وہ بھی محفوظ ہیں مثلاََ نبی ﷺ نے عمرو بن حزم ؓ جو یمن کے گورنر تھے انہیں میراث،صدقات اور دیت سے متعلق ہدایات لکھ کر دیں۔
اس کے علاوہ عربوں کو اللہ نے ایسی قوت حافظہ سے نوازا تھا کہ ایک ایک محدث کو کئی کئی ہزار اور کئی کئی لاکھ احادیث یاد تھیں ۔
المختصر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت اپنے ذمہ لینے کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی سیرت اور احادیث کی حفاظت کا بھی بہترین انتظام فرمایا تا کہ قیامت تک آنے والے لوگ آپ ﷺ کی زندگی سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔

” کاملیت”
کاملیت سے مراد یہ ہے کہ جس انسان کی ذات کو عالم انسانیت کی رہنمائی کے لیے بطور نمونہ پیش کیا جا رہاہے اس کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ ہماری آنکھ سے اوجھل نہ ہو اور اس کے روز و شب سے ہمیں مکمل طور پر آگہی حاصل ہو۔ نبی ﷺ کی ولادت سے لے کر رحلت تک ایک مختصر لمحہ بھی تاریخ کی آنکھ سے اوجھل نہیں ہے۔ امام ترمذیؒ اور دیگر محدثین نے جس طرح آپ ﷺ کے حلیہ مبارک سے لے کر آپ ﷺ کے اٹھنے،بیٹھنے، سونے ، جاگنے ، اسمائے گرامی، سرمہ لباس، عمامہ ،گفتگو،اخلاق ،مزاح،تلوار ،زرہ،جنگ کے حالات، مشکل آنے پر صبر کرنا،مہمان نوازی، احسان، ایثار ،نکاح،بیویوں سے سلوک، غلاموں سے سلوک، بچوں پر شفقت ،بڑوں کی عزت ،عدل و انصاف،سخاوت اور حوائج ضروری کے آداب وغیرہ کو بیان کیا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر آپ ﷺ کی زندگی سے متعلق اتنے جزئی واقعات کو بھی محفوظ کیا گیا ہےتو پھر آپ ﷺ کی زندگی کے بڑے واقعات کس طرح تاریخ سے اوجھل رہ سکتے ہیں؟

"جامعیت”
جامعیت سے مراد یہ ہے کہ جس انسان کی زندگی کو بطور عالمگیر شخصیت پیش کیاجا رہا ہے اس کی زندگی میں ہر شعبہ کے متعلق رہنمائی موجود ہو۔ جیسا کہ پہلے ہی ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس دنیا میں رہنے والے انسان ایک دوسرے سے مختلف ہیں، ان کی سوچ مختلف ہے اور ان کی ضروریات بھی مختلف ہیں تو ایسے میں فطری تقاضا ہےکہ جس شخصیت کی زندگی کو وہ اپنی رہنمائی کا ذریعہ بنا رہے ہیں اس کی زندگی میں ہر شعبہ کے متعلق رہنمائی موجود ہو۔ اس شرط کے پیش نظر بھی اگر رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو آپ ﷺ کی زندگی سے ہمیں ہر شعبہ کے متعلق رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔
اس ضمن میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ سے انسانی زندگی کے چند شعبوں کے متعلق رہنمائی درج ذیل ہیں۔

۱۔ نبی ﷺ بحیثیت مثالی شوہر:
حضور ﷺ اپنی گوناگوں مصروفیتوں اور بھاری ذمہ داریوں کےباوجود روزانہ بعد از نماز عصر ہر ایک بیوی کے پاس اس کے مکان پر تشریف لے جاتے، ان کی ضروریات معلوم کرتے اور کھانے ، پہننے،رہائش ، نان و نفقہ اور میل ملاقات وغیرہ میں جملہ امورمیں ہر ایک بیوی کے ساتھ ایسے عدل و انصاف اور مساویانہ سلوک سے پیش آیا کرتے کہ تاریخ عالم میں اس کی نظیر محال ہے۔ اس کے علاوہ آپ ﷺ کام کاج میں اپنی بیویوں کا ہاتھ بٹاتے اور اگر کوئی کام وقت پر نہ ہوتا تو ناراض نہ ہوتے بلکہ نرمی کا برتاؤ فرماتے۔

