صفحہ اول / عرفان صادق / نوائے اقبال (19) شرح بانگ درا

نوائے اقبال (19) شرح بانگ درا

گاے اک روز ہوئی اونٹ سے یوں گرمِ سُخن
نہیں اک حال پہ دنیا میں کسی شے کو قرار

میں تو بد نام ہوئی توڑ کے رسی اپنی
سنتی ہوں آپ نے بھی توڑ کے رکھ دی ہے مُہار

ہند میں آپ تو ازروئے سیاست ہیں اہم
ریل چلنے سے مگر دشت عرب میں بیکار

کل تلک آپ کو تھا گائے کی محفل سے حذر
تھی لٹکتے ہوئے ہونٹوں پہ صدائے زنہار

آج یہ کیا ہے کہ ہم پر ہے عنایت اتنی
نہ رہا آئینہ دل میں وہ دیرینہ غبار

جب یہ تقریر سنی اونٹ نے شرما کے کہا
ہے تیرے چاہنے والوں میں ہمارا بھی شمار

اشک صد غمزۂ اشتر ہے تری ایک کلیل
ہم تو ہیں ایسی کلیلوں کے پرانے بیمار

ترے ہنگاموں کی تاثیر یہ پھیلی بَن میں
بے زبانوں میں بھی پیدا ہے مذاقِ گفتار

ایک ہی بن میں ہے مدت سے بسیرا اپنا
گرچہ کچھ پاس نہیں ، چارا بھی کھاتے ہیں ادھار

گوسفند و شتر و گاؤ پلنگ و خرلنگ
ایک ہی رنگ میں رنگیں ہوں تو ہے اپنا وقار

باغباں ہو سبق آموز جو یک رنگی کا
ہم زباں ہو کے رہیں کیوں نہ طیور گل زار

”دلق حافظ بچہ ارزد بہ میش رنگیں کن
وانگہش مست و خراب از رہ بازار بیار

📚 کتاب:بانگِ درا
🖋 نظم: ظریفانہ
نمبر: 19

مشکل الفاظ کے معانی
حذر: دور بھاگنا
صدائے زنہار: خدا کی پناہ۔ ہر گز نہیں۔ کبھی نہیں
غمزہ: ناز۔نخرہ۔ادا
گوسفند: بکری
پلنگ: چیتا
خر: گدھا
لنگ: لنگڑا
طیورِ گل زار: باغ کے پرندے

🖋مفہوم:
یہ نظم ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے باہمی روابط کی آئنہ دار ہے۔ اس نظم کو تمثیل قرار دیا جا سکتا ہے، اس کے کردار اونٹ (مسلمان )اورگاے( ہندو) ہیں۔
گاے اونٹ سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ میں تو رسی تڑوا کر بد نام ہوئی ہی تھی سنا ہے اب تم بھی مہار تڑوا بیٹھے ہو، یعنی ہم ہندو انگریزوں سے مراسم بڑھانے کی وجہ سے بد نام تھے لیکن انگریزوں سے مسلمانوں کے راہ و روابط شدید اختلافات کے باوجود بڑھانا سمجھ سے باہر ہے۔ ہندوستان میں تو آج بھی اہمیت حاصل ہے لیکن صحراے عرب میں ریل کا وجود ناکارہ ہے، کل تک آپ ہمارے ساتھ رہنے کے سخت خلاف تھے اب ایسا کیاہو گیا کہ آپ ہمارے ساتھ پرراضی ہوگئے ہیں؟ لگتا ہے آپ کے دل میں ہمارے یعنی ہندوؤں کے خلاف جو کینہ تھا وہ ختم ہو گیا۔
اونٹ نے یہ صدا سنی تو شرما کر بولا ،حقیقت یہ ہے کہ ہم شروع ہی سے تیری اداؤں کے دیوانے تھے ، یعنی ہم ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے،تم نے ہنگامہ کیا ہے اس سے جنگل کے دوسرے جانوروں میں بھی شعور آ گیا ہے اپنی حق بات کہنے کا، ہم تو شروع سے اکھٹے رہتے ہیں، گو کہ چارا بھی ادھار کھاتے ہیں، اگر جنگل کے تمام جانور اکھٹے ہو جائیں تو ان کا وقار بحال ہو سکتا ہے، اگر جنگل کا مالک سب کو برابری کے حقوق دے تو سب پیار کی بولیاں بولنے لگ جائیں گے، اگر ہمیں ہمارا حق مل جائے تو ہم اور ہمارے رفقا دونوں خوش رہیں گے۔
آخر میں کہتے ہیں حافظ کی گدڑی کو جس قیمت پر بھی ہو رنگین کرو،اس انداز میں اسے شراب میں بد مست کرکے بازار جاتے ہوئے پکڑ لاؤ۔ یعنی مسلمانوں کو ان کے حقوق دے کر اس بغاوت کو روک دو۔

پس منظر:
(مغلوں کے زوال اور انگریزوں کے تسلط کی بنا پر ہندوؤں نے انگریزوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر لیے، انگریزوں کو بھی اپنی حمایت درکار تھی لہذاانھوں نے مسلمانوں کے بجائے ہندوؤں سے روابط بڑھا لیے۔ لیکن جب ہندوؤں نے اقتدار کے خلاف تحریک چلائی، تو مسلمان اپنے مطلب کے لیے انگریز کے ساتھ مل گئے اگرچہ تحریک خلافت کے سبب انکا بھی انگریز سے شدید اختلاف ہو گیا،
پیشتراس کے ہندو اور مسلمانوں کے راہنماؤں کا یہی خیال تھا کہ ہندو مسلم اتحاد سے ہی انگریز سے چھٹکارا ممکن ہے۔ جب کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں بعض مسلمان راہنماؤں کا مطالبہ تھا کہ ہندو اکثریت میں ہیں اور مسلمان اقلیت میں لہذا ہر صورت اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ یہ نظم عین اس وقت کے حالات پر لکھی گئی ہے)۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سفرِ زندگی کے بدلتے موسم۔۔۔ !!!

سردی کی وجہ سے کرسی ذرا دھوپ میں بچھائی اور گرم گرم سورج کی کرنوں …

علامہ محمد اقبال__اسلام کے ترجمان۔۔۔ !!!

علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک عظیم مفکر، شاعر،مصنف،سیاستدان،استاد،قانون دان،اور مسلمانانِ برصغیر کے لیئے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: نوائے اقبال (19) شرح بانگ درا! This is the link: https://pakbloggersforum.org/nawai-iqbal-19/