صفحہ اول / تحریری مقابلہ: سیرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم / محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ از قلم: کرن سلطان ڈھلوں

محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ از قلم: کرن سلطان ڈھلوں

عرب کا ریگستان جس کے تین اطراف پانی ایک طرف خشکی اور خود یہ جزیرہ نما ہے میں کھڑے ہوکر میں نے ایک "عالمگیر شخصیت”کو تلاشنا چاہا ہے۔

کیا میں اس "تلاش”میں کامیاب ہو پاؤں گی؟؟

اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے آپ کو میرے ساتھ صحرائے عرب کا سفر کرنا ہوگا۔

شاید آپ اس سفر میں تھک جائیں،شاید عرب کے صحرا کی گرم ریت آپ کے پاؤں جھلسا کر آپ کی ہمت خاکستر کردے،اور شاید آپ عرب کے اس صحرا کے طول و عرض کے دہلا دینے والے مناظر دیکھ کر ڈر جائیں۔

اور شاید اس سب کے آخر میں آپ ایک نخلستان میں ایک "عالمگیر شخصیت”سے ملنے کے بعد ہر تھکاوٹ،اکتاہٹ،خوف بھول کر مسرور ہوجائیں۔
ہونے کو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

چلے آئیے پھر چلتے ہیں صحرائے عرب میں "عالمگیر شخصیت”کو تلاشنے۔

کیا آپ کا دل کہتا ہے ایسی شخصیت اس صحرا میں ملے گی جس کے ہر طرف عالمگیر تاریکی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں؟؟

ڈھونڈنے سے اللہ بھی مل جاتا ہے آئیے ہم ڈھونڈتے ہیں۔

ایک منٹ رک جائیے ایک زرد مٹتا دم توڑتا منظر اس ریگستان میں اپنی طرف متوجہ کررہا ہے آئیے چل کر دیکھتے یہ منظر کیا ہے اور اس منظر کا ہماری تلاش "عالمگیر شخصیت”سے کیا تعلق ہے۔
یہ سیاہ عمارت ہے،عرب کے ریگستان کے بیچ اپنی پوری شان سے ایستادہ ہے۔
اس عمارت کے اندر ایک شخص جس کا نام "ہاشم”ہے،حجاج کو بڑی فیاضی اور سیر چشمی سے کھانا کھلا رہے ہیں۔

چرمی حوضوں میں پانی بھروا کر وہ سبیل لگوا رہے ہیں۔
ہاشم کون ہیں؟شاید "عالمگیر شخصیت”کا ان سے تعلق ہو۔
ٹھہر جائیے شاید ہاشم کی کہانی کا سرا ہمیں "عالمگیر شخصیت”تک لے جائے۔

ہاشم کی شادی مدینہ کے ایک خاندان "بنی نجار”میں ہورہی ہے۔
چلیں ہم اس شادی کو دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا۔
شاید یہ شادی ہمیں ہمارے مطلوب تک لے جائے۔
آپ عرب کے صحرائی ریگستان کی ریت کو دیکھتے یقینا اکتا رہے ہیں۔
مگر جب آپ اپنے مطلوب و مقصود سے ملاقات کرلیں گے،آپ کی ساری اکتاہٹ دور ہو جائے گی ان شاءاللہ۔

اوہ یہ کیا ہوا،جس شادی کا نتیجہ دیکھنے ہم اتنی دیر سے ٹھہرے ہوئے تھے اس کا نتیجہ ایک "یتیم”بچے کی صورت نکلا۔
جی ہاں شادی کے بعد ہاشم شام کی طرف سفر کرتے انتقال کر گئے ہیں۔