۲۔ نبی ﷺ بحیثیت معلم:
حضرت محمد ﷺ دنیا میں معلم بن کر تشریف لائے ،آپ ﷺ کا اپنا ارشاد گرامی ہے "انما بعثت معلما”۔
اساتذہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا: "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے اور زمین و آسمان والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنی بل میں اور سمندر کی مچھلی بھی معلم کے لیے بھلائی کی دعا کرتے ہیں”۔
طلباء سے فرمایا : "تم جس استاد سے علم حاصل کرتے ہو اس کا ادب و احترام کرتے رہو”۔
زمانہ جاہلیت میں لوگ بچوں کو تعلیم سے دور رکھتے تھے اور انہیں کام پر لگا دیتے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے والدین کے فرائض میں یہ بات شامل فرمائی کہ وہ اپنی اولاد کو لکھنا ، پڑھنا سکھائیں۔

۳۔ نبی ﷺ بحیثیت مصلح:
دنیا میں بڑے بڑے مصلح،ہادی اور رہنما گزرے ہیں جنہوں نے قوم کی اصلاح میں اپنی عمریں خرچ کر دیں تھیں مگر اس ہادیٔ عرب ﷺنے نہایت عقلمندی سے چند ہی سالوں میں عرب جیسے جاہل اور اجڈ بدوؤں کی ایسی اصلاح کر د ی جو ان کی آنے والی نسلوں میں بھی برابر جاری رہی۔
مدت سے دنیا میں غلام بنانے کی رسم چلی آ رہی تھی اور کسی مذہب نے اس رسم کو معیوب قرار نہیں دیا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے حکمت بالغہ سے غلاموں کے احوال کی بتدریج اصلاح کی اور اسلام کی انسانی قدروں پر مبنی تعلیمات کی بدولت غلامی کی رسم رفتہ رفتہ اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ چنانچہ اس کے بارے میں ترغیب دیتے ہوئے فرمایا : "جس شخص نے ایک مومن کی گردن آزاد کرائی وہ اس کے لیے آگ سے بچاؤ کا ذریعہ ہو گی”۔
اس کے علاوہ عرب کے کچھ قبائل بیٹیوں کوپیدا ہوتے ہی زندہ درگود کر دیا کرتے تھے آپ ﷺ نے لوگوں کو ایسا کرنے سے منع فرمایا اور بیٹی کی فضیلت بیان کر کے عورت کو معاشرےکے اندر اس کا اصل مقام دلوایا۔

۴۔ نبی ﷺ بحیثیت زاہد و عابد :
نبی کریمﷺ کی زندگی نہایت سادہ تھی۔ آپﷺ نے تمام عمر (مدینہ کی حکمرانی کے دوران بھی) دو وقت سیر ہو کر روٹی نہیں کھائی۔
صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مدینہ آ کر بھی (جب کہ سب مسلمانوں کی حالت بہتر سے بہتر ہو چکی تھی) برابر تین دن تک گیہوں کی روٹی کبھی نہیں کھائی اور ایک روایت میں یوں آیا ہے کہ جَو کی روٹی بھی متواتر دوروز تک نہیں کھائی۔
آپ ﷺ کی عبادت کے سلسلے میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات کو کھڑے ہوتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی اور آپ ﷺ کے قدموں میں ورم آ جاتا ، حضرت عائشہ ؓ نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اللہ نے آپ ﷺ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں”۔
۵۔ نبی ﷺ بحیثیت تاجر:
جب آپ ﷺ جوان ہوئے تو آپ ﷺ کاخیال بھی تجارت کی طرف مائل ہوا اور آپ ﷺ نےبھی تجارت کی۔ آپ ﷺ نے منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد بھی تجارت کا خیال نہیں چھوڑا ۔ آپﷺ اکثر تاجروں کےساتھ اپنا حصہ رکھ دیتے تھے۔ اپنےدوستوں کوتجارت کی ترغیب دلاتے، تجارت کے اصول بتاتے، تجارت کے فضائل ان کے ذہن نشین کراتے رہتے۔ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ جو شخص آپ ﷺ سے جتنا قریب ہوتا اتنا ہی وہ تجارتی دنیامیں بھی زیادہ مشہور ہوجاتاتھا۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "وہ تاجر جو سچ بولے اور امین ہو، وہ قیامت کے دن نبیوں،صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا”۔

