صفحہ اول / تحریری مقابلہ: سیرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم / "محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک عالمگیر شخصیت” ۔۔۔ محمد سفیان

"محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک عالمگیر شخصیت” ۔۔۔ محمد سفیان

عالمگیریت بذات خود ایک ایسا وصف ہے کہ اسے الفاظ کی لڑی میں پرو دینا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس چھوٹی سی دنیا کو مختلف قطعات میں تقسیم فرمایا ہےاور پھر ان مختلف قطعات میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے،مختلف زبانیں بولنے والے،مختلف تہذیب رکھنے والے اور مختلف نظریات وعقائد کے حامل لوگ پائے جاتے ہیں۔

الغرض اس پوری کائنات میں وہ تمام مخلوقات جو عقل اور سمجھ رکھتی ہیں اور اپنے نظریات کی منتقلی کے لئے زبان کے استعمال کا حق رکھتی ہیں پھر چاہے وہ انسان ہوں، جانور یا جنات۔۔
ایک ایسی شخصیت جو ان تمام مخلوقات کے لئے بہترین زندگی گزارنے کا عملی نمونہ پیش کرے،عالمگیر شخصیت کہلاتی ہے۔

اس دنیا میں صرف انسان ہی ایک مخلوق ہے جسے اپنی دانائی اور فہم و فراست کی وجہ سے باقی تمام مخلوقات پر فوقیت حاصل ہے، اگر اس کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ایسی سینکڑوں شخصیات مل جائیں گی جنہیں دنیا”عظیم شخصیت” کے نام سے یاد کرتی ہے لیکن یہاں ایک توجہ طلب بات یہ بھی ہے کہ ان تمام نے اپنی ساری ساری زندگیاں وقف کی ہوتی ہیں اوران کا حاصل کسی ایک شعبے میں کسی ایک چیز کی دریافت ہوتا ہے۔
لیکن اس کائنات میں ایک ایسی شخصیت بھی آئی جس نے ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جس کی رہتی دنیا تک کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔
اس شخصیت سے متعلق میری مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں،جنہیں اس کائنات میں اللّٰہ تعالیٰ کے آخری نبی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
سر مائیکل ہارٹ اپنی مشہور زمانہ کتاب
"The Hundred”
A ranking of most influential person in history.
میں محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پہلے نمبر پر رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ
مجھے ایسی شخصیت کی جستجو تھی جو دینی اور دنیاوی ہر دو محاذوں پر کامیاب ٹھہری ہو۔۔تو وہ ذات محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی نہیں تھی۔۔۔!

شبِ ظلمت کے ہنگاموں میں گم تھی عقل انسانی
یکا یک طاق کعبہ پرچراغ ہاشمی آیا

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک ایسے وقت میں تشریف لائے جب دنیا میں جاہلیت اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی ظلم وبربریت کے بادل چھائے ہوئے تھے ، کوئی ذی روح اس سے محفوظ نہ تھی ،فساد و بگاڑ،فضول رسم و رواج، بد کرداری، شقاوت و عداوت اور قتل و غارت گری سے معاشرے نے جنگل سا روپ دھار لیا تھاشاعر اس دور کی منظرکشی کچھ یوں کرتا ہےکہ۔۔۔!

انساں پہ کیا گزر رہی ہے
انسانیت آہیں بھر رہی ہے

ایسے وقت میں محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حق کا پرچم اٹھایا، باطل کا رد کیا اور ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھی جس کی اساس "لا الہ الااللہ”قرار پائی،پھر اپنی عملی زندگی سے ایک ایسا نمونہ پیش کیا جس کی نظیر نہیں ملتی۔
آپ کے اسوہ میں ہر طبقے اور ہر صنف سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے راہنمائی ہے،ہم ہر آنے والے لمحے سے ایک نئے قلبی عمل،جزبے یا احساس سے متاثر ہوتے ہیں،کبھی ہم خوشی سے سرشار ہوتے ہیں تو کبھی غم سے نڈھال،کبھی کامیاب تو کبھی ناکام۔۔۔ان جزبات و احساسات میں ہمارا ردعمل بہت حد تک خطرناک بھی ہو سکتا ہے اور بہت حد تک مایوس کن بھی۔۔۔لیکن ان تمام حالات میں ایک مناسب اور مفید لائحہ عمل پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح عمری سے ملتا ہے۔
سید سلیمان ندوی نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عالمگیریت کو بڑے احسن طریقے سے بیان کیا ہے
"محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا وجود مبارک ایک آفتاب عالم تاب تھا جس میں اونچے پہاڑ،ریتلے میدان،بہتی نہریں اورسرسبز کھیت اپنی اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق تابش اور نور حاصل کرتے تھے
یا ابر باراں تھا جو پہاڑ،جنگل،میدان ،کھیت،ریگستان اور باغ ہر جگہ برستا تھا اور ہر ٹکڑا اپنی ضرورت کے مطابق سیراب ہو رہا تھا،قسم قسم کے درخت ،رنگا رنگ پھول اور پتے جم رہے تھے اور اگ رہے تھے۔۔”
(خطباتِ مدارس از سید سلیمان ندوی)
میں کہتا ہوں نبی کی ذات ہر لحاظ سے عالمگیر ہے،وہ ایمان واتحاد کا منبع ہے،یہ زمین وآسمان،یہ یہ شرق و غرب اور شمال و جنوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے اندر گم ہیں ،اس کی عقیدت کی آن ہر رنگ و بو میں،لالہ و گل میں،مہکتے ہوۓ چمن میں،کلیوں کی مہک میں ،بلبل کی چہک میں اور ہواؤں کی لہر میں دیکھتے ہیں۔۔
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ورالوراء ہیں ،ہماری پہچان کی حد سے بالاتر،جو فلسفیوں سے کھل نا سکا ،جو نقطہ وروں سے حل نا ہوا وہ راز کملی والے چند اشاروں میں بتا دیا ۔
وجودشاہی،نصبیت فرعونی اور عصبیت جاہلی کو کچھ اس طرح سے مٹایا کہ پھر کوئی زمانے کی گردش اسے زندہ نا کر سکی۔
اللّٰہ تعالٰی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا
"وما ارسلنک الا رحمت اللعالمین”
(سورتہ الا نبیاء:107)
اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
مجھےاس سے بڑی عالمگیریت کی کوئ دلیل نا ملی۔

محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جامع شخصیت کے سوا کوئی آخری،دائمی اور عالمگیر راہنما ہو نہیں سکتا،اسی لئے اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا

"اے نبی ان سے کہہ دو اگر تمہیں خدا سے محبت کا دعویٰ ہے تو آؤ میری پیروی کرو اللّٰہ بھی تم سے محبت کرے گا”
(سورہ آل عمران:31)

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

کتاب مقبول کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ وسیم احمد

کتاب سے مراد صرف نصابی کتابیں نہیں ہیں،یہاں غیر نصابی و ادبی کتابوں کا ذکر …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: "محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک عالمگیر شخصیت" ۔۔۔ محمد سفیان! This is the link: https://pakbloggersforum.org/muhammad-pbuh-a-global-personality-5/