ان کی بیوہ بیوی سے ایک فرزند تولد ہوا،جسکا نام "شیبہ”رکھا گیاہے۔

اللہ کرے ہم شیبہ کے ذریعے "عالمگیر شخصیت”سے ملاقات کرلیں۔

چلیں آئیں ہم اس صحرا میں بیٹھ کر انتظار کرتے ہیں۔
"شیبہ” کی کہانی کھلنے کا۔

کیا آپ دور سے آتے گھڑ سوار کو دیکھتے متجسس ہوئے؟کہ یہ کون ہے جو ریت کا سکون غارت کرتا اپنے گھوڑے کو سرپٹ دوڑاتا نظر آرہا۔
چلے آئیے دیکھیں یہ کون ہے۔
اوہ یہ ہاشم کے بھائی "مطلب”ہیں۔
جو مدینہ سے اپنے یتیم بھتیجے کا لینے آئے ہیں۔

یہاں سے کہانی ایک نئے موڑ میں داخل ہورہی ہے۔

"مطلب” نے اپنے بھتیجے "شیبہ”کی پرورش شروع کی۔
اور اسی پرورش کی وجہ سے شیبہ کا نام "عبدالمطلب”پڑگیا ہے۔

آہ۔۔۔تو ہم عالمگیر شخصیت سے ملنے والے ہیں۔

سن شعور کو پہنچنے کے بعد "عبدالمطلب” کعبہ کے متولی بن چکے ہیں۔

عبدالمطلب نے منت مانی تھی،وہ اپنے ایک بیٹے کی قربانی دیں گے۔
بیٹے کی قربانی؟؟؟
وہ بھی جوان؟
ہائے عبدالمطلب کے لیے کتنا کڑا وقت ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں قرعہ اندازی کی جارہی ہے۔
عبدالمطلب کی منت کس کے نام نکلتی ہے۔
ان کے دس بیٹوں میں سے کس کے نام قرعہ نکلتا ہے۔

ٹھہر جائیے،رک جائیے اور دیکھیے۔
تھک گئے ہیں تو اسی ریت پہ بیٹھ جائیں ہم یہاں "عالمگیر شخصیت”تلاش کرنے آئیں ہیں وقت تو لگے گا۔

اوہ۔۔۔۔کیا آپ نے دیکھا عبدالمطلب کا چہرہ یکدم سے تاریک کیوں ہوگیا؟؟
میں بتاؤں؟؟

قرعہ عبدالمطلب کے سب سے محبوب بیٹے "عبداللہ” کے نام نکلا ہے۔

آہ۔۔۔۔جب ہم "عالمگیر فاتح عالم شخصیت”کے قریب بالکل قریب پہنچنے ہی والے تھے تو یہ کیا ہوگیا۔۔۔۔
عبداللہ قربان ہونگے کیا؟؟

ابھی واپس مت جائیے گا۔
میرا دل کہتا ہے عالمگیر شخصیت اسی صحرا سے ملے گی۔
دیکھتے ہیں،روسائے قریش اکھٹے ہوچکے ہیں وہ عبداللہ کی قسمت کا کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

اوہ اللہ تیرا شکر ہے،عبداللہ سو اونٹ کفارہ دیکر بچ گئے ہیں۔

آپ کے چہروں پہ بھی رونق لوٹ آئی نا؟؟
چلیں پھر اب عبدالمطلب کے بیٹے عبداللہ کی کہانی کھلنے کا انتظار کرتے ہیں۔

واہ۔۔۔عبدالملطب قبیلہ "زہرہ”کے رئیس "وہب بن مناف” کی بیٹی "آمنہ”کے ساتھ عبداللہ کی شادی کررہے ہیں۔
چلیں آئیں اس خوب صورت شادی میں شرکت کرتے ہیں۔

عبداللہ سارے خاندان کے محبوب لڑکے ہیں۔
ان کی شادی سے ہر چہرے پہ مسکراہٹ چھلک رہی ہے۔
یہ شادی بہت خوب صورت شادی ہے۔
شادی کو کچھ عرصہ گزرا ہے۔،اور خاندان قریش پہ غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔

آہ۔۔۔۔۔او میرے رب۔۔۔۔یہ کیا ہوگیا۔۔۔۔
جواں سال آمنہ۔۔۔۔اتنے تھوڑے عرصہ میں بیوہ ہوگئیں۔۔۔آہ ان کے بطن میں ایک مبارک زندگی جب نمو پارہی ہے تو حضرت آمنہ بیوگی کی فضا میں سانس لینے لگی ہیں۔
یہ فضا کتنی کھٹن ہے،شاید سہاگ کی جواں سالہ چادر اتار کر بیوگی کی بوڑھی چادر اوڑھنے والی بیوہ لڑکی اس کی وضاحت کرسکے۔۔۔۔

آپ سب غمگین ہوگئے ہیں؟؟

آپ نے پھر سے واپسی کا ارادہ کرلیا ہے؟؟

رک جائیے۔۔۔شاید ہم عالمگیر شخصیت سے ملاقات کے بہت قریب ہوں۔

کچھ لمحے ٹھہر جائیں پلیز۔۔۔
چلیں آمنہ کے بطن سے پیدا ہونے والے مبارک بچے کو تو دیکھتے جائیں وہ کیسا ہوگا۔

ویسے بن باپ پیدا ہونے والے بچے کیسے ہوتے ہیں؟؟
یہ بچہ ابھی آیا نہیں۔۔۔
جب یہ دنیا میں آئے گا باپ کو نہ پاکر نجانے اس بچے کی شخصیت کیسی ہوگی۔
دلچسپ کہانی ہے،رک جائیں۔

اوہ میرے اللہ۔۔۔۔بہار کا موسم۔۔۔۔ہر طرف جب پھول کھل اٹھے ہیں تو عبداللہ کا بچہ پیدا ہوا ہے۔

آسمان کی طرف دیکھیں ۔۔۔۔شیاطین کو آسمان سے جانے روکا جارہا ہے،
اوہ۔۔۔کیا آپ نے دور بہت دور سے سو سال سے بھڑکتی فارس کے آتش کدوں کی آگ کو برف کی طرح سرد ہوتے دیکھا؟؟؟
اوہ۔۔۔کیا آپ نے اپنے ارد گرد عالمگیر تاریکی کو روشنی میں بدلتے دیکھا؟؟

اللہ اللہ۔۔۔میں نے دیکھا ہے۔۔۔
آئیں چلیں دیکھتے ہیں اس خوب صورت بچے کو دیکھتے ہیں جس کی ماں کہہ رہی ہے میرے بطن سے نور کا ٹکڑا نکلا ہے۔

اوہ اللہ ۔۔۔۔بچے کی خوب صورتی کی کیا بات کریں،اس کی برکتوں کے قصے تو ذرا تھم لیں۔

کیا آپ نے اس مبارک بچے کے بوڑھے دادا کو گھر کے اندر داخل ہوتے دیکھا؟
میں نے چشم تصور سے دیکھا ہے وہ بہت مسرور چہرے کے ساتھ اندر داخل ہوئے ہیں۔
وہ اس مبارک بچے کو لیکر کعبہ میں گئے ہیں اور اس بچے کے کے لیے دعا مانگ رہے ہیں۔

اب جب کہ اس بچے کو پیدا ہوئے ساتواں دن ہوچکا ہے تو اس بچے کا عقیقہ کے بعد نام رکھا گیا ہے۔
سارے خاندان قریش کی دعوت کی گئ ہے۔

آپ اس بچے کا نام جاننے کے لیے بے چین ہورہے ہیں نا؟؟
اس بچے کا نام "محمد”
(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے۔
اور اسی مبارک بچے کی تلاش میں تو ہم نے صحرائے عرب کی اتنی خاک چھانی ہے۔