۶۔ نبی ﷺ بحیثیت طبیب :
کھانے اور پینے کے حوالے سے تعلیمات نبوی ﷺ کا خلاصہ یہ ہے کہ پر شکمی کی حالت میں دستر خوان کے قریب نہ جایا جائےاور بھوک کہ حالت میں خوب سیر ہو کرنہ کھایا جائے۔( یہ تعلیم طبی حوالے سے انسانی صحت کا راز ہے)
حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے : "کھانے کی برکت یہ ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھو لیے جائیں اور کھانے کے بعد بھی”۔
قوت بینائی کو بحال رکھنے کے لیے آپ ﷺ نے ہمیں سرمہ استعمال کرنے کی تلقین فرمائی۔
آپ ﷺ شہد کو بہت پسند فرمایا کرتے تھے اور اکثر اس کا استعمال کیا کرتےتھے ۔ بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر تندرست آدمی مہینے میں تین دفعہ بقدر اشتہاء شہد استعمال کر لیا کرے تو ہمیشہ ہی تندرست رہ سکتا ہے اور جملہ امراض کے حملوں سے بچ سکتا ہے۔(موجودہ دور میں سائنس شہد کے فوائد دریافت کر چکی ہے)

۷۔ نبی ﷺ بحیثیت منصف:
آپ ﷺ بحیثیت منصف ہمیشہ عدل و انصاف کے فیصلے کرتےتھے۔ ایک دفعہ شرفائے قریش کی ایک عورت فاطمہ بنت الاسود چوری کے جرم میں پکڑی گئی ۔ مقدمہ پیش ہوا، ثبوت بہم پہنچ جانے پر حضور ﷺ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا۔ عمائدین قریش نے شرافتِ نسب کی وجہ سے اس سزا کو باعث عار سمجھ کر کوشش کی کہ کسی طرح آپ ﷺ فاطمہ کو بَری کر دیں ۔ اس کام کی تکمیل کے لیے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو آپ ﷺ کے پاس سفارشی بنا کر بھیجا گیا۔ حضور ﷺ نے خفگی کے لہجہ میں اسامہ ؓ سے فرمایا: "اے اسامہ! اللہ کی مقرر کردہ سزا میں سفارش کو دخل دیتے ہو ! خبردار ! آئندہ ایسی غلطی کا ارتکاب نہ کرنا”۔
حضرت سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اگر کسی کو تکلیف پہنچتی تو حضور ﷺ اس کو اجازت دیتے کہ اتنی تکلیف حضور کو پہنچا کر بدلہ لے لے۔

۸۔ نبی ﷺ بحیثیت سپہ سالار:
شجاعت ،بہادری اور دلیری میں بھی آپ ﷺ کا مقام سب سے بلند اور معروف تھا۔ آپ ﷺ سب سے زیادہ دلیرتھے ۔ حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ جب زور کا رَن پڑتا اور جنگ کے شعلے خوب بھڑک اٹھتے تو ہم رسول اللہ ﷺ کی آڑ لیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ سے بڑھ کر کوئی شخص دشمن کے قریب نہ ہوتا۔
فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کے زیر کمان دس ہزار قدوسی تھے ، قریش مکہ مقابلہ کی تاب نہ لا سکے ، حضور ﷺ نے لشکر کو حکم دے دیا کہ مختلف راستوں سے شہر میں داخل ہو ں اور جب تک کوئی مسلح دستہ مزاحم نہ ہو ، ہتھیار کا استعمال نہ کیا جائے۔ صرف ایک دستہ کی مزاحمت ہوئی اور مکہ بہ امن و امان فتح ہو گیا۔

۹۔ نبی ﷺ بحیثیت فاتح:
آپ ﷺ بحیثیت فاتح اپنے دشمنوں پر بھی رحم کرنے والے تھے۔ غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں جب آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ سے رائے طلب کی تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ فدیہ لے کر سب کو رہا کر دینا چاہیے جبکہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ یہ لوگ کفر و شرک کے امام ہیں ، خدا نے ہمیں ان پر غلبہ دیا ہے اس لیے مسلمانوں کے خون کا اور ان پر انہوں نے جو جو ظلم کیے تھے ان کا قصاص لینا چاہیے ۔ حضور ﷺ نے جو کہ آئینہ رحمت تھے ، حضرت ابوبکر ؓ کے مشورہ کو پسند فرمایا اور سب سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا ۔
اسیران جنگ بدر کے بعد غزوہ بنی مصطلق میں چھ سو قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے مگر ان سب کو حضور ﷺ نے بلا کسی فدیہ اور معاوضہ کے رہا کر دیا۔

