صفحہ اول / عرفان صادق / نوائے اقبال شرح بانگِ درا (نظم: گلِ رنگین بند 1)

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (نظم: گلِ رنگین بند 1)

تو شناسائے خراشِ عقدہء مشکل نہیں…
اے گلِ رنگین ترے پہلو میں شاید دل نہیں

زیبِ محفل ہے،شریکِ شورشِ محفل نہیں
یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں

اس چمن میں ، میں سراپا سوز و سازِ آرزو
اور تری زندگانی بے گدازِ آرزو

📕کتاب۔بانگِ درا
نظم نمبر 2

📖عنوان:-گلِ رنگین
بند نمبر 1

📝فرہنگ:-
شناسائے خراش عقدہء مشکل نہیں۔مشکل کی گرہ کی چبھن سے واقف
گُل۔پھول
زیب محفل۔محفل کی رونق
شورش۔ہنگامہ
فراغت۔فرصت
بزمِ ہستی۔زندگی کی محفل
سراپا۔سر تا پا،سر سے پاؤں تک
سوزوسازِ آرزو۔آرزو میں گھلنا
زندگانی۔عمر،زیست
بے گدازِ آرزو۔آرزو کی لذت سے بیگانہ
🖋 مفہوم:-
یہ نظم علامہ اقبال کی شاعری کے ابتدائی دور کی نظم ہے۔مئی 1901میں مخزن میں شائع ہوئی آغاز میں اس کے چھ بند تھے بعد میں نظرثانی کر کے دو خارج کر دئیے گئے
اس نظم کا بنیادی تصور ہے کہ ایک پھول بہت دلکش ہے لیکن اس میں تلاش کی جستجو نہیں ہے بظاہر تو وہ بہت خوبصورت دیکھائی دیتا ہے لیکن اس میں تحقیق کا مادہ نہیں ہے
انسان سراپا درد وغم ہے اور یکسر سوز و ساز ہے لیکن اس کے ساتھ اس میں فہم و فراست کی صلاحیت موجود ہے
یہ نظم اقبال کی اس زمانے کی شاعری سے تعلق رکھتی ہے جب وہ فطرت کا مشاہدہ باریک بینی سے کر رہے تھے اس نظم کا موضوع عام ہے لیکن جس دلکش اسلوب اور عمدہ طرز میں علامہ اقبال نے اسے بیان کیا ہے وہ انھی کا کمال ہے
اقبال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے گلاب کے حسین پھول!ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ترے سینے میں دل نہیں ہے کہ تو کسی بھی ادق گتھی کو سلجھانے کے گُر سے واقف نہیں ہے۔تو زندگی کی محفل میں رونق کا سامان ضرور ہے لیکن اس محفل کے ہنگامے میں شریک نہیں تجھے سکون اور فرصت کے جو لمحات حاصل ہیں وہ مجھے میسر نہیں ہیں میرا تعلق تو زندگی کے معمولات سے جڑا ہے اور میں چمن میں سر سے پاؤں تک آرزو کے سوز و ساز کے زیر اثر ہوں زندگی کی رنگا رنگی اور اس کے اتار چڑھاؤ سے میرا واسطہ ہے اور تو اس سب سے بالکل واقفیت نہیں رکھتا بس تیری زندگی آرام دہ،ثابت اور مقاصد سے عاری ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم):ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!! بقلم: جویریہ بتول

محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم):ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!! بقلم:(جویریہ بتول۔ انسانیت کے اصول سے انسان ہی …

محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)۔۔۔ایک عالمگیر شخصیت۔۔۔ !!!! تحریر: مریم بتول

عالمگیر نبوت کا فرض لیے،ختم نبوت کا تاج سجائے،پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: نوائے اقبال شرح بانگِ درا (نظم: گلِ رنگین بند 1)! This is the link: https://pakbloggersforum.org/nawai-iqbal-gul-rangeen-1/