صفحہ اول / تحریری مقابلہ: سیرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم / محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے امت کی اصلاح و تربیت کے لیے آپﷺ کو اہلِ عرب کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپﷺ کی بعثت سے قبل اہلِ عرب جنگ و جدال، قتل وغارت، جبر و تشدد، نسل کشی، ظلم و استحصال اور قمار بازی جیسے قبیح گناہوں میں مبتلاتھے۔ ہر طرف دہشتگردی اور بدامنی کی نحوست پھیلی ہوئی تھی۔ چناچہ اہلِ عرب کے حالات کے پیش نظر ان کو ایک ایسے باکمال مربی اور ہمہ جہت شخصیت کی ضرورت دی جو ان کو جہالت کے اندھیرے سے نکال کر ایمان کے نور سے مالامال کرے اور ان کو بہترین انسان بنائے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر رحم فرمایا اور ان کی طرف حضرت محمدﷺ کو نبی بناکر بھیجا۔ آپﷺ کی بعثت کے بعد عربوں کے حالات یکسر بدل گئے۔ اہلِ عرب گمراہی کو چھوڑ کر حق و صداقت کے پرچم تلے آنے لگے اور جہالت کے اندھیرے سے نکل کر تعمیر وترقی، اصلاح و بھلائی، فلاح و بہبود، حق و صداقت، انصاف و مساوات اور خیرخواہی کے راستے پر گامزن ہوئے ۔

