صفحہ اول / تحریری مقابلہ: سیرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم / "محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فاتح عالم”

"محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فاتح عالم”

حضور آئے تو چمکی فکرِ انسانی کی تنویریں

حضور آئے تو ٹوٹی جبرومحکومی کی زنجریں
قارئین کرام! جب تک میرے لفظوں میں ڈھلے ہوئے جذبات آپ احباب کی بصارت کی نظر ہوں گے تب تک تاریخِ اسلامی کے روشن نقوش سے مزین مبارک مہینہ ربیع الاول یا تو اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہوگا یا اپنی آخری ساعتوں کو سمیٹ رہا ہوگا،اور یہ وہ مہینہ ہے جب گلیوں بازاروں، چوک چوراہوں،نگر نگر و بستی بستی اور مختلف پلیٹ فارم پر سیرت النبی کے مبارک عنوان اور سرورِ کونین کی حیات مبارکہ کے ہزار ہا روشن پہلوؤں پر جلسے، کانفرنسز،دروس قرآن و حدیث، حمد و نعت کی محافل، مقالہ جات، تحریری و تقریری مقابلہ جات کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں علما کرام اپنے بیانات، نعت خواں اور شعراء حضرات اپنی شاعری اور خوبصورت آواز اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے اپنے انداز میں آنحضور کی خدمت اقدس میں ہدیہ عقیدت پیش کرتے نظر آتے ہیں، غرض کہ امت مسلمہ کا ہر فرد شافیِ محشر کی مداح سرائی میں اپنے ایمان و یقین اور محبت کی کیفت کے مطابق مگن نظر آتا ہے، اسی تناظر میں راقم الحروف نے بھی اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ بطور ہدیہ تبریک بعنوان “محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاتح عالم”پیش کرنے کی سعی کی ہے، فاتح عالم ایسا لفظ جس کو سنتے ہی ذہن تلواروں کی گھن گرج، ایڑ لگے گھوڑوں کی ٹاپوں، فتح و شکست اور جنگی نفع و نقصان کی روئیدادوں اور تاریخ انسانیت کے عظیم جنگجو افراد ، قبیلوں اور قوموں کی جانب مائل ہوجاتا ہے،لیکن اگر اس تعریف کا اطلاق “محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاتح عالم” پر کیا جائے تو یہ انتہائی غیر مناسب ہوگا کیونکہ مالک ارض و سماء نے انحضور کو امن عالم کا پیامبر بناکر بھیجا ناکہ تباہی و بربادی کا نوحہ لکھنے کے لیے اور اس کی گواہی خود اپنے کلام پاک میں دی کہ “ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا” یعنی آپ کا وجود، آپ کا منھج اور آپ کا پیغام سراسر سراپا رحمت، برکت اور امن کا پھیلاؤ ہے اور آپ نے تو اپنے دینِ مبین کی دعوت کے لیے سب سے کار آمد ہتھیار اپنے اخلاق و کردار کو رکھا اور اسی کی بدولت عرب کے لڑاکا اور معمولی سی وجوہات پر سالہا سال ،نسل در نسل لڑنے مرنے والے قبائل اور دنیا میں اپنی ہیبت بیٹھانے کا عزم رکھنے والی اقوام کو زیر کیا اور اس کی گواہی ثمامہ بن اثال (جن کا شمار قبل از قبولِ اسلام آپ کے بڑے مخالفین میں ہوتا تھا)نے بھی دی جب انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانبازوں نے گرفتار کرکے قید کردیا تو دوران قید حسن سلوک نے انہیں اتنا متاثر کیا کہ بعدازاں رہائی پر فرطِ جذبات سے پکار اٹھے کہ
“جسم تو آپ نے رہا کردیا ہے مگر روح آپ کی محبت و عقیدت میں مقید ہوچکی ہے” اور پھر کلمہ پڑھ کر باقی ماندہ حیات اسلام کی سربلندی کے مشن کے لیے وقف کردی،
