صفحہ اول / تحریری مقابلہ: سیرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم / محمد ﷺ ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ عرفان قیوم

محمد ﷺ ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ عرفان قیوم

کائنات کی تخلیق کے بعد عرش والے نے اپنا نائب بنا نا چاہا تو انسان کا انتخاب فرمادیااور پھر انسانیت کی رہنمائی کے لیے انھی میں سے انبیاکرام ؑ معبوث فرمائےجن کی تعداد کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ان تمام انبیا ؑ کا مقصد چودھراہٹ ، نمبرداری یا اپنا آپ منوانا نہیں تھا بلکہ یہ خالق کائنات کی پہچان کروانے،لوگوں کو معاملات زندگی میں درپیش مسائل کو سلجھانے اور حق و باطل میں تمیز کا سلیقہ سکھلانے آئے تھے۔ فرائض منصبی میں شامل ذمہ داریاں کسی ایک علاقے یا کسی بستی کے لوگوں کے لیے تھیں۔مختصر یہ کہ سرور گرامی ،احمد مجتبی،نبی مکرم ﷺ سے قبل دنیا کے سب حصوں میں بسنے والے لوگوں کےلیے کوئی ایک نبی یا رسول مختص نہیں تھا۔

سلسلہ نبوت عرب کے مشہور شہر مکہ میں بسنے والے عبداللہ کے بیٹےاور آمنہ کے لخت جگر محمدعربیﷺ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔جن کی نبوت کی تصدیق سب سے پہلے عیسائی عالم ورقہ بن نوفل نے کی جو دکھنے میںضعیف اورکمزورچشم تھا۔جس نےآپ ﷺ سے غارحرا میں پیش آنے والاسارا واقعہ سُنا اور کہا یہ اللہ کی طرف سے آنے والا فرشتہ ہے جو موسیؑ پر اتراتھااورمزید یہ بھی فرمادیا کہ آپ ﷺ کوقوم آپکے علاقے سے نکال دےگی اگر میں اس وقت تک جوان اور زندہ ہوتا تو آپﷺ کی مدد کرتا کیونکہ یہ فرشتہ جس کے پاس جاتاہے قوم اس کے ننگ و ناموس کے پیچھے پڑ جاتی ہے،مگر ورقہ بن نوفل چند ہی دنوں بعد رحلت فرماگئے۔

مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے اپنی کتاب الرحیق المختوم میں لکھاہے کہ ” ــپہلی وحی کے بعد نزول وحی کا سلسلہ چند دن کےلیے رُک گیا تاکہ آپﷺ پر جو خوف طاری ہو گیا تھا وہ رخصت ہوجائے اور دوبارہ وحی کا انتظا رپید ا ہوجائے۔ چنانچہ جب حیرت کے سائے سُکڑ گئے ، حقیقت کے نقوش پختہ ہوگئے اور نبی ﷺ کو یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ آپﷺ خدائے بزرگ و برتر کے نبی ہوچکے ہیں تو اللہ تعالی نے آپﷺ پر سورہ مدثر کی یاایھاالمدثر ۔۔۔۔۔۔۔والرجزفاھجر تک آیات نازل کیں "۔

ان آیات میںجہاں دیگر باتوں کا ذکرہے وہیں نبی ﷺ کےلیے لوگوں کو اللہ کی طر ف بلانے کا پیغام بھی تھا،تاکہ آپ ﷺ کی عالمگیریت اورجامعیت کو بھی ثابت کیا جاسکے۔ اس وقت مکہ میں بسنے والی چار بنیادی مشہور قومیں تھیں جن میں عیسائی ، یہودی ، مجوسی اور ہندؤ(بت پرست )شامل ہیں۔سب ایک رب کی واحدنیت کا درس بھول چکے اورہر سُو جہالت نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے،عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتا، سنگدل اور شقی القلب اتنےکہ بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا، انصاف کا دوہرا معیار تھا یعنی بڑوں کےلیے کوئی پوچھ نہیں اور کمزور کے لیے کوئی رعائیت ،دھوکہ دہی ،شراب نوشی ، زنا کاری کا بازار سر گرم اوراسیران جنگ سے غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا۔ ان لوگوں کو ر اہ راست پر لانے کےلیےا بتدا میںتوآپﷺ نے چھپ چھپ کر اسلام کی دعوت دی مگرعام تبلیغ کے لیے عرش والے نے فرما دیا ۔

"آپ ﷺ اپنے نزدیک ترین قرابت داروں کو (عذاب الہی سے) ڈرائیے”۔(سورہ شعرا)

اس آیت کے پیش نظر محمد عربی ﷺ کوہ صفا پر تشریف لے گئے اور لوگوں کو حق کی دعوت دی۔ اگرچہ یہ دعوت ہر خاص و عام کے لیے تھی ہاںہاں کالے ، گورے ، چھوٹے ، بڑے ، مر د اور عورت سب کےلیے تھی ۔کیونکہ نبی ﷺ کسی ایک علاقے ، شہر، بستی ،قبیلےیا قوم کی طرف ہدایت کا سرچشمہ بن کر نہیںآئے بلکہ روئے زمین پر بسنے والے ہر جن وا نس کے لیے رہبر ورہنما، پیغمبرہادی اور مرشد بن کر آئے ہیں۔جیسا کہ قرآن مجید میںآپ ﷺ کی عالمگیریت کے حوالے سے واضح طور پر ارشاد ربانی ہے۔

اور ہم نے آپ کو سب لوگوں کی طرف بھیجا(سورہ سبا، آیت: 28)