ایک ایسا بچہ جس کا باپ اسکی پیدائش سے پہلے فوت ہوچکا ہے،بچوں کو پرورش کی غرض سے دیہات لیجانے والی دائیاں اس بچے کی طرف متوجہ تک نہیں ہورہیں صرف اس لیے کہ اس بچے کہ سر پہ باپ کا سایہ نہیں ہے،اور کون اسکی پرورش کا معاوضہ دے گا،سو وہ دوسرے بچوں کی طرف بڑھ گئی ہیں اور ایک دایہ جسے کوئی بچہ نہ ملا سکا وہ خالی ہاتھ جانے کی بجائے بن باپ کے اس بچے کو ساتھ لیکر جارہی ہے،کیا یہ بچہ فاتح عالم یا اس پوری کائنات کی عالمگیر شخصیت بن سکتا ہے؟؟
تعجب کی بات لگتی ہے نا؟؟
مگر اس تعجب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہمیں اس بچے کے بارے میں جاننا ہوگا۔
اس بچے کی کہانی کھولنا ہوگی۔
عموما،وہ بچے جن کے باپ ان کی پیدائش سے پہلے یا ان کے بچپن میں فوت ہوجاتے ہیں وہ بچے بہت سی اخلاقی برائیوں اور گمرائیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

یہ بچہ ریگستان عرب کے ایسے تاریک دور میں پیدا ہوا ہے جس میں انسانیت پامال ہورہی ہے۔
یہاں اس ریگستان میں ہر طرف قتل و غارت گری کا بازار تو گرم ہے ہی،ساتھ یہاں اس گرم تپتی ریت میں معصوم کلیاں زندہ دفن کی جارہی ہیں۔
آپ اس تپتی ریت میں سود کے زہریلے درخت کو اپنی خار دار شاخیں پھیلائے بھی دیکھ سکتے ہیں۔

یہاں کچھ ہی فاصلے پہ جنگی وحشی جنون میں مبتلا ہجوم آپ کو بدلہ،انتقام کی تلواریں تھامے بھی نظر آرہا ہے۔
آپ انسانوں کو قابل رحم حالت میں غلام بنے دیکھ کر یقینا اپنی ہمت کھو رہے ہیں۔
آپ شراب،جوے الغرض انتہا کی اخلاقی،معاشرتی معاشی سماجی،تمدنی برائیوں میں مبتلا افراد کو دیکھ کر واپسی کا قصد کرنے لگے ہیں یہ سوچتے کہ۔۔”ایسے خوفناک تاریک دور میں۔۔۔۔”عالمگیر شخصیت”کیونکر مل سکتی ہے؟”
تو میں کہوں گی رک جائیے،اتنا کچھ دیکھ لیا اب اس شیر خوار بچے کو کو تھوڑا بڑا ہوتے دیکھ لیں۔
پھر چلے جائیے گا۔
بہت شکریہ آپ رک گئے ہیں۔
بچہ بڑا ہوکر دیہات سے ماں کے پاس آگیا ہے۔

بن باپ کے یتیم بچہ ۔۔۔۔
یہ بن باپ بچہ اب چھ سال کا ہوچکا ہے اور یہ اپنی ماں کے ساتھ سفر کررہا ہے۔

ماں کتنی بڑی نعمت ہے نا ؟؟
بچے کے پاس یہ دنیا کی سب سے بڑی نعمت موجود ہے۔
شاید اسی لیے بچہ ابھی تک عرب کی دیگر اخلاقی برائیوں سے محفوظ ہے۔
اور شاندار بچہ ہے۔

آہ۔۔۔۔۔۔یا اللہ۔۔۔۔۔ماں ۔۔۔اوہ مالک۔۔۔۔بنجر بے رونق سی سرزمین پہ یہ اس معصوم بچے کے ساتھ کیسا المناک حادثہ ہوا ہے۔۔۔
اللہ معصوم بچہ۔۔۔دوران سفر اپنی ماں کو کھو بیٹھا ہے۔

