صفحہ اول / تحریری مقابلہ: سیرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم / محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فاتح عالم ۔۔۔ عاشق علی بخاری

محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فاتح عالم ۔۔۔ عاشق علی بخاری

صلح حدیبیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بصیرت کی بہترین مثال ہے۔ جس سے ہمیں یقینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آفاقی سوچ کو سمجھنے میں مدد سکتی ہیں۔اگرچہ دیکھنے میں شرائط خود اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مخالفت میں پائیں لیکن درحقیقت وہ آپ کی دور اندیشی اور معاملات پر گہری گرفت کی دلیل ہیں ۔ تلوار سے ساری دنیا کو فتح کرنا اتنا آسان نہیں جتنا لفظوں میں بیان کیا جاتا ہے اور نہ ہی اتنی عمر میسر آسکے گی کہ پوری دنیا پر اپنی فتوحات کا جھنڈا لہرایا جائے۔ وفادار ساتھیوں، سامان حرب و ضرب کے علاوہ نہ تھکادینے والے جذبات کی بھی ضرورت ہوگی، جو حالات کی سنگینی کے باوجود پایہ استقلال میں جنبس نہ آنے دیں ۔

ہزاروں ہستیاں عالم عدم سے عالم حیات میں آئیں اور پھر دوبارہ ہمیشہ کی زندگی کی طرف واپس پلٹ گئیں لیکن ان می سے ہر ایک ایسی غلطی کا ضرور مرتکب ہوا جو اس کے دامن پر ایسے نشانات چھوڑگئی جو زمانے کے چہرے پر ہمیشہ کے لیے نقش ہوکر رہ گئے۔ صرف ایک ہستی ایسی ہے جسے دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے جانتی ہے ۔
دنیا میں مختلف الاذہان لوگوں کی رہائش گاہ ہے، ان میں سے ہر ایک نہ تلوار کی زبان سمجھے گا اور نہ ہی کوئی ایسا ہوگا کہ وہ حسن سلوک کی زبان بھی نہ سمجھے لیکن ہر ایک کے لئے الگ زاویه اختیار ضروریات زندگی میں سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو تین مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، جس نے دنیا کو مسخر کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔
*حسن سلوک*
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اخلاق کو مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے”صحیح بخاری”
رشتے دار، دوست یا شراکت دار تو بہت زیادہ حسن سلوک کے مستحق ہیں لیکن آپ نے تو اپنے جانی دشمنوں تک کے ساتھ ایسا اخلاق پیش کیا جو دنیا کے لیڈران میں دوربین لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔
ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ قبل از اسلام گرفتار کرکے مسجد کے ستون سے بندھے ہوئے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لگا تار تین دن ثمامہ سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں اور ثمامہ جوب میں ایک ہی بات کہتا ہے
"اگر آپ قتل کروگے تو بدلہ لیا جائے گا اور اگر احسان کروگے تو قدر کی جائے گی ” ان الفاظوں کو اپنے دشمن کے الفاظ سمجھیں اور پھر بتائیں آپ کا رویہ کیا ہوگا؟ لیکن جو میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رویہ اختیار کیا اسے حسن سلوک کی اعلی ترین مثال کہتے ہیں۔
یہودی اس حال میں داخل ہوئے کہ دل بغض سے بھرے ہوئے اور زبان زہر میں بجھی ہوئیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کلمات پر ناراض ہوتے ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے”صحیح بخاری کتاب الجنائز” حتی کے آپ پڑوس میں بسنے والے یہودی بچے کی عیادت کے لیے چلے جاتے ہیں اور یہاں تو حسن سرکی انتہاء ہوجاتی ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ جاتے ہوئے اپنے امیروں کو نصیحت کرتے ہیں "بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو قتل مت کرنا نیز پھل دار درختوں اور کھیتوں کو جلانے سے منع کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دعوتی زندگی میں پیش آنے والے واقعات "طائف میں پتھر کھانا، لوگوں کا جادوگر، شاعر، مجنوں کہنا، راستے میں کانٹے بچھانا حتی کہ قتل کے منصوبے بنانا وغیرہ” ان سب حالات و واقعات کے بیان کے لیے پورا ایک دفتر چاہیے۔
*غزوات*
سرائے اور غزوات کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب آپ هجرت کرکے مدینہ چلے گئے دشمنان اسلام کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے آپ پر جنگ مسلط کرنے کا ارادہ کرلیا۔آپ نے بھی احتیاط کا راستہ اختیار کیا اور تمام آس پاس کے قبائل کو معاہدات میں باندھ دیا تاکہ بیرونی یلغار کی صورت میں اندرونی حالات کنٹرول میں رہیں۔