جی قارئین کرام! ایسے مثالی اخلاق کی نظیر نا آج تک کوئی پیش کرسکا نا قیامت تک کوئی پیش کرسکے گااور نا اخلاقی میدان میں ایسا کوئی فاتح پیدا ہوا ہے نا ہوگا جو “محمدصلی اللہ علیہ وسلم فاتح عالم” کے بے نظیر یا متبادل ہونے کا دعویٰ کرسکے کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اخلاق و کردار پیش کیا کہ اگر آج بھی کوئی دلوں کی فتح یابی کا کام کرنا چاہتا ہے تو اس کےلیے “محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاتحِ عالم” کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے،لیکن اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ “محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاتح عالم”نے تلوار اٹھائی ہی نہیں بلکہ فرق یہ ہے کہ نورِ مبین کی تلوار دنیا پر اپنی ہیبت بیٹھانے کے لیے نہیں بلکہ اس کے ذریعے خدائے بزرگ و برتر کی تخلیق کردہ زمین پر اس کے نظام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانے اور اس نظام کے لیے کاوش کرتے عظیم شہسواروں اور اس دینِ حق کی ترویج کرتے پیروکاروں کی حفاظت کا اہتمام تھا، جیسے دنیا میں چند مرلے کے گھر کے لیے،اورمعمولی سی حثیت کا آدمی بھی اپنی حفاظت یقینی بنانا ضروری سمجھتا ہے تو اتنے عظیم مشن اور اس کے ماننے والوں کے دشمنوں کو آگاہ رکھنے کا کوئی انتظام نا ہوتا،یہ بات تو انسانی عقل سے ماورا معلوم ہوتی ہے غرض کہ تاجدارِ ختم نبوت نے تلوار بھی اٹھائی تو فاتح عالم کہلائے کیونکہ اس میں اپنی ذات کا شائبہ تک نا تھا بلکہ دین الہی کی سربلندی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا تھا اگر اس میں ذاتی انتقام یا جاہ و جلال کا دخل ہوتا تو درخت کے نیچے سوئے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار سے انہی کو للکارنے اور مدد خداوندی سے تلوار دوبارہ شافعِ محشر کے ہاتھ میں آجانے پر اس کا سر دھڑ سے الگ ہوتا مگر نہیں عزیزم نہیں “محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاتح عالم” نے اسے معاف کرکے یہ پیغام دیا کہ “میری تلوار نا تو ذاتی انتقام کے لیے اٹھتی ہے اور نا ہی اس کا شکار ہر کافر ہے بلکہ میرا نشانہ تو وہ ہے جو میرے لائے ہوئے دین اور اس کا دم بھرنے والوں کو مٹانے کے درپے ہے اور وہ بھی تب تک جب تک یہ لوگ اپنی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے باز نا آجائیں” یعنی آپ نے جہاد جیسے پرامن اور سلامتی سے مزین عمل کے ذریعے جنگ کے لفظ اور اس کے قدیم تصور کا قلع قمع کرکے کے رکھ دیا جس میں ذاتی انتقام پر ہی سالہا سال جنگ و جدل کے میدان گرم رہتے تھے اور کتنی ہی نسلیں اور قومیں اس کی بھینٹ چڑھ جاتی تھیں اور رحمت عالم نے تو اپنی سیرت قتال میں عملِ جہاد کے وہ اصول و ضوابط مقرر کئے اور دشمن کےلیے اتنی رعائیتں متعارف کروائیں کہ دنیا بھر کے جنگی ضابطے اور قوانین اس کی مثال دینے سے قاصر ہیں۔
قارئین کرام! یہ تو دو بڑی مثالیں ہیں وگرنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری کی ساری زندگی ہی بے مثال اور فاتح عالم ہے جس کی گواہی خود قرآن نے بھی پیش کی ہے
“بےشک ہر انسان کے لیے آپ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے”
یعنی کہ آپ کا ثانی اور متبادل کوئی نہیں اور گویا کہ اس بات پر مہر ثبت ہوچکی کہ آپ زندگی کے ہر گوشے میں فاتح ہیں ، بلکہ وہ فاتح جس نے بیک وقت دل و دماغ، روح و جسم پر نا صرف زبان سے فتح حاصل کی بلکہ آپ کی تلوار نے بھی انصاف اور حرمت انسانیت کی وہ مثالیں قائم کیں جس کا اعتراف نا صرف ہر دور کے اپنوں بلکہ اغیار نے بھی کیا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو ہر میدان کا مثالی شہسوار اور فاتح گردانا اور آج بھی اور قیامت تک کسی بھی میدان میں کوئی اس کے مثل پیدا نا ہوا ہے نا ہوگا!

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

کتاب مقبول کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ وسیم احمد

کتاب سے مراد صرف نصابی کتابیں نہیں ہیں،یہاں غیر نصابی و ادبی کتابوں کا ذکر …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: "محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فاتح عالم"! This is the link: https://pakbloggersforum.org/muhammad-pbuh-conquerer-of-the-world/