آپ کی آنکھیں اس بچے کے درد پہ نم ہوگئ نا؟؟

چھ سال کی عمر تک یہ بچہ شاندار شخصیت کا مالک تھا۔
امید تھی یہ بچہ ہی عالمگیر شخصیت کا مالک ہوگا مگر جس بچے کی ماں اسکی آنکھوں کے سامنے موت اور مٹی کی آغوش میں چلی جائے کیا وہ بچہ ایک نارمل زندگی گزار سکتا ہے؟؟
ہم کیسے توقع کرسکتے ہیں اس بچے سے کہ یہ ایک عالمگیر شخصیت بنے گا۔
تو کیا ہمارا ری ریگستانی سفر بیکار گیا؟
کیا ہم لوٹ جائیں،چلیں اس کے بعد کی کہانی کھلنے کے بعد ہم رخصت ہوجائیں گے تھوڑی دیر مزید رک جاتے ہیں۔
آپ اس بچے کی ماں کی وفات اور اس بچے کے غم کی وجہ سے نم ہوجانے والی آنکھوں کو خشک کرلیں۔
تاکہ ہم اگلی کہانی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
بچہ اب عبدالمطلب کے زیر سایہ پرورش پارہا ہے۔

وہ دادا جو خود یتیم ہوکر چچا کے ہاتھوں پرورش پانے والا تھا وہ یقینا اپنے پوتے کے درد کو اچھے طریقے سے سمجھتا ہوگا۔
بچہ اب دادا کے ساتھ رہ رہا ہے۔
بچے کی اخلاقی حالت اب پہلے سے بھی اچھی ہے۔
اور بچے میں اچھائیاں پروان چڑھتی ہی جارہی ہیں۔
امید ہے اب بچہ ہمیں عالمگیر شخصیت سے ضرور ملوا دے گا۔

مگر۔۔۔۔آہ۔۔۔۔دو سال بعد بے حد چاہنے والے دادا بھی اس دنیا سے رخصت ہورہے ہیں۔

یا اللہ۔۔۔۔ایک بچے کا دل اتنے غم کیسے برداشت کر سکتا ہے؟؟؟
چلیں آئیں ہم واپس چلتے ہیں۔
نہیں ملے گی یہاں اس ریگستان سے عالمگیر شخصیت۔۔۔
آپ کیوں رکے ہوئے ہیں؟؟
کیا؟؟
کیا کہا؟
اس بچے کی پرورش اب اس کا چچا ابو طالب کررہا ہے؟؟؟
کیا اب مزید ٹریجڈی اس بچے کے ساتھ پیش نہیں آئے گی؟؟
تو ٹھیک ہے میں رک جاتی ہوں۔
بچہ سن شعور کو پہنچ چکا ہے۔
واہ کمال۔۔۔۔جاہلیت عرب کی کوئی بھی قبیح برائی باوجود اتنے صدموں کے اس بچے میں نہیں۔

میں نے اپنی زندگی میں دیکھا بے شمار بچے جھوٹ بولتے ہیں،لڑائی جھگڑا،دنگل فساد گالی گلوچ کرتے ہیں ماہرین نفسیات اندازہ لگاتے ہیں،کہ ان بچوں نے بچپن میں ماں باپ کو کھویا ہوتا ہے اس لیے یہ ایسے ہیں تو پھر یہ بچہ جو اب اپنی جوانی کے عروج تک پہنچ چکا ہے یہ ایسا کیوں نہیں ہے؟؟

یہ یتیم بچہ جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اب ایک نوجوان لڑکا ہے۔