۱۰۔ نبی ﷺ بحیثیت حکمران:
رسول اللہ ﷺ نے عنان سلطنت کو ہاتھ میں لیتے ہی جو کام کیے وہ ملوک عالم سے اور کوئی حکمران بھی سر انجام نہیں دے سکا۔آپﷺ نے تھوڑے ہی عرصہ میں عرب کو کچھ سےکچھ بنا دیا ۔ اس کی تاریکی اور جہالت کو نور علم سے بدل دیا۔ باطل پرستی کو حق پرستی ، نفس پروری اورخود غرضی کو ہمدردی سے، ظلم کو عدل و انکسار سے اور فاقہ کشی کو آسائش و خوشحالی سے تبدیل کر دیا۔جہاں انسان انسان سے محفوظ نہ تھا وہاں شیر بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پینے لگے۔ جہاں انسانی خون کی کوئی قدر نہ تھی وہاں چرند پرند کی حفاظت فرض ہو گئی۔ جہاں غلام کوڑی کوڑی کوبک کر نشانہ ظلم بنتا تھا وہاں غلاموں کو سرداری کا مرتبہ ملا۔جہاں عورت باعث عار تھی وہاں باعث رحمت اور محبوب ترین چیز ہوکر مقام ناز پر کھڑی کی گئی۔ جہاں مسافر لوٹے جاتے تھے وہاں مسافر مہمان کے لیے اپنے پیٹ کی روٹی وقف کی جانے لگی۔
المختصر آپ ﷺ نے عرب کی حکومت ہاتھ میں لیتے ہی عرب کی کایا پلٹ دی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسا بے نظیر انقلاب برپاہوا کہ دنیا حیران رہ گئی۔

” عملیت ”
عملیت سے مراد یہ ہے کہ جس شخصیت کی تعلیمات کو عالمگیر کہا جا رہا ہے اس نے اپنی تعلیمات پر خود بھی عمل کیا ہو۔ اس لحاظ سے بھی اگر سیرت رسول اللہ ﷺ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو جس کام کے کرنے کا حکم دیا اس پر پہلے خود عمل کیا اور اپنے عمل کو ان کے لیے مشعل ِ راہ بناتے ہوئے اس بات کی بھی تصدیق کر دی کہ اسلام کی تعلیمات کی بنیاد محض فلسفہ نہیں بلکہ عمل ہے اور اسلام کا کوئی حکم ایسا نہیں جس پرعمل نہ کیاجا سکتا ہو۔آپ ﷺنے قیامت تک کے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی زندگی کو بطور نمونہ پیش کیا اور یہی وجہ ہے کہ قرآن میں ارشادباری تعالیٰ ہے:
” بے شک تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے” (الاحزاب : ۲۱)

"خلاصہ کلام”
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ واقعی نبی کریم ﷺ کی ذات میں ہمارے لیےایک بہترین نمونہ ہے اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ سے ہم اپنی زندگی کے ہرشعبے سے متعلق رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کو مذکورہ چار پیمانوں کے علاوہ بھی جس معیارکے مطابق پرکھا جائے آپ ﷺ کی سیرت ہرمعیار پر پور ااترنے کے ساتھ ساتھ قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہدایت و رہنمائی فراہم کرتی ہے یہی وجہ ہےکہ ہر مسلمان اپنے نبی ﷺ کی سیرت کی پیروی کرتےہوئے اپنی زندگی کو آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نبی ﷺ کی سیرت کے مطابق زندگی گزار کر ہی ہم نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی حاصل کر سکتےہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ مجھ سمیت ہرمسلمان کو اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ کی پیروی کرنے اور آپﷺ کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

"مصادر و مراجع”
۱۔ الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوریؒ
۲۔ خطبات ِمدراس از سید سلیمان ندوی ؒ
۳۔ ضیاء النبی ﷺ از پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ
۴۔ اسوۂ کامل از ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

کتاب مقبول کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ وسیم احمد

کتاب سے مراد صرف نصابی کتابیں نہیں ہیں،یہاں غیر نصابی و ادبی کتابوں کا ذکر …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: "محمد ﷺ ایک عالمگیر شخصیت" ۔۔۔ محمد ہارون! This is the link: https://pakbloggersforum.org/muhammad-pbuh-a-global-personality-4/