دیکھنا چاہیے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں تھے اس وقت بھی لشکر اسامہ روانگی کے لیے تیار تھا، اور پھر آپ کے مال و اسباب میں سے نو تلواروں کا نکلنا اس بات کا بہترین ثبوت ہے کہ آپ جنگوں والے نبی تھے "حدیث: انا نبی الملحمۃ”
بدرواحد، حنین و خندق و تبوک اس کے علاوہ دیگر سرائے اور غزوات روانہ کرنا، بہت سوں میں خود شریک ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جب کنگ مرحلہ پیش آئے تو مردوں کے لیے پیٹھ دکھانا باعث ذلت ہے۔
"اسلام بزور شمشیر پھیلا ہے” یہ دشمنانِ اسلام کی پھیلائی ہوئی ایک سازش یے جس کا مقصد اسلام کو بدنام کرنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کل بیاسی سرائے اور غزوات پیش آئے، جس میں 1018 دونوں اطرف کے مقتولین ہوئے، اور 6564 قیدی بنے۔ جن میں سے تقریباً 6345 قیدیوں کو رہا کردیا گیا، صرف دو ایاے قیدی تھے جو سخت جرائم کی وجہ سے قتل کیے گئے۔ باقی قیدیوں کا اگرچہ تاریخ میں ذکر نہیں ملتا لیکن جو نبی قیدیوں کی اتنی بڑی تعداد کو بطور احسان رہا کردے اس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ اس نے باقی 215 قیدیوں کو رہا کو بھی رہا کردیا ہوگا؟
جنگ عظیم و
اول و دوم کو تو ایک طرف رکھیں عراق و افغانستان میں امریکہ نے کس قدر خون بہایا ہے، جن کے ذکر سے ہی کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ اگر مذہب کے نام پر کی جانے والی قتل و غارت گری کا جائزہ لیں تو مقتولین کی تعداد شاید کروڑوں اے تجاوز کرجائے، صرف مہابھارت کے مقتولین کی تعداد ہی کروڑوں میں ہے، یورپ کی مذہبی انجمنوں نے جس قدر قتل کیا اس کی تعداد لاکھوں میں پہنچتی ہے، اکیلی سلطنتِ اسپین نے 340000 عیسائیوں کو قتل کی جن میں سے 32000 کو زندہ آگ میں جلادیا گیا۔ اس کے مقابلے میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں اطراف کے 1018 افراد کی قربانی سے جو مالی، ملی اور روحانی فوائد حاصل کیے وہ کوئی بھی قوم، مذہب اور ملک حاصل نہ کرسکا۔
*سیاسی زندگی*
اس سے مراد ہرگز جمہوریت نہیں ہوسکتی، بلکہ اس سے مراد قوموں، قبیلوں اور مماملک کے سربراہان کے ساتھ معاملات ہیں۔ اس کی مثال نبوت سے پہلے مظلوموں، بے کسوں کے لیے بنائی جانے والی انجمن کی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد بھی یاد کیا کرتے تھے ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے ہیں: دل کرتا ہے بیت اللہ کو اسی بنیادوں پر بناؤں جس پر حضرتِ ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا لیکن یہ لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔
یعنی ایک نیک کام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ لوگ دین سے دور نہ بھاگ جائیں۔اسی طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار معاہدے میسربراہان "لفظ رسول اللہ” پر بضد ہوتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اسے مٹادیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مدینہ کے قبائل کو معاہدات کے ذریعے اپنے ساتھ ملانا اور حملے کی صورت میں ایک دوسرے کا دفاع کرنا آپ کی سیاسی بصیرت کی واضح دلیل ہے۔ اس سے بڑھ کر نبوت کے پیغام کو پہنچانے کی خاطر سربراہان مملکت کی طرف خطوط لکھنا، جس کی مثال دیگر مذاہب میں کہیں نہیں ملتی یہ بھی آپ کی فتوحات اور انہیں اس بات کا پیغام دینا ہے کہ اسلام کے پرچم کے نیچے آؤگے تو تمہارے لیے راحت و سکون ہوگا، ورنہ تمہاری عوام کی گمراہی کا گناہ بھی تمہارے سر پر ہوگا۔
اگر ہم بھی کامیابی اور زندگی میں بلندی چاہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھیں عمل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

کتاب مقبول کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ وسیم احمد

کتاب سے مراد صرف نصابی کتابیں نہیں ہیں،یہاں غیر نصابی و ادبی کتابوں کا ذکر …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فاتح عالم ۔۔۔ عاشق علی بخاری! This is the link: https://pakbloggersforum.org/muhammad-pbuh-conquerer-of-the-world-3/