تاریک سیاہ دور کا ایک روشن پیشانی والا نوجوان۔
جو اپنے دور کی کسی بھی قبیح برائی میں مبتلا ہونے کی بجائے تجارت یعنی بزنس میں دلچسپی لیتا پایا جارہا ہے۔
اس نوجوان کے پاس سر مایہ نہیں ہے کہ اپنا بزنس کرسکے مگر یہ نوجوان خاندانی تجارت کی بدولت کافی تجربہ حاصل کرچکا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تجارتی تجربے اور بزنس میں اعلی درجے کی دیانت داری نے آپ کی شہرت دور تک پھیلائی ہوئی۔
کتنا مشکل ہے یتیمی میں زندگی بسر کرکے دیانت داری قائم رکھنا۔
مگر آپ اعلی درجے کی دیانت داری پہ قائم۔ہیں۔

ایک خاتون اس نوجوان کو اپنا سرمایہ دیکر بزنس ٹور کے لیے ملک شام بھیج رہی ہیں۔آئیے ہم۔بھی ان کے ساتھ چل کر دیکھتے ہیں۔

ان خاتون کا غلام” میسرہ” اس نوجوان کے ساتھ ہے۔
اور وہ حیران ہورہا ہے،وہ اپنی زندگی میں شاید پہلی بار ایسا دیانت بزنس ٹائیکون دیکھ رہا پے،جو اسے قدم قدم پہ حیران کررہا ہے۔

اوہ۔۔۔۔میرے اللہ۔۔۔۔میں نے اپنی زندگی میں کبھی ان جیسا ایماندار کامیاب تاجر نہیں دیکھا۔

آپ دیکھیں۔۔۔غور سے دیکھیں۔۔۔میسرہ اپنی مالکن سے کیا کہہ رہا ہے؟؟
اور مالکن کے چہرے کے تاثرات کیا کہہ رہے ہیں؟؟
صرف پہلی ملاقات میسرہ کی اور اس نے اس نوجوان کو اس طرح بیان کیا ہے کہ۔۔۔وہ خاتون جسکی عمر چالیس سال ہے،اور وہ بیوہ عورت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کا پیغام بھیج رہی ہے۔
کیا یہ نوجوان کنواری لڑکی سے شادی نہیں کرسکتا؟؟
کیا یہ اپنی ہم عمر لڑکی سے شادی نہیں کرسکتا؟؟
مگر وہ دیکھیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا رشتہ ازواج میں منسلک ہوچکے ہیں۔
اللہ اکبر۔۔۔۔
عالمگیر شخصیت ۔۔۔۔ہاں ایسی ہی ہو سکتی ہے عالمگیر شخصیت ۔۔۔

دیکھیے تو،کعبہ میں جھگڑا ہورہا ہے۔۔۔۔کس بات پہ۔۔۔متبرک پھتر رکھنے پہ۔۔۔۔ہر قبیلہ لڑ رہا ہے کہ پھتر وہ اس کے مقام پہ رکھے گا کعبہ کی دوبارہ سے تعمیر ہوئی ہے اس لیے اب وہ پھتر اس کے اصل مقام پہ رکھے جانے کی بحث ہورہی۔
اور بحث کا زاویہ کسی بڑی جنگ چھڑنے کی اطلاع دے رہا ہے۔
اللہ خیر۔۔۔
طے ہوا ہے جو صبح کعبہ میں سب سے پہلے آئے گا وہ ہی فیصلہ کرے گا۔
اب ہمیں کعبہ کی قدیم عمارت میں رات گزارنا ہوگی تاکہ ہم فیصلہ دیکھ کر ہی جا سکیں۔

اور رات کی سیاہی دن کے اجالے میں بدل رہی ہے،۔۔۔
اوہ۔۔۔۔دیکھیں تو کعبہ میں کون داخل ہوا؟
آپ سب حیران رہ گے نا؟
دیکھتے ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
اررےےےے۔۔۔۔یہ چادر کیوں بچھا کر اس پہ پھتر رکھا جارہا ہے؟
اوہ۔۔۔اب اس چادر کے تمام کونوں کو سب قبیلے نے تھام کر اوپر کیا اور اس مبارک نوجوان نے اپنے پاک مبارک ہاتھوں سے پھتر اس کے مقام پہ رکھ۔

میں قربان میرے ماں باپ قربان ایسی شخصیت پہ۔

رکیے ٹھہریے اور مختصر سا جائزہ لیکر ہم واپسی کے لیے رخت سفر باندھیں۔
یہ نوجوان بجائے کسی جوئے شراب کی جگہ پہ جانے کے،ایک تاریک غار میں کیوں جارہا ہے؟
آہ۔۔۔عبادت کے لیے!!!

