صفحہ اول / تحریری مقابلہ: سیرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم / محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاتحِ عالم

محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاتحِ عالم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں "بے شک آپ بہترین اخلاق والے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سب سے بڑی صفت تھی کہ آپ فاتحِ زمانہ بنے۔ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے زریعے اللّٰہ تعالیٰ نے پوری دنیا کے کونے کونے میں دین اسلام پہنچایا۔اور آپ شجاعت اور صبر کی ایسی مثالیں قائم کر گئے کہ تا قیامت انہیں یاد رکھا جائے گا۔آئیے نبی کریم فاتحِ عالم کی روشن حیات پر مختصر نظر ڈالیں۔

یہ وہ دور تھا کہ جب انسانیت تباہی کے دہانے پر تھی۔قانون صرف کمزور اور غریب لوگوں کے لیے تھا۔امیر کے لیے کوئی قانون نہ تھا۔ نہ بیٹی کی عزت محفوظ تھی نہ بہن کی۔ 360 بتوں کی پوجا ہوتی تھی۔ایسے دور میں اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کی بھلائی کا ارادہ کیا۔اور ایک ایسے شخص کو نبی بنا کر ان لوگوں کے درمیان بھیجا جو صبرو استقامت کی اعلیٰ مثال بنا۔ یقین ً جہالت کے اندھیرے میں گری ہوئی انسانیت کو ایمان کی روشنی میں داخل کرنا بہت اکٹن فریضہ تھا ۔جب آپ نے دعوت کا کام شروع کیا تو بہت سے لوگ صرف آپ کے اخلاق کی بدولت ہی آپ پر ایمان لے آئے ۔جبکہ دوسری جانب قریش کے بڑے سردار آپ کی مخالفت میں کھڑے ہو گئے۔ یہاں تک کہ ایک دن جب آپ نے دعوت دین کے لیے بلد چوٹی پر جا کر "یا صباحا” کی آواز لگائی اور قریش کے سامنے دعوت رکھی تو ابو لہب نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذباللہ) یہاں تک کہا کہ تو برباد ہو ، تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں ، لیکن آپ نے برداشت اور صبر کا دامن نہ چھوڑا اور دعوت جاری رکھی۔ا آپ کے حسن اخلاق کی مثال تو یہاں تک ہے کہ جب آپ دعوت دین کے لیے طائف گئے تو وہاں کے ظالم لوگوں نے آپ پر پتھر برسائے۔آپ پر اتنے پتھر برسائے گئے کہ آپ کے سر مبارک سے خون نکل کر آپ کے جوتوں میں گرتا رہا۔ اور آپ کے پاؤں مبارک سر کے خون سے بھر گئے۔ طائف کے شریر لڑکوں کو آپ پر مسلط کر دیا جاتا ہے جو آپ کو طائف کی گلیوں میں گھسیٹتے چلے جا رہے ہیں یہاں تک کہ اپ خون میں لت پت شدید زخمی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ فرشتہ آکر کہتا ہے اے اللّٰہ کے رسول آپ حکم کریں تو اس پوری بستی کو دو پہاڑوں کے درمیان کچل کر رکھ دوں تو آپ نے کہا نہیں ۔ شاید ان کی آنے والی نسلوں میں سے کوئی دین اسلام پر آجائے۔ پھر وہ بھی دن تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اسی طائف پر مسلمانوں کو حکومت عطا کی۔۔ آپ نے صرف جنگوں سے ہی اسلام غالب نہیں کیا بلکہ کمزوروں اور لاچاروں کا سہارا بنے ۔ان کے دل جیت لیے تب لوگ آپ کے اخلاق کو دیکھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوتے۔ آپ نماز میں ہوتے کہ ایک مشرک عورت سجدے کی حالت میں آپ پر کوڑا پھینک دیتی ایک دن عورت نہ آئی تو پتہ چلا کہ وہ بیمار ہے، آپ فوراً اس کی عیادت کے لیے اس کے گھر تشریف لے جاتے ہیں جب لوگ آپ کا ایسا کردار دیکھتے تو فوراً اپ پر ایمان لے آتے۔ایک پاگل عورت ایک دن نبی کریم کا گریبان پکڑ لیتی ہے لیکن آپ خاموشی سے اس کی باتیں سنتے رہے سخت دھوپ اور گرمی میں کھڑے رہے اور صحابہ کے اعتراض کرنے پر فرماتے ہیں کہ جس کی کوئی نہیں سنتا کیا میں محمد بھی اس کی بات نہ سنوں۔ میرے نبی تو وہ تھے کہ اپنے تمام بڑے بڑے دشمنوں کو فتح مکہ کے موقع پر معاف کر دیا۔ میرے نبی تو وہ تھے کہ جب یہودیوں کے ایک قبیلہ بنو قریظہ نے مسلمانوں کے ساتھ غداری کی تو ان کی عورتوں اور بچوں کو معاف کر دینے کا حکم دیا۔ جی ہاں اللّٰہ تعالیٰ نے انہی اقدامات کی بدولت آپ کو پورے عرب کی بادشاہت عطا کی۔ جی ہاں یہی میرے نبی ہیں کہ ایک بوڑھی عورت کا سامان اٹھا کر اس کی مدد کے لیے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ عورت کہتی ہے کہ سنا ہے مکہ میں ایک جادوگر آگیا ہے جو لوگوں کو اپنے دین میں شامل کر رہا ہے میں اسی کے ڈر سے مکہ چھوڑ کر جا رہی ہوں ۔اور مسلسل نبی کریم کی توہین کرتی جا رہی ہے اور آپ مسلسل سنتے چلے جارہے ہیں۔ وہ عورت حیران رہ جاتی ہے جب اسے پتہ چلتا ہے کہ آپ ہی اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور آپ کے اخلاق سے بے حد متاثر ہوتی ہے۔
جب لوگوں نے یہ رویہ دیکھا تو بہت تیزی سے اسلام میں داخل ہونے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کل ستائیس معرکے لڑے۔ جن میں سے نو غزوات میں آپ نے خود باقاعدہ قتال کیا۔اور آپ ہمیشہ جیت کے بعد اپنے دشمنوں کو قیدی بنا کر اپنے اعلیٰ ترین اخلاق سے متاثر کرتے اور اسے اسلام میں داخل کر لیتے۔
جی ہاں ہمارے پیارے نبی کریم کا وجود اس دنیا میں ایک کھلکھلاتے پھول کی مانند تھا جو پورے ماحول کو تروتازہ کر دیتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں دکھی انسانیت کا سب سے بڑا سہارا بن کر آئے تھے اور اسلام کی خوشبو پوری دنیا میں پھیلا کر چلے گئے۔ اپ دنیا میں سب سے بڑے امن کے سفیر کہلائے۔اپ جیسے پاکیزہ کردار کی مثال پوری دنیا میں کہیں اور نہ ملے گی۔
وہ اک رحمت ِدو جہاں اور پھر بھی
دعاؤں میں رو رو سحر کرنے والا

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

کتاب مقبول کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ وسیم احمد

کتاب سے مراد صرف نصابی کتابیں نہیں ہیں،یہاں غیر نصابی و ادبی کتابوں کا ذکر …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاتحِ عالم! This is the link: https://pakbloggersforum.org/muhammad-pbuh-conquerer-of-the-world-2/