صفحہ اول / عرفان صادق / نوائے اقبال (28) شرح بانگ درا

نوائے اقبال (28) شرح بانگ درا

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پُرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا

کیا خوب امیرِ فیصل کو سَنّوسی نے پیغام دیا
تُو نام و نَسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا

تر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں، پر کیا لذّت اس رونے میں
جب خُونِ جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا

اقبالؔ بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتارکا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا

📙کتاب: بانگ درا

📖نظم: ظریفانہ نمبر 28

📝فرہنگ:
شب بھر:راتوں رات.
پاپی: گناہگار.حجازی: عرب.
تر: نم
لذّت: مزہ. آمیزش: ملاوٹ. اشک: آنسو.
پیازی: پیاز کی مانند گلابی
اپدیشک: ناصح. من: جی.
موہ لینا: مٹھی میں لینا.
گفتار: باتيں

✒مفہوم:
یہ اشعار لاہور میں شاہ عالم چوک میں واقع مسجد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان متنازعہ جگہ پہ راتوں رات مسلمانوں نے تعمیر کر دی چنانچہ اس پس منظر میں شاعر مشرق کہتے ہیں کہ ایمان کی حرارت رکھنے والوں نے راتوں رات مسجد تو تعمیر کر دی لیکن دل اس قدر گناہگار ہیں کہ برسوں گزرنے کے بعد بھی نمازی نہ بن سکے۔ دوسرے شعر میں علامہ اقبال نے حبشہ کے حکمران سنوسی کے پیغام کے حوالے سے بات کی ہے جو اس نے والی حجاز امیر فیصل کو بھجوایا تھا کہ تو نام و نسب کے اعتبار سے تو حجازی یعنی عرب ہے لیکن تجھ میں قلبی سطح پر عربوں والی صفات قطعا موجود نہیں اس کے برعکس تو فرنگیوں کا حاشیہ بردار بنا ہوا ہے۔ تیسرے شعر میں کہا گیا کہ اسلام کا نام سنتے ہی ہماری آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں لیکن اس رونے میں کیا لذت ہے اصل رونا تو وہ ہے جب جگر کا خون بھی آنسوؤں میں شامل ہو اور ان کا رنگ پیازوں کی مانند گلابی ہو جائے اسلام کے نام پر محض آنسو ٹپکانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا جب تک عملا اسلام کےلیے کچھ نہ کیا جائے۔
آخر میں فرماتے ہیں کہ اقبال وعظ و نصیحت کے سلسلے میں لاجواب ہے وہ اتنے خوبصورت انداز میں نصیحت کرتا ہے کہ سننے والوں کے دل مٹھی میں لے لیتا ہے لیکن وہ گفتار کا غازی تو بن گیا مگر ذاتی کردار کے حوالے سے بلند نہ ہو سکا اقبال نے تمثیلی طور پر اپنا نام لیا ہے لیکن ان کا اشارہ مذہبی رہنماؤں کی طرف ہے کہ ان کی بے عملی نے مسلمانوں کو بحیثیت قوم نقصان پہنچایا ہے لطافت و لفاظی میں ان کا جواب نہیں لیکن عمل سے بے بہرہ ہیں۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاتح عالم، غلام زادہ نعمان صابری

محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاتح عال نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک …

مدحتِ خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم، اشتراک : عبدالرب ساجد

ظاھر الوضاء ۔ چمکتا رنگ ابلج الوجه ۔ تابناک چہرہ حسن الخلق ۔ خوبصورت ساخت …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: نوائے اقبال (28) شرح بانگ درا! This is the link: https://pakbloggersforum.org/nawai-iqbal-28/