اللہ اکبر۔۔۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی چن لیا گیا ہے۔
فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے "پڑھنے”کا کہہ رہا ہے۔

اور اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لاکر کہہ رہے ہیں بیوی سے۔۔۔”زملونی۔۔۔زملونی۔۔۔”
"مجھے کمبل اوڑھا دو،مجھے کمبل اوڑھا دو۔”
کیوں؟؟
بجائے اتنے بڑے اعزاز پہ خوش ہونے کے آپ کپکپا کیوں رہے ہیں؟؟

آہ۔۔۔۔۔بھاری ذمہ داری آپ پہ کپکاہٹ طاری کیے ہوئے ہے۔
اللہ اکبر۔۔۔۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول بن کر آچکے ہیں۔
محبت کرنے والا عزت کرنے والا خاندان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن بن چکا ہے۔
اور آپ کی راہ میں ہر پھتر رکھنے لگا ہے۔
کیا خاندان بھر کی مخالفت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم عالمگیر شخصیت بن سکتے ہیں؟

آئیے اور دیکھیں شعب ابی طالب کی گھاٹی میں نظر بند اس نوجوان کو جسے "اسلام”کی پاداش میں سزا دی گئ ہے وہ بھی خاندان سمیت۔
جب خاندان تکلیف میں ہو بڑے بڑے ہمت والے ہار مان جاتے ہیں مگر آفرین ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ تین سال گزار لیے،درختوں کے پتے کھالیے
مگر اپنے مشن سے نہیں ہٹ رہے۔۔

آؤ دیکھو طائف میں لہو لہان ہوجانے والے عظیم عالیشان انسان کو۔
جو لہو لہان ہوکر دعائے خیر کررہا ہے۔

آؤ دیکھو کفار مکہ کے ڈھائے گئے مظالم کو صبر و استقامت سے برداشت کرنے والی عظیم عالمگیر شخصیت کو۔
آؤ دیکھو مکہ سے ہجرت کرتے تاریک غار میں اپنے یار غار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو،
آؤ دیکھو یتیموں،بیواؤں،غریبوں کے دلوں کے مرہم کو،آؤ دیکھو جنگ کے میدان میں عظیم حکمت عملی کا مظاہرہ کرنے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو۔
آؤ دیکھو کفار کے معاہدوں پہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے والی عظیم عالمگیر شخصیت کو۔
آؤ دیکھو فاتح مکہ کو،جو حسن تدبیر سے مکہ فتح کرکے بت توڑ رہا ہے۔

آؤ دیکھو ۔۔۔۔عورت کو ان کا جائز مقام دلانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو۔

آؤ دیکھو زندہ دفن کی گئ بیٹی کو وحشی معاشرے میں اعلی مقام دینے پہ۔
اور دیکھو۔۔۔۔حج الوداع کا منظر۔۔۔۔
انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہر طرف نظر آرہا ہے۔
اور اس سمندر سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم عالمگیر شخصیت اپنے مشن کی تکمیل کے بعد مخاطب ہورہی ہے۔

آج وہ دن ہے جب اسلام اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ طلوع ہورہا ہے۔

عرب کے صحرا میں عالمگیر شخصیت تلاشنے والو!!!
مبارک ہو تم سب نے سفر کا اجر پا لیا۔
آؤ میں دکھاؤں عرفات کے میدان میں ناقہ پہ سوار وہ شخصیت جو اپنی پوری شان سے طلوع ہوچکی ہے۔
نظریں اس عالمگیر شخصیت پہ جما کر بس اس عظیم عالمگیر شخصیت کو سنیں۔
سنیں تو کیا کہا جارہا ہے۔

