صفحہ اول / تحریری مقابلہ: سیرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم / محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطور عالمگیر شخصیت ۔۔۔ تحریر : عثمان عبدالقیوم

محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطور عالمگیر شخصیت ۔۔۔ تحریر : عثمان عبدالقیوم

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کسی بھی قوم کا رہبر و رہنما اس کے لئے نمونہ عمل ہوتا ہے۔ قومیں اپنے رہبر کے نقشِ قدم پر چل کر ہی تعمیر و ترقی کی منازل طے کرنے میں اپنی ترقی سمجھتی ہیں۔اس بات سے اخذ کیا جا سکتا ہے کسی قوم کے قائد کی زندگی ہی اپنی قوم کے لئے چراغِ ہدایت ہوا کرتی ہے۔ وہ زندگی کے مختلف ادوار میں جس انداز سے بھی زندگی گزارتا ہے، اس کا ہر لمحہ ہر عمل اپنی قوم کے لئے نشانِ علم و عمل بن جاتا ہے۔ اللہ رب العزت نے مختلف قوموں پر نبیوں کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا بعض روایات میں آتا ہے کہ تقریبا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائے ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے وقت میں اپنی قوموں کے سامنے اس زمانہ کے مناسب حال اعلی اخلاق اور کامل صفات کا ایک نہ ایک بلند ترین نمونہ پیش کیا کسی نبی نے صبر کسی نبی نے ایثار کسی نبی نے قربانی تو کسی نے جوش توحید کسی نے ولولہ حق کسی نے تسلیم کسی نے صفت اور کسی نے تقوی غرض ہر ایک نے دنیا میں انسان کی ذندگی کے راستے میں ایک ایک منیار قائم کر دیا ہے جس سے صراط مستقیم کا پتہ چل سکے مگر صرورت تھی ایک ایسے رہبر اور رہنما کی جو ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک پورے راستے کو متعین کرے۔رب کریم نے سلسلہ نبوت کے آخری مگر سردار پیغمبر حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ کا نزول کیا اور نبی محمد ﷺ کی ذاتِ گرامی کو امّت مسلمہ بلکہ پوری دنیا کے لئے نمونہ عمل قرار دیا ہے۔

اللہ کی قسم یہ حقیقت ہے کہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت رسالت بحثت تا قیامت بہت عظیم معجزہ ہے نبوت سے قبل اس قدر واقعات نبوت کے بعد اس قدر واقعات ہیں کہ بیان کرنا شروع کروں تو ختم نا کر پاوں گا۔نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نبوت سے پہلے کی ہو یا نبوت کے بعد کی ہمارے لئے نمونہ حیات ہے
قارئین کرام آپ کی نذر نبوت سے قبل کے چند واقعات رکھتا ہوں۔
اسلام سے پہلے عربوں میں لڑائیوں کا ایک طویل سلسلہ جاری تھا انہی لڑائیوں میں سے ایک مشہور لڑائی “جنگ فجار” کے نام سے مشہور ہے۔ عرب کے لوگ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب، ان چار مہینوں کا بے حد احترام کرتے تھے اور ان مہینوں میں لڑائی کرنے کو گناہ جانتے تھے۔ یہاں تک کہ عام طور پر ان مہینوں میں لوگ تلواروں کو نیام میں رکھ دیتے۔ اور نیزوں کی برچھیاں اتار لیتے تھے۔ مگر اس کے باوجود کبھی کبھی کچھ ایسے ہنگامی حالات درپیش ہو گئے کہ مجبوراً ان مہینوں میں بھی لڑائیاں کرنی پڑیں۔ تو ان لڑائیوں کو اہل عرب “حروب فجار” (گناہ کی لڑائیاں) کہتے تھے۔ ان جنگوں کی آخری جنگ جو قریش اور قیس کے قبیلوں کے درمیان میں تھی اس بات میں شک نہیں کہ اس جنگوں سے عربوں کا بہت نقصان ہوا تاریخ بتاتی ہے ایک معاہدہ طے پایا گیا کہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھے

” علاقے سے بے امنی دور کرنے مسافروں کی حفاظت ایک دوسرے کی مدد مظلوم کی مدد و حمایت کسی ظالم و غاصب کو مکے کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیں گے بعض روایات میں آتا ہے کہ نبی کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معاہدہ اس قدر عزیز تھا کہ اعلانِ نبوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اس معاہدہ سے مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر اس معاہدہ کے بدلے میں کوئی مجھے سرخ رنگ کے اونٹ بھی دیتا تو مجھے اتنی خوشی نہیں ہوتی۔
دوسرا اہم واقعہ کہ نبوت سے قبل میرے نبی کو لوگ امانت دار اور دیانت دار کہتے تھے اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنا سامان تجارت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر کے ملک شام روانہ کر دیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راست بازی اور امانت و دیانت کی بدولت اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس قدر مقبولِ بنا دیا اور عقلِ سلیم اور بے مثال دانائی کا ایسا عظیم جوہر عطا فرما دیا کہ کم عمری میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کعبہ تعالی کی تعمیر کے وقت جنت کے پتھر حجر اسود کے نصب کا فیصلہ کر کہ عرب کے بڑے بڑے سرداروں کے جھگڑوں کا ایسا لاجواب فیصلہ فرما دیا کہ بڑے بڑے دانشوروں اور سرداروں نے اس فیصلہ کی عظمت کے آگے سر جھکا دیا،
کیونکہ نبی کریم نے فیصلہ کرتے ہوئے ہر قبیلے سے ایک سردار کو بلایا اپنی چادر مبارک پر حجر اسود کو رکھا سب نے چادر مبارک کو پکڑا اور بعد میں اپنے ہاتھوں سے پتھر کو نصب کیا اور یوں سب نے بالاتفاق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سردارِ اعظم تسلیم کر لیا۔
نبوت کے بعد کی زندگی کے واقعات بہت ہیں مضمون کے لحاظ سے ایک واقعہ بہت اہم ہے ایک جنگ کے موقع پر مال غنیمت آیا بہت آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کو تقسیم کیا میرے نبی کی لخت جگر حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا مجھے نے عرض کی معلوم ہوا ہے مال غنیمت میں کچھ غلام آئے ہیں لونڈیاں آئی ایک غلام یا لونڈی مجھے دے دیں میرے کام کا بوجھ کم ہو جائے گا نبی کریم نے جواب دیا بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سب مال تقسیم کر چکا ہوں اس بات میں کتنا سبق ہے بطور باپ کہ انصاف کے عمل کو لازم پکڑا۔
انصاف کی گواہی تو مسز اینی بیسنٹ ہندوستان میں تھیوسوفیکل سوسائٹی کی پیشوا اور بڑی مشہور انگریز عورت ہے، وہ لکھتی ہے:
پیغمبر اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جس بات نے میرے دل میں ان کی عظمت و بزرگی قائم کی ہے، وہ ان کی وہ صفت ہے جس نے ان کے ہم وطنوں سے ’’الامین‘‘ (بڑا دیانت دار) کا خطاب دلوایا، کوئی صف اس سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی اورکوئی بات اس سے زیادہ مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لیے قابل اتباع نہیں، ایک ذات جو مجسم صدق ہو، اس کے اشرف ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے، ایسا ہی شخص اس قابل ہے کہ پیغام حق کا حامل ہو

قارئین کرام۔۔۔!
ہمارے پاس سیرت سرور عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی انکی سیرت انکی شخصیت انکا انتہائی اعلی عرفہ کردار ہمارے پاس بہت بڑی دولت ہے کسی اور مذہب کے پاس اس طرح کی عظیم دولت میسر نہیں ہمیں اللہ رب العزت نے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سکھائی محبت میں اطاعت اس قدر سکھائی کہ ہمیں سرور کائنات کی حرمت پر پہرے داری اس قدر سکھائی ہے کہ جب دشمن نے للکارہ ہم سب اختلافات کو بالا تار رکھ کر متحد ہو جاتے ہیں۔سچی بات ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کو پڑھا جائے تو اصول دعوت ہو یا اصول سیاست ہو یا لوگوں سے رویہ ہو گھر کی زندگی ہو یا باہر کی، مسجد میں آنا جانا بازار میں آنا جانا ہو،
جنگ کی صورت میں بتایا کہ عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو نہیں مارنا درختوں کھیتوں کو نہیں ضائع کرنا اگر قیدی آ جائیں تو اس قدر انصاف کرو حسن سلوک کرو کہ مسلماں ہو جائے شاید ایسا کوئی کام یا ضرورت نہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سے ملے۔
قارئین محترم……!
بطور انسان معاشرے میں سیرت محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم، تربیت اور اخلاق حسنہ سے عروج و استحکام حاصل کریں۔ نبی کائنات کی زندگی سے معاشرے کو امن، خوشحالی سے استحکام کریں۔ حکمرانوں سے کے کر عام عوام تک علم، عمل اور اخلاق حسنہ سے عروج کے راستے کا متعین کریں۔
#UsmanAQ #عثمانیات #زادمسافر

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

کتاب مقبول کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ وسیم احمد

کتاب سے مراد صرف نصابی کتابیں نہیں ہیں،یہاں غیر نصابی و ادبی کتابوں کا ذکر …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطور عالمگیر شخصیت ۔۔۔ تحریر : عثمان عبدالقیوم! This is the link: https://pakbloggersforum.org/muhammad-pbuh-a-global-personality-7/