آپﷺ کی بعثت کے وقت اہلِ عرب انتہائی قبیح رسومات کا شکار تھے۔ وہ بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے، عورتوں کو منحوس سمجھتے تھے، ان کو وراثت سے محروم کرتے تھے، عورتوں کے مخصوص ایام میں ان کے قریب جانا بھی گورا نہیں کرتے تھے، محض ظن اور قیاس آرائیوں کی بنیاد پر عورتوں پر بہتان باندھتے تھے، آپﷺ نے ان قبیح رسومات کی نفی فرمائی اور خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ حقوقِ نسواں کے بارے میں آپﷺ نے جس تاکید کے ساتھ احکامات جاری فرمائے، دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ غیر مسلم ماہرِ قانون جسٹس کریبائٹس نے لکھا ہے کہ حضرت محمدﷺ غالبًا دنیا میں حقوقِ نسواں کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔
ابتدا ہی سے آپﷺ معاشرے میں امن، سکون، پیار اور محبت قائم کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔ حجرِ اسود لگانے کے لیے جب اہلِ عرب کے مختلف قبائل آمنے سامنے ہوئے تو آپﷺ نے نہایت سمجھداری اور بصیرت کے ساتھ اس مسئلے کو حل فرمایا۔ اسی طرح قبل از اسلام مکہ میں امن و امان قائم کرنے کے لیے حلف الفضول کا معاہدہ کیا گیا جس میں آپﷺ بھی شریک رہے۔
آپﷺ ایک عالمگیر شخصیت کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ایک مثالی نمونہ بناکر دنیا میں بھیجا۔ آپﷺ نے زندگی کے ہر ایک پہلو میں امت کی رہنمائی فرمائی ہے۔ انفرادی، اجتماعی، سماجی، سیاسی، اقتصادی ودیگر حقوق کے متعلق تفصیل کے ساتھ آپﷺ نے احکامات جاری فرمائے اور خود ان پر عمل پیرا ہوکر قیامت تک آنے والے امتیوں کے لیے ایک نمونہ پیش فرمایا۔ زمانہ جاہلیت کی تمام قبیح رسومات کی نفی کرتے ہوئے آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ جاہلیت کی تمام رسومات میرے قدموں کے نیچے پامال ہیں۔ داخلی اور خارجی زندگی میں بھی آپﷺ کی تعلیمات امت کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔آپﷺ گھر کے کام میں ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹاتے تھے اور ازواج مطہرات کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ فرماتے تھے۔ آپﷺ غریبوں اور یتیموں مدد کیا کرتے تھے، بیماروں کی عیادت کرتے تھے اور لوگوں کے مسائل حل فرماتے تھے۔
اہلِ عرب مال و دولت، شہرت ومنصب اور خاندان و نسب کی بنیاد پر ایک دوسرے کو فضیلت دیتے تھے۔ آپﷺ نے مساوات اور برابری کا درس دے کر برسوں سے رائج اس روایت کو بھی اپنے پیروں تلے روند ڈالا اور تقویٰ کو افضلیت اور فضیلت کا معیار قرار دیا۔ جنگِ خندق کے موقعہ پر آپﷺ بنفس نفیس خندق کی کھدائی میں صحابہ کرام کے ساتھ شریک رہے اور اپنے عمل سے مساوات اور برابری کا درس دیا۔ ہندو دانشور چھوٹو رام رقمطراز ہے کہ پیغمبرِ اسلام نے رنگ، نسل، نسب اور قومیت کے تمام امتیازات کو سختی سے مٹادیا اور اسلام کی بنیاد ہی اخوت اور مساوات پر قائم کی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ظاہری حسن و جمال کے ساتھ باطنی حسن و جمال بھی عطا فرمایا تھا۔ آپﷺ اخلاقِ عالیہ اور صفاتِ کاملہ کے اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے۔ آپﷺ نہایت خوش خلق، نیک خو اور نرم طبعیت کے مالک تھے۔ حضرت عائشہؓ سے آپﷺ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ آپﷺ کے اخلاق کا نمونہ قرآن کریم ہے۔آپﷺ ایک اعلیٰ کردار کے مالک تھے۔ آپﷺ ہمیشہ عفو و درگزر کا معاملہ فرماتے تھے۔ ہجرت سے قبل اہلِ مکہ نے آپﷺ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں۔ آپﷺ اور آپ کے خاندان کو شعبِ ابی طالب میں محصور کیا گیا۔ آپﷺ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ جگہ جگہ آپﷺ کی راہ میں کانٹے بچھائے گئے۔ غرض یہ کہ کفارِ مکہ نے آپﷺ کو تکلیف دینے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑا تھا۔ لیکن اس کے باوجود فتحِ مکہ کے دن آپﷺ نے قدرت ہونے کے باوجود عام معافی کا اعلان فرمایا اور عفو ودرگزر کی اعلیٰ مثال قائم فرمائی۔
سید سلیمان ندوی نے ایک عالمگیر اور آئیڈیل شخصیت کی چار خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔ تاریخیت، کاملیت، جامعیت اور عملیت۔ نبی کریمﷺ میں یہ تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود تھیں۔ ڈاکٹر شیلے لکھتے ہیں کہ محمدﷺ گذشتہ اور موجود لوگوں میں سے افضل اور اکمل تھے اور آئندہ ان جیسا پیدا ہونا محال اور قطعًا غیرممکن ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا آج تک کوئی ایسا انسان نہیں گزرا جس میں یہ تمام خصوصیات ایک ساتھ موجود ہوں۔ چونکہ آپﷺ آخری نبی تھے اور آپﷺ کی تعلیمات کو قیامت تک باقی رکھنا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک کامل اور ہمہ جہت شخصیت کا مالک بنایا اور آپﷺ کی تعلیمات کی حفاظت فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال گزرنے کے بعد آج بھی آپﷺ کی تعلیمات محفوظ اور موجود ہیں۔ بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپﷺ کی خصوصیات مزید واضح اور روشن ہوتی جارہی ہیں یہاں تک آپﷺ کے مخالفین بھی اس کو ماننے پر مجبور ہیں۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

کتاب مقبول کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ وسیم احمد

کتاب سے مراد صرف نصابی کتابیں نہیں ہیں،یہاں غیر نصابی و ادبی کتابوں کا ذکر …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ! This is the link: https://pakbloggersforum.org/muhammad-pbuh-a-global-personality-9/