"جاہلیت کے تمام دستور میرے پاؤں کے نیچے ہیں”

"لوگو بے شک تمہارا رب ایک ہے۔اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔
کسی عربی کو عجمی پہ کسی عجمی کو عربی پہ کوئی فضیلت نہیں سوائے تقوی کے”

"اللہ نے تم سے جاہلیت کی جہالت اور آباء و اجداد پر فخر کو مٹا دیا انسان اللہ سے ڈرنے والا مومن ہوتا ہے۔یا اس کا نافرمان شقی۔تم سب کے سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے”

"ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔”

"تمہیں غلام،تمہارے غلام۔۔۔جو خود کھاؤ ان کو کھلاؤ جو خود پہنوں وہی ان کو پہناؤ”

"جاہلیت کے تمام خون باطل کردیے گئے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان ربیعہ بن حارث کے بیٹے کس خون باطل کرتا ہوں”

"جاہلیت کے تمام سود باطل کردیے گئے ہیں اور سب سے پہلے اپنے خاندان عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔”

"عورتوں کے معاملات میں اللہ سے ڈرو،تمہارا عورتوں پہ اور ان کا تم پہ حق ہے۔”

"تمہارا خون اور تمہارا مال تا قیامت اسی طرح حرام ہے جس طرح یہ دن اس مہینہ میں اور اس شہر میں حرام ہے”

"میں تم میں ایک چیز چھوڑتا ہوں،اگر تم نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے اور کتاب اللہ ہے”

"اللہ نے حقدار کو اس کا حق دیا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔
لڑکا اس شخص کا ہے جس کے بستر پہ پیدا ہو،زنا کار کے لیے پھتر ہے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔

"جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کے نسب ہونے کا دعوی کرے اور جو غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔”

یہ سب فرمانے والی عالمگیر شخصیت پھر ڈیڑھ لاکھ کے مجمعے سے پوچھ رہی ہے۔

” تم سے اللہ میری نسبت پوچھے گا تو کیا کہو گے؟”

آپ کے صحابہ بلند آواز سے بتا رہے ہیں کہ
"ہم کہیں گے آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا,اور اپنا فرض پورا کیا۔'”

فاتح عالم آسمان کی طرف انگلی اٹھاتے فرما رہے ہیں۔

"اے اللہ تو گواہ رہنا ۔۔۔اے اللہ تو گواہ رہنا۔۔۔۔اے اللہ تو گواہ رہنا”۔
اور پھر اسی وقت آیت نازل ہوتی ہے۔

"الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم السلام دینا”

"آج ہم نے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لیے مذہب اسلام کا انتخاب کیا۔”

اور بالآخر ہم نے جو عرب کے صحرا میں عالمگیر شخصیت کی تلاش شروع کی تھی وہ میدان عرفات میں ہمیں مل گئ۔

اس عالمگیر شخصیت پہ اللہ کی لاکھوں کروڑوں رحمتیں نازل ہوں۔

اور ہمیں ہمیشہ اس ہستی کا تذکرہ کرنا نصیب ہو۔

آمین۔

چلیں آئیں اب واپس چلتے ہیں صحرائے عرب کے ریگستان سے نکل کر اپنے مصنوعی چمکتی روشنیوں والے بظاہر روشن دور کی طرف۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

کتاب مقبول کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ وسیم احمد

کتاب سے مراد صرف نصابی کتابیں نہیں ہیں،یہاں غیر نصابی و ادبی کتابوں کا ذکر …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ از قلم: کرن سلطان ڈھلوں! This is the link: https://pakbloggersforum.org/muhammad-pbuh-a-global-personality-6/