صفحہ اول / عرفان صادق / نوائے اقبال (18) شرح بانگ درا

نوائے اقبال (18) شرح بانگ درا

دیکھیے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک؟
شیشہ دیں کے عوض جام و سبو لیتا ہے

ہے مداوائے جنوں نشترِ تعلیمِ جدید
میرا سرجن رگِ ملّت سے لہو لیتا ہے

📚کتاب۔ بانگِ درا
حصّہ۔ ظریفانہ
قطعہ نمبر18

🖋 فرہنگ
عوض۔ بدلے میں۔ صلے میں
جام و سبو۔ شراب کے پیالے اور صراحیاں
مداوا ۔علاج
سرجن۔ معالج
نشتر۔فصد کھولنے یا چِیرا دینے کا اوزار، خنجر
🖋 مفہوم
شاعر مشرق فرماتے ہیں کہ دیکھیے مشرق میں رہنے والی امّتِ مسلمہ کی یہ تجارت کب تک چلتی ہے؟ جو دین کے بدلے ہم شراب کے پیالے اور صراحیاں خرید رہے ہیں ۔ہمارے دل میں دین کی فداکاری کا جو جنون تھا اسے ختم کرنے کے لیے نئی تعلیم کا نشتر ایجاد ہوا ہے اور ہمارا معالج ملّت کی رگ سے خون لے کر اسے بےحس کر رہا ہے۔ دیکھیے ہم کب تک مغرب اور ہندوستان کی اس تجارت کے شکار رہتے ہیں۔ اور کب ہماری امت ہوش میں آتی ہے؟

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سفرِ زندگی کے بدلتے موسم۔۔۔ !!!

سردی کی وجہ سے کرسی ذرا دھوپ میں بچھائی اور گرم گرم سورج کی کرنوں …

علامہ محمد اقبال__اسلام کے ترجمان۔۔۔ !!!

علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک عظیم مفکر، شاعر،مصنف،سیاستدان،استاد،قانون دان،اور مسلمانانِ برصغیر کے لیئے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: نوائے اقبال (18) شرح بانگ درا! This is the link: https://pakbloggersforum.org/nawai-iqbal-18/