بہرحال قریش کو آواز لگا ئی اے بنی کعب، اے بنی عدی،اے بنی فہر اور محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ خود کو جہنم کی آگ سے بچاؤ(یہ نہ سمجھنا کہ میرا باپ نبی ہے اور چھٹکارا ہو جائے گا)۔کیونکہ نبی ﷺدنیا کے سب لوگوں کو بُرے اعمال کے نتیجے سے ڈرانے اور نیک اعمال کے سبب جنت کی بشار ت سنانے آئے تھے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ارشادہے۔

"اے پیغمبر ،ہم نے تمھیں گواہی دینے والا اور خوش خبری پہنچانے والا اور انذار کرنے والا اور اللہ کے اذن سے اُس کی طرف دعوت دینے والا اور انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے "۔(سورہ احزاب آیت 45-44)

مگر اس کے نتیجے میں ماریں کھانا پڑیں،اپنے بیگانے بن گئے، لوگوں کی باتیں سننا پڑیں ،قتل کے منصوبے تیار کیے گئے،طائف کی بستی میں لہولہان کر کے پھینک دیا گیا ،اور یہاں تک آپ ﷺ کو مکہ سے نکال دیا گیا۔ یہ سب کچھ ہونے کے بعد بھی رسول خدا ﷺ نے اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیا تھابلکہ کہا اللہ اس قوم کوہدایت دےاور اس کے ساتھ ساتھ نرم مزاجی اور اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ سبب یہ ہے؟

کہ نبی ﷺ دنیا کےشرق وغرب ، شمال وجنوب میں بسنے والوں کےلیے رحمت بن کرآئے ہیں۔جیسا کہ قرآن مجید میں میں ارشادہے۔
” اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کرـــــــ”۔(سورہ انبیا، آیت: 108)
اور شاعر نے اسی لیے کہا تھاکہ

مائیں جنتی ہیں ایسے بہادر خال خال

آپ ﷺ کی دعوت کی بدولت پوری دنیا سےلوگ جوق در جوق حلقہ بدوش اسلام ہوئے۔آپ ﷺ کے طور طریقوںاور کردار سے ظلم و ستم کے بادل چھٹ گئےاور انصاف کا بول بالاہوا، گورے کو کالے اور کالے کو گورے پر برتری کا فلسفہ دم توڑگیا، عرصہ دراز سے برسر پیکار لوگوں کو صراط مستقیم پر کھڑا کیا اور پورے معاشرے میں توحید کے نور کا ظہور ہوا ،آپﷺ نے رنگ و نسل ،علاقائیت ،قومیت،اورلسانیت کے تمام پہاڑ گرادئیے اورنفرت کے بت پاش پاش کر دئیے۔ہر طرف حق و صداقت کی آواز بلند ہوئی ۔آپس میںاتفاق و اتحاد ،یگانگت و بھائی چارے، وحدت و ہم آہنگی اور مرکزیت و اجتماعیت کا شعور بیدار ہوا ،لوگوں نے شراب کے مٹکے زمین پر پیشاب کی طرح بہادیے، زناکا خاتمہ ہو گیامختصر یہ کہ ا یک مثالی اور فلاحی ریاست کی بنیادرکھی اوراحسان کی ایسی مثال رقم کی کہ مال وزر سے مالامال لوگ اللہ کی خوشنودی کےلیے یتیموں ، مسکینوں ، بےکس اور نادار لوگوں میں اپنا مال تقسیم کرنے لگےگویا کہ امیر اور غریب کی تقسیم ختم ہونے لگی اور انسانیت پروان چڑھنےلگی ۔اس لیے ایک ہندوشاعر پنڈت ہری چند اختر نے کہا تھا

کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا
کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا
زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں اس کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
شوکت مغرور کا کس شخص نے توڑا طلسم
منہدم کس نے الٰہی قیصر و کسریٰ کر دیا
کس کی حکمت نے یتیموں کو کیا در یتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولا کر دیا
کہہ دیا لا تقنطو اختر کس نے کان میں
اور دل کو سر بسر محو تمنا کر دیا
سات پردوں میں چھپا بیٹھا تھا حسن کائنات
اب کس نے اس کو عالم آشکارا کر دیا
آدمیت کا غرض ساماں مہیا کر دیا
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا

اور کسی دوسرے شاعرنے آقا کے بارے میں خوب فرمایا ہے۔

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
مس خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

مشہور انگریز ادیب مائیکل ہارٹ بھی آپﷺ کے اخلاقیات و سیرت کو بیان کرنے سے نہ رہا۔ہاں ہاں
The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History
کے نام سے کتاب لکھی اور اس میں سو عظیم شخصیات کا ذکر کرتا ہے مگر ان سب میں سرفہرست پہلے نمبر پر محمد عربی ﷺکی ذات کو رکھااورکہنے پر مجبور ہو ا کہ یہ ہی وہ شخصیت ہے جو دنیا کے ہر محاز پر خواہ وہ سیاسی ہو یا سماجی ،معاشرتی ہو یا مذہبی، حالت جنگ میں ہویاعام حالات ہر صورت میں کامیاب دکھائی دی ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

کتاب مقبول کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ وسیم احمد

کتاب سے مراد صرف نصابی کتابیں نہیں ہیں،یہاں غیر نصابی و ادبی کتابوں کا ذکر …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: محمد ﷺ ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ عرفان قیوم! This is the link: https://pakbloggersforum.org/muhammad-pbuh-a